ویزوں کے اجراء کا سابقہ قانون منسوخ، نیا لائحہ عمل جاری

ریاض : وزارت محنت و سماجی بہبود نے افرادی قوت کی درآمد ، نقل کفالہ اور پیشوں میں تبدیلی کے نئے ضوابط جاری کردیئے۔ وزیر محنت نے قانون محنت اور اس کے ضمیموں کے نئے لائحہ عمل کی منظوری دیدی۔ یہ 28جمادی الثانی 1437ھ کو جاری کردہ لائحہ عمل کی جگہ لے لے گا۔ نئے لائحہ عمل کے منافی جو قاعدہ ضابطہ ہوگا اسے کالعدم شمار کیا جائیگا۔ وزارت محنت نے افرادی قوت کی درآمد کیلئے مندرجہ ذیل شرائط، ضوابط اور تدابیر کا اعلان کیا ہے۔نئے ملازمین کی آمد پر سعودی ملازم کی لیبر مارکیٹ سے چھٹی نہ ہو۔ نئے ملازم سعودی ملازمین کے لئے مسابقت کا مسئلہ نہ پیدا کریں۔ افرادی قوت کی درآمد کی درخواست دینے والا ادارہ سعودائزیشن کی مقررہ شرح پوری کررہا ہو اور نئی افرادی قوت سے اسکا نطاقات پروگرام متاثر نہ ہورہا ہو۔ صرف ایسے غیر ملکی کارکنان کی درآمد کی اجازت ہوگی جو نطاقات پروگرام میں سعودیوں کیلئے مختص نہ ہوں۔ایسے کسی بھی پیشے پر غیر ملکی کیلئے ویزہ جاری نہیں ہوگا جو پیشہ سعودیو ں کیلئے مختص کیا جاچکا ہے۔ کسی بھی ادارے کو غیر ملکی ملازمین کیلئے ایسی صورت میں کوئی ویزا جاری نہیں ہوگا جس کے اجراءسے متعلقہ محکمے میں سعودائزیشن کی شرح کم ہورہی ہو۔ 18 برس سے کم عمر اور 60برس سے زیادہ عمر کے غیر ملکی کو ملازمت کی غرض سے ویزہ جاری نہیں ہوگا۔ 60سال کی پابندی سے ڈاکٹر، ماہرین اور وزیر محنت کی جانب سے جاری کردہ افراد مستثنیٰ ہونگے۔وزارت محنت نے نئے ضوابط جاری کرتے ہوئے توجہ دلائی ہے کہ مندرجہ ذیل حالات میں غیر ملکی ملازمین کی درآمد کی درخواست مسترد کردی جائیگی۔ اگر ویزے طلب کرنے والا ادارہ ایسا ہو جس کے خلاف ملازمین کی تنخواہیں اجتماعی طو رپر روکنے کا الزام ثابت ہوگیا ہو۔ ایسا ادارہ جو اپنے نام سے غیر ملکی کو کاروبار کرا رہا ہو۔ ایسا ادارہ جس کا مالک اپنے تمام یا بعض کارکنان کو کسی او رکے یہاں غیر قانونی طریقے سے ملازمت کی اجازت دیئے ہوئے ہو یا انہیں اپنے کاروبار کا موقع فراہم کئے ہوئے ہو۔ ایسے ادارے کو بھی نئے ویزے جاری نہیں ہونگے جو سعودائزیشن کی کم از کم شرح پوری نہ کررہا ہو۔ ایسے ادارے کی درخواست بھی مسترد کردی جائیگی جس نے وزارت محنت یا مکتب العمل کو غلط معلومات اور تفصیلات فراہم کی ہونگی۔ اس قسم کے ادارے کو 5برس تک افرادی قوت کی درآمد کی کارروائی کی اجازت نہیں۔ ایسے ادارے کو جاری شدہ ویزے بھی منسوخ کردیئے جائیں گے۔ ایسا کوئی بھی ادارہ جس کی بابت یہ ثابت ہوگیا ہو کہ اس نے ویزوں کا دھندہ کیا ہے اسے نئے ویزے نہیں دیئے جائیں گے اور آئندہ 5برس تک افرادی قوت کی درآمد کی ہر کارروائی سے منع کردیا جائیگا۔اگر کوئی ادارہ اپنے یہاں کام کرنے والے غیر ملکیوں کے اقامے یا ورک پرمٹ میں توسیع نہیں کرائیگا تو اسے بھی نئے ویزے نہیں دیئے جائیں گے۔
 

شیئر: