دفاع نہیں،حکومت کارکردگی بھی دکھائے

***تنویر انجم***
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے مشیر تجارت نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں ملکی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرکے ’تبدیلی‘ کے دعووں کا پول کھول دیا ہے۔ ہوا یوں کہ معاشی امور کے ماہر فرخ سلیم کا بیان آتے ہی گویا پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر سونامی آ گیا۔ وہ طبقہ جو اس کے انتظار میں تھا کہ اسے حکومت اور اس کی اقتصادی پالیسیوں پر تنقید کا جواز فراہم ہوگیا جبکہ حکومت اور اس کے متوالے دفاعی پوزیشن پر چوکس ہوگئے۔ دوسری جانب عوام جو پہلے ہی تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد معاشی طور پر شدید دباؤ اور پریشانیوں کا شکار ہیں، ان میں مایوسی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ قبل ازیں مشیر تجارت اور معاشی امور کے ماہر فرخ سلیم نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہا کہ حکومت بیماری (معاشی مسائل) کا علاج کر ہی نہیں رہی بلکہ مرض کی علامات کو دبانے (چھپانے) کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اہم انکشاف جو فرخ سلیم نے کیا وہ یہ تھا کہ حکومت روپے کی قدر گرانے کے باوجود برآمدات میں اضافہ کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی 30 فیصد قدر گرنے کے بعد بھی حکومتی حکمت عملی کام نہیں کررہی، انہوں نے مشورہ بھی دیا کہ معاملات سنبھالنے کے لیے فوری طور پر متبادل حکمت عملی سوچنا ناگزیر ہے۔
گزشتہ مہینوں کے دوران دوست ممالک کی جانب سے پیکیجز ملنے پر حکومتی وزرا جس طرح سے عوام کو دھوکے میں رکھے ہوئے تھے، اس سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرخ سلیم نے بتایا کہ ملکی تجارتی خسارہ قابو میں نہیں آ رہا جس کی وجہ سے دوست ممالک سے پیکیج کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ امداد ہمیں ایک قرض کی صورت میں مل رہی ہے، تاہم انہوں نے انکشاف کیا کہ دوست ممالک سے لی جانے والی اس امداد پر سود بھی دینا پڑے گا۔ نتیجتاً حکومت پر تنقید کے نشتر چاروں جانب سے چلے تو وزراء گہری نیند سے اچانک جاگے اور جو ذہن میں آیا کہہ ڈالا۔ حکومت کی طرف سے معاملے کو فوری سنبھالنے کے لیے ابتدائی طور پر کہا گیا کہ فرخ سلیم تو حکومت کے مشیر ہیں ہی نہیں۔ انہوں نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ اس حکومتی تردید کے بعد ایک نیا معاملہ میڈیا پر زیر بحث آ گیا اور اس پر باتیں شروع ہو گئیں کیونکہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا فرخ سلیم کو سرکاری مشیر ہی قرار دے رہا تھا، جس میں پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان بھی شامل ہے، سب فرخ سلیم کو حکومت کا مشیر تجارت قرار دے رہے تھے، اور اس کی تصدیق ایسے بھی کی جاتی رہی ہے کہ موصوف کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بیٹھے ہوتے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فرخ سلیم کے پاس ایسا کوئی حکومتی منصب نہیں تھا تو یہ کابینہ اجلاس میں کیونکر موجود ہوتے تھے؟ اس وقت میڈیا پر جاری موضوعات بحث میں ایسے کئی سوالات پیدا ہو چکے ہیں جن کا حکومت کے پاس فوری طور پر کوئی جواب نہیں۔صورت حال کو دیکھتے ہوئے فرخ سلیم نے ایک اور انکشاف کردیا کہ وہ 24 دسمبر تک وزیر اعظم آفس کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے ہیں اور گزشتہ 3 ماہ میں کبھی کسی نے نہیں بتایا کہ وہ حکومت کے ترجمان نہیں ہیں، جبکہ اکتوبر 2018ء میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری خود سوشل میڈیا کے ذریعے اطلاع دے چکے تھے کہ فرخ سلیم کو حکومت کا مشیر برائے معاشی امور تعینات کیا گیا ہے جبکہ اب وہ کہتے ہیں کہ اس کا کوئی نوٹی فکیشن ہی جاری نہیں کیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات ہی کے دونوں بیانات کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات باعث شدید تشویش ہے کہ اگر کوئی شخص ایسے کلیدی عہدے پر ہے ہی ہیں اور اس کا نوٹی فکیشن بھی جاری نہیں ہوا اور دوسری جانب وہ وزیرا عظم کے ساتھ کابینہ اجلاسوں میں شریک ہوتا ہو۔ حیرت ہے!
ذرائع ابلاغ کے ایک نجی ادارے نے فرخ سلیم کی کو ’’ہٹانے‘‘ کی وجوہ پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ فرخ سلیم کوتحریک انصاف حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے ’’ہٹایا‘‘ گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق فرخ سلیم اس سے پہلے بھی حکومت کو معاشی پالیسیاں درست کرنے کے حوالے سے تجاویز دیتے رہے ہیں۔ 30 دسمبر کو ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں بھی فرخ سلیم نے حکومت کو اقتصادی صورت حال میں بہتری لانے کے لیے مشورے دیے تھے، اس مضمون کے آخر میں مصنف سے متعلق بھی یہی تحریر تھا کہ ’’مصنف معیشت اور توانائی کے امور پر حکومت کے ترجمان ہیں۔‘‘ اس مضمون کی اشاعت کے چند روز بعد تک حکومت کی جانب سے کوئی تردید سامنے نہیں آئی کہ ان کے پاس یہ منصب ہے یا نہیں تاہم ٹی وی پروگرام میں تنقید کے بعد حکومت نے وضاحت کی جس سے انہیں ’ہٹانے‘ کی وجہ بظاہر نظر آ رہی ہے۔ دوسری اہم وجہ وہ رہی جو فرخ سلیم نے وزیر اعظم کے مشیر سے متعلق ٹویٹر پر بات کہی۔ ذرائع کے مطابق فرخ سلیم نے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی کمپنی ڈیسکون کو مہمند ڈیم کا ٹھیکہ دیے جانے پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے 2 ٹویٹر بیانات جاری کیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ عبدالرزق داؤد ڈیسکو سے مستعفی ہو گئے ہوں گے تاہم کمپنی ان کے قریبی خاندان ہی کے پاس ہے، ایسے میں شکوک و شبہات تو پیدا ہوں گے۔ دوسرے ٹویٹر بیان میں فرخ سلیم نے لکھا تھا کہ ’مفادات کا تصادم۔ ایک ایسی صورت حال جس میں ایک شخص اپنی سرکاری حیثیت میں کیے گئے فیصلوں سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہو۔‘
مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹی وی پروگرام میں حکومتی پالیسی پر تنقید اور مشورہ اپنی جگہ، دراصل عبدالرزاق داؤد کے بارے میں بات کرنا ڈاکٹر فرخ سلیم کو مہنگا پڑا جس پر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا اور کہا گیا کہ وزیر اعظم کا انہیں حکومت کا ترجمان بنانے کا ارادہ تھا تاہم اس کا نوٹی فکیشن جاری نہیں ہوا تھا، اور وزیرا عظم کے ارادے کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا تھا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق حکومت کو موجودہ خفت سمیت کئی معاملات اور سوالات پر مشکلات درپیش ہیں جس کی وجہ یہی نظر آ رہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بڑے بڑے دعوے ضرور کیے ہیں مگر کوئی ایک وعدہ بھی تاحال وفا نہیں ہو سکا، اس کے برعکس عوام اور تاجروں میں شدید پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آجر اور اجیر دونوں ہی مصائب برداشت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ 
پی ٹی آئی کی انتخابات میں کامیابی کے بعد کچھ حلقوں کا کہنا تھا کہ حکومت کرنے میں ناتجربہ کار کپتان اور اس کے اِدھر اُدھر سے جمع کیے گئے کھلاڑی (وزیر، مشیر) ملکی معاملات اور مسائل کو نہ صرف سنبھال نہیں سکیں گے بلکہ اسے مزید مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں اور موجودہ صورت حال میں اس کا عملی نمونہ آشکار ہو چکا ہے۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر اور مہنگائی ساتویں آسمان کو چھو رہے ہیں۔ روزگار کی صورتحال خراب ہے، کاروبار چل نہیں رہے جبکہ حکومت برآمدات میں اضافہ کرنے میں بھی ناکام ہو چکی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنے ہی لوگوں کی تنقید برداشت کرتے ہوئے ان کے مفید مشوروں پر نہ صرف فوری عمل کرے اور ان خرابیوں کو فوری دور کرنے کی کوشش کرے جن کی وجہ سے معاملات قابو میں نہیں آ رہے۔
 

شیئر: