ساحل کو چھو کر:’’موبائل ریحان کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا‘‘

مہک نے کہا،ایک سانحہ میرے ساتھ گزرا ہے، تم کسی موڑ پر بھی میری یادداشت سے غائب ہوسکتے ہواور میری یادوں میں تمہیں بھولنے کی کوئی یاد بھی باقی نہیں رہے گی
ناہید طاہر ۔ ریاض
اس نے ایک عجیب معاہدہ کیا، ایک وائس میسج بھیجا ،نیچے لکھا تھا’’ریحان مجھے آپ کی دوستی پر اعتبار ہے۔ ایک وائس میسج روانہ کررہی ہوں، اس کو محفوظ کرلیںلیکن یقین جانئے اس وقت یہ آپ کی سماعت کے لئے قطعی مناسب نہیں! ہاں، ہو سکتا ہے کبھی میرے اچانک غائب ہو جانے پر یہ مسیج آپ کے کام آئے، کوئی راہ تجویز کرنے میں مدددے،تب یہ میسج سننا۔اُس وقت شاید یہ کچھ تسلی کا سامان مہیا کرے۔ 
کیا مطلب؟ ریحان وجود کی گہرائیوں سے لرز اٹھا۔
یہ کیا کہہ رہی ہو ، تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے۔ ہمارے روابط اس موڑ پر آپہنچے ہیں جہاں بچھڑنے کا تصور بھی ناممکن ہے۔مہک ! تم میری زندگی میں خوشبو کی طرح رچ بس گئی ہو۔ یقیناً فراق کا کرب، برداشت نہ کرسکوں گا۔ دل کی دھڑکن کے رکنے کا سبب نہ بنوجبکہ ان دھڑکنوں کیلئے تم کسی زندگی سے کم نہیں۔
ناں! میں کہیں نہیں جارہی ہوں۔ ہمیشہ کی طرح وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔’’ خوش مزاجی کی بھی حد ہوتی ہے۔ میں یہاں اس قدر مایوس و غم زدہ ہوں اور تم ہنس رہی ہو؟‘‘
"تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں"
واہ واہ،آخر میں نے آپ کو شاعر بنا دیا۔ اس نے شوخی سے کھلکھلاتا ہوا وائس میسج بھیجا۔
بس مجھے آپ پر مکمل اعتماد ہے۔ریحان اپنی وفا کا ثبوت دیتے ہوئے مہک سے وعدۂ وفا کر بیٹھا۔ریحان نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اس وعدے کو نبھایا بھی۔ اس کے بعدمہک نے اپنی بے شمار تصویریں روانہ کیں۔ہر تصویر تردد سے آزد، تکلف کا گماں، اپنی شخصیت اور وجاہت سے مسحور کرتی ہوئی،بے مثل حُسن۔خاص کر اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جن میں بے پناہ کشش جھلملا تی نظر آئی۔حُسن اس قدر قاتل بھی ہوسکتا ہے۔ ریحان کو آج پتا چلا اور وہ بے چین ہوگیا۔ کبھی دونوں کے درمیان خفگی بھی ہوجاتی۔ایک مرتبہ ریحان نے اسے میسج کیا کہ میںکچھ دنوں بعد دوبارہ مصروفیات میں الجھ جاؤں گا۔فرصت کے یہ لمحات کبھی بھول نہیں سکتا۔اگر میں ان دنوں ریسٹ پر نہ ہوتا تو شاید تمہاری جانب توجہ بھی نہ دیتا۔اس خوبصورت تعلق سے محروم رہ جاتا۔جواب میں وہ شدید غصے سے غرائی کہ’’ کیا میں فرصت میں  وقت گزاری کا ساماں بنی ہوں؟
نہیں! ٹائم پاس قطعی نہیں۔کون کہتا ہے۔دل کی لگی، تسکینِ قلب اور جینے کا سبب تم ہو۔
دل لگی اور کیا، وہ شعلے کی طرح بھڑک کر غصے کا اظہار کررہی تھی۔
دل لگی اور دل کی لگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ تم ہر بات کاغلط مطلب نکال کر بدگمانی کا شکار ہوجاتی ہو۔تمہیں پتہ ہے کہ بدگمانی بالکل نہیں کرنی چاہئے ۔جواب میں اس کا وائس چیٹ آجاتاجس میں وہ کھلکھلا کر ہنس رہی ہوتی۔
خفگی وہیں ہوتی ہے جہاں مکمل اعتماد ہو کہ منالیا جائے گا۔مجھے صحیح سے منانا نہیں آتا۔مجھے لڑائی جھگڑے سے بہت کوفت ہوتی ہے۔ریحان پریشان ہوکر جوابی وائس میسج بھیجتاتب وہ کان پکڑ کر بڑی معصومیت سے معافی مانگتی کہ اوکے !اب کبھی نہیں روٹھوں گی۔
ایک دن اچانک مہک کی خوشبو فضا میں تحلیل ہوکر جیسے غائب ہوگئی۔اس کی جانب سے میسج آنا بند ہوگئے۔پتا نہیں کیا مسئلہ پیش آگیا تھا۔ریحان کوشش کرتا رہا کہ اس سے بات ہوسکے لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں ملتا ۔اس نے کئی دنوں تک مسلسل کوشش کی لیکن نتیجہ لاحاصل رہا۔ وہ ایک پہیلی بن کر رہ گئی تھی۔ ذہن کے پردے پر اس کی خوبصورت آواز میں پڑھے گئے اشعار کسی نشتر کی طرح چبھنے لگتے۔ یہی اشعار کبھی باعثِ تسکینِ قلب اور روح کا قرار ہوا کرتے تھے۔اکثر وہ سسک اٹھتا اور لب بھینچ کر مہک کی آواز میں گنگنائی گئی غزلیں سننے لگتا جب درد حد سے گزر جاتا اور پلکوں پر درد اشک بن کر لرزنے لگتا تو وہ مہک کے وائس مسیج کا گلا گھونٹ کر شدت غم سے سسک اٹھتا۔ہر پل دل کو ایک امید تھی کہ وہ ضرور لوٹ آئے گی۔
خاموشیاں جو مہک کے تصور سے گنگنا اٹھتی تھیں،اب وہی اس کی یادوں کا کفن اوڑھے سسک رہی تھیں۔باتوں کا، سوالات کا لامتناہی سلسلہ تھم گیا۔ریحان کی ضد تھی، اس نے مہک کا وائس میسج اوپن نہیں کیا۔اسے گمان ہی نہیں بلکہ پختہ یقین تھاکہ جس طرح اچانک ہوا کا خوشنما جھونکا بن کرمہک اس کی زندگی کو مہکا گئی تھی ،اسی طرح وہ دوبارہ کہیں سے چھن چھن کرتی نہایت شائستگی اور ملائمت سے اپنی خوبصورت آواز کا سحر جگاتی ہوئی اس کے شکستہ وجود میں دوبارہ روح بن کر آجائے گی ۔
ستمبر کی نہایت سرد رات اپنا قہر ڈھاتی تاریک سناٹوں سے جھانک رہی تھی۔سارا عالم سوگوار لگ رہا تھا۔آسمان پر چاند بھی اپنے پورے وجود کے ساتھ موجودتھا۔زندگی میں پہلی مرتبہ یوں لگا جیسے چاند بھی ریحان کی خاموشیوں اور اداسی پر کفِ افسوس مل رہا ہو۔
انسان کی فطرت بھی کتنی عجیب ہوتی ہے جب بہت زیادہ مسرور ہوتا ہے تب بھی شب کی تنہائی میں گھنٹوں چاند کو تکتا اور اس سے لطف اندوز ہوتا ہے اور جب اداس ہوتا ہے تب بھی یہی قمر !انسانی وجود کے سارے درد و الم اور دکھوں کی چبھن کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ بذریعہ چاندنی واپس انسان کی پلکوں پر سجا کر اشکِ قمر کے نام سے منسوب کر دیتا ہے۔
جب آنکھیں تھک گئیں تو اس نے بے بسی سے سر کو خفیف انداز میں جھٹکا اور کسی حتمی فیصلے کے تحت موبائل آن کیا۔مہک کا وائس میسج اوپن کیا۔ایسا کرتے ہوئے اس کی آنکھیں عجیب اندیشوں تلے نم تھیں اور انگلیاں کپکپارہی تھیں۔اداس چاندنی میں مہک کی سحر زدہ لیکن بے انتہا اداس آواز گونج اٹھی:
’’ریحان! میں آپ کی زندگی میں آئی اپنی مرضی اور خوشی سے،آپ کو چاہا اور آپ کے د ل میں محبت کی کلیاںکھلنے کاجواز بھی بنی اپنی مرضی سے لیکن کبھی اچانک چلی جائوں تو اس میں میری خوشی شامل نہیں بلکہ  قدرت کا فیصلہ ہوگا۔تقدیر کی تحریر کو میں نازشِ لوح وقلم سمجھتی رہی اور عمر کی سرحد عبور کرنے تک میرا یہی ایمان رہے گا۔ میری تقدیر کا لکھا بے شک میرے لئے بہتر ہی ہوگا۔ یہ الگ بات کہ میری سمجھ اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔ہم نے جس محبت کا محل تعمیر کیا وہ ہمیشہ صاف و شفاف تخیل اور اعتماد کی بنیا پر عقل و خرد کی تعمیل کرتے ہوئے تعمیر کیا۔اس کے پیچھے کوئی اور غرض قطعی نہیں تھی جو کہ وقتی و جذباتی سمندر کے جھاگ کی مانند بہہ جاتی۔ہاں میرا وجود ایک معمہ بن سکتا ہے اور اگر بن جائے تو غم نہ کرنا۔اس کے پیچھے ایک مضبوط جواز ہے۔
آپ نے مجھ سے جو وعدہ لیا کہ آپ کے سارے میسجز ڈیلیٹ کردیا کروں اور وعدہ کی اس قید سے آپ نے آزاد بھی نہیں کیاجس کا ملال ہر شب ایک زخم بن کر میرے وجود کو گھائل کرتا رہتا ہے۔
ریحان اس زخم کو آج آپ کے روبرو عیاں کررہی ہوں جس کے تحت زندگی میں کبھی کسی لمحہ، کسی موڑ پر بھی میری یادداشت سے غائب ہوسکتے ہواور میری یادوں میں تمہیں بھولنے کی کوئی یاد بھی باقی نہیں رہے گی۔خیر اس کا جواز بھی سن لیجئے۔ایک سانحہ میرے ساتھ گزرا ہے۔ کار کے بے انتہا خطرناک حادثے کی زد میں آگئی تھی جس کے باعث کئی مہینوں تک اسپتال میں زیرِ علاج رہی اور جب ہوش آیا تو دماغ پوری طرح ماؤف تھا۔ یادِ ماضی سے بالکل لاتعلق۔پھر آہستہ آہستہ طبیعت بحال ہونے لگی،یادوں سے بھی وابستگی ہوتی چلی گئی۔ رب العزت نے دوبارہ زندگی بخشی۔ آج جب کبھی سر میں درد اٹھتا ہے تو بڑی شدت سے، جس کا بیان لفظوں میں کرنا محال ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک اور آپریشن ضروری ہے کیونکہ اس درد کا ربط دماغ کی یادداشت کے ساتھ ہے۔ کاش کہ آپ مجھے اپنی ضد سے آزاد کردیتے ،شاید کچھ ذخیرہ محبت کا میرے موبائل، ڈائری میں موجود ہوتا۔جس سے دوبارہ ملنے کی کوئی صورت نکل آتی۔
خیر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس دوسرے آپریشن کے بعد شاید میری زندگی کا وہ سفر اور یادوں کا تسلسل حادثے کے بعد سے لے کر اس آپریشن تک، میرے دماغ سے پوری طرح مٹ جانے کے امکانات ہیں۔
موبائل ریحان کے ہاتھوں سے چھوٹ کر فرش پر بکھر گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: