معراج کا سفر ، دکھوں کا مداوا

  حافظ محمد ہاشم صدیقی مصباحی۔ جمشید پور
    اللہ رب العزت نے ہر زمانے میںانبیاے کرام کو مبعوث فر مایا اور تمام انبیاے کرام دعوتـــ’’توحید‘‘ کولیکر آئے،اور اپنی قوم سے یوں مخا طب ہوئے:تم سب کا ایک ہی معبود ہے،اس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ بہت رحم کر نے والا ہے(البقرہ163)۔
    اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی انبیاے کرام ورسل علیہم السلام لو گوں کی رشدو ہدایت کیلئے مبعوث فر مایاہے سب کی ایک ہی دعوت تھی کہ اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور ایک اللہ کی عبادت کرو جیسا کی قرآن مجید میں رب العالمین کا فر مان ہے:اورہم نے ہر امت کی طرف ایک رسول اِس پیغام کے ساتھ مبعوث فرمایا کہ لوگو! اللہ ہی کی عبادت کرو اور طا غوت (شیطان، غیر اللہ) کی عبادت سے بچتے رہو (النحل36)۔
     دنیا کی سب سے بڑی گواہی تو حید کی گواہی خود اللہ تعالیٰ، فرشتوں اوراہل علم نے دی :اور اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کو ئی معبود(برحق) نہیں،اور فرشتے واہل علم بھی گواہی دیتے ہیں، وہ عدل پر قا ئم ہے، اس کے سوا کو ئی معبود(برحق) نہیں، وہ غالب اور حکمت والا ہے( آل عمران18)۔رسول اللہﷺ نے سب سے پہلے مشر کین مکہ کو دعوت توحید دی اور کہا: لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہ۔"کہہ دو اللہ ایک ہے(کامیاب ہو جائو گے)(صحیح مسند)۔
     موحد(اللہ کو ایک ما ننے والا سچا مسلمان)مومن کا ٹھکا نا جنت ہے جبکہ مشرک کا ٹھکانا جہنم ہے۔ آپ ﷺ نے عقیدہ تو حید کو ایمان کا محور ومر کز بنایا۔
    توحیدکی تعریف :
    شریعت میں اس کا معنیٰ یہ ہیںکہ آدمی پختہ یقین کے ساتھ اس بات کا اقرار کرے کہ اللہ ایک ہے۔ہر شئے کا مالک رب ہے،وہ سب کو اکیلا ہی پیدا کر نے والاہے، ساری کائنات میں اکیلاہی تدبیرARRANGEMENT  کرنے والا ہے ، ساری عبا دتوں کے لائق وہی پا کیزہ ذات ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں،اس کے علا وہ تمام معبود(جس کی عبادت کی جائے،مراد اللہ تعالیٰ /خد ا) باطل ہیں، وہ ہرکمال و اعلیٰ صفت سے متصف ہے اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے،اس کے اچھے اچھے نام ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
    عقیدہ توحید کے فوائد:
    تو حید پر ایمان رکھنے والا کبھی شکستہ دل اورما یوس نہیں ہو تا کیونکہ وہ اللہ پر یقین رکھتا ہے،جو زمین و آسمان کے تمام خزا نوں کامالک ہے۔نبی کریم ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فر مایا: تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہے ہواس لیے سب سے پہلے اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں(اور میری رسالت کو مانیں)، جب وہ اسے سمجھ لیں تو پھر انھیں بتا نا کہ اللہ نے ایک دن اور رات ان پر 5 نمازیں فرض کی ہیں۔جب وہ نماز پڑ ھنے لگیں تو انھیں بتا نا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے،جو ان کے امیروں سے لی جا ئیگی اور ان کے غریبوں کو لو ٹا دی جائے گی۔جب وہ اس کا بھی اقرار کر لیں تو ان سے زکوٰۃ لینا اور لو گوں کے عمدہ مال لینے سے پر ہیز کرنا۔"(بخاری شریف ،باب رسو ل اللہ ﷺ کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی تو حید کی طرف دعوت دینا) ۔
     توحید کی دعوت وتبلیغ میں بے پناہ پریشا نیاں اور نبی رحمت ﷺ کا صبر:
    دین اسلام کی بنیاد عقیدہ تو حیدہے۔ کوئی انسان جب اسلام قبول کر تا ہے،تووہ شہا دت یعنی گواہی دیتا ہے، اقرار کر تا ہے،اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہ ،کہ میں اس بات کی گو ا ہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدالرسو ل ا للہ ( ﷺ ) اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں ۔
    وہ اس بات کو دل سے کہاہے کہ میں اللہ کے سوا کسی کی بھی عبادت نہیں کروں گااور اس میں کسی کو اس کا شریک نہیں ٹہرائوں گا اور عبادت کے جو طریقے محمدالرسو ل اللہ ﷺ نے بتائے ہیں اسی طرح عبادت کروں گاجن کو خود اللہ نے ہما رے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ۔اسی رب نے اپنے پیارے رسولﷺ کو حکم فر مایا:پس آپ وہ (باتیں) اعلا نیہ کہہ ڈا لیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور آپ مشرکوں سے منھ پھیر لیجئے( الحجر94 )۔
     اسلام کا اعلان آپﷺ نے سب سے پہلے اپنے دولت کدہ پرخاندان بنو ہاشم کو دعوت طعام کے ساتھ کیا۔ دعوت طعام میں40افراد شریک تھے۔ ضیا فت(DINNER)  کے بعد آپﷺ نے کچھ کہنا چاہا مگر ابو لہب کے طنز ومذاق اور بیہو دہ باتوں نے محفل کو بد مزہ کر دیا ﷺنبی رحمت ﷺ نے ایسے میں کوئی سنجیدہ بات پیش کرنا خلاف مصلحت سمجھا اور خا موش رہے ۔پھر آپ ﷺ نے دوسری شب ضیا فت(کھانا کھلانا)کی اور ارشاد فر مایا: میں اللہ کی طرف سے وہ چیز لایا ہوں جو دین ودنیا کی جامع ہے۔ اس سے بہتر دنیا  وآخرت میں کوئی چیز نہیں، مجھے پر ور دگار عالم نے حکم دیا ہے کہ آپ سب اور سا رے انسا نوں کو اِس ہدایت کی جا نب بلائوں، یہ اہم ذمہ داری نبھانے میں آپ حضرات میں کون میرا تعاون کریں گے؟آپﷺ کے اس فرمان پرمحفل میں سنا ٹا چھا گیا، کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اتنے میں محفل میں سب سے کم عمر حضرت علی بن ابی طالب نے کہا:یا رسو ل اللہﷺ! اگر چہ مجھے آشوب چشم ہے، اگر چہ میری ٹا نگیں پتلی ہیں اور میں سب سے کم عمر ہوں، مگر میں آپ ﷺکا ساتھ دوں گا۔
    یہ سننا تھا کہ مخا لفین(بنو ہاشم کے لوگ) سیدنا علیؓ کا مذاق اڑانے لگے اور طنز و تمسخر (ٹھٹھول، مسخرہ پن، کھلی اڑانا) کے نو کیلے تیروں سے رحمت اللعا لمینﷺ کو زخمی کر تے ہوئے چلے گئے لیکن آپ ﷺنے صبر کا دامن نہیںچھوڑا، صبر فر مایا، پھر اللہ رب العزت نے یہ حکم نازل فرمایا :پس (اے بندےﷺ!)تو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پوجا کرو ورنہ تو عذاب یافتہ لوگوںمیں سے ہو جائیگا،اور (اے حبیب مکرمﷺ!)آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو(ہمارے عذاب سے) ڈرادے،اور آپ اپنے بازوئے(رحمت وشفقت)ان مو منوں کیلئے بچھا دیجئے جنھوں نے آپ کی پیر وی اختیار کر لی ہے،پھر اگر وہ آپ کی نا فر ما نی کریں تو آپ فر ما دیجئے کہ میں ان اعمال(بد) سے بیزار ہوں جو تم انجام دے رہے ہو، اور بڑے غا لب(رب)پربھروسہ رکھئے۔" (الشعراء217-213)۔
    جبل صفا سے دعوت اسلام کا آغاز:
    ان آیات کریمہ اور سو رہ حجر کی آیات مبا ر کہ کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺجبل صفا (پہاڑ) پر تشریف لے گئے اور قریش کے تمام قبائل کو نا م بنام آوازدیکر بلایا اور لوگ جمع ہو گئے تو آپ ﷺنے فر مایا: اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ(کوہ صفا) کے پیچھے ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کر نے والا ہے،کیا تم لوگ میری بات کا یقین کروگے ؟انھوں نے جوب دیا : نَعَمْ ، تَاجَرَّ بْنَا عَلَیْکَ اِلّاصِدْ قَا...ہاں، آپ (ﷺ)ہمیشہ ہما رے تجر بے میں سچے ثابت ہو ئے ہیں۔ اس پر آپ ﷺنے فر مایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں تم میںنذیر(ڈر سنانے والا) ہوں،کہ تمہارے لیے سخت عذاب ہے۔اگر اسی طرح تم اپنے کفر پر قائم رہے۔ یہ سن کر ابو لہب کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور غصہ سے چلایا: تَبَّاً لَکَ سَائِرَا لْیَوْمِ اَ لِھٰذَ جَمَعْتََنَا؟...تیرے سا رے دن مو جب ہلا کت وبر بادی ہوں، کیا تو نے ہمیں اسی واسطے جمع کیا تھا؟
    اس کے بعد کفرو شرک کے سبھی عَلم بردار نبی رحمت ﷺ کو لعن طعن کرتے ہو ئے چلے گئے(طبقا ت ابن سعد، اسلام امن عالم)۔
     ابو لہب کی بات ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کی قہر ا لٰہی کی بجلی چمکی۔ قہر خدا وندی کی دھمک سے پہاڑ کا کلیجہ دہل گیا۔ ہیبت سے حرم کی سر زمین کانپ اٹھی۔اتنے میں روح الامین حضرت جبرائیل ؑ کے پروں کی آواز آئی۔ سر کاردو جہاں ﷺ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو وہ پر سمیٹے قہرو جلال میں ڈو بی یہ آیتیں حضورﷺ  کو سنا رہے تھے:ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ (خود)ہلاک ہوگیا،نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی،وہ عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائیگا ،اور اس کی بیوی بھی (جائیگی)جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے ۔" ( الہب5-1)۔
    محبوب کو اذیت پہنچا نے والے ایک فقرہ پر قہر ا لٰہی کے چڑ ھتے ہوئے دریا کا تلا طم تو دیکھئے ! ایک لمحہ میں ابو لہب کی دنیا اور آخرت کا فیصلہ سنا دیا۔ ان آیتوں میں خاص طور سے جو چیز قابل غور ہے، وہ یہ کی محبوب(ﷺ) خا موش ہے، صبر کر رہا ہے اوردشمن کے لعن و طعن اور گستا خی کا جوا ب رب ذوا لجلال دے رہا ہے۔ اس سے عظمت رسول ﷺ کی اہمیت معلوم ہو تی ہے اسی لیے فقہا ے کرام فر ماتے ہیں کہ گستاخِ الوہیت کی تو بہ قبول ہے اور گستاخِ نبوت کی تو بہ قبول نہیں یعنی سزا کی رو سے اسے ہر صورت سزائے قتل دی جائیگی۔ اگر چہ وہ تو بہ کرتا پھرے۔ یہ اس کی آخرت کا معا ملہ ہے قبول کرے نہ کرے مگر حد نافذ کی جائے گی اور وہ قتل ہے۔ در مختار میں ہے:یعنی نبی کی گستاخ کافر یا مرتد قرار پائیگا، وہ حد کے طور پر قتل کیا جائے گا ۔اس کی توبہ مطلقاً قبول نہیں یعنی خواہ یہ غلطی اس کے اقرار سے معلوم ہو ئی ہو یا گوا ہوں سے ثابت ہوئی ہو اور اگراللہ کی شان میں گستاخی کی تو اس کی توبہ قبول ہے کہ یہ حقِ خدا ہے اور اول حق عبد ہے توتوبہ سے زا ئل نہ ہو گا اور جو گستاخ نبی کے کفر میں شک کرے وہ کافر ہے(در مختار،محمدالرسول ا للہﷺ قر آن میں، مصنف علا مہ ار شد القا دری) ۔
     اسلام کی دعوت د ینے پر تمام قبائل و خاندان جنھیں معز ز کہا جاتا تھا، وہ سب مخا لف ہوگئے اور جو دولت مند تھے وہ دشمنی پر کمر بستہ ہو گئے اور طرح طرح کی اذیتیں دینا شروع کر دیں(جنکی فہرست طویل ہے، تا ریخ اور سیرت کی کتا بوں میں مو جود ہیں، مطا لعہ فر ما ئیں)۔ آپ ﷺ کو انتہا ئی تکلیف دہ مرا حل سے گزر نا پڑا ۔دشمنان اسلام اتنے آگے بڑ ھ گئے کہ حضور ﷺ کی معاشرتی ناکہ بندی SOCIAL BOYCOTT کر دیا ۔تحر یک اسلام کو کمزور بنا نے اور حضور ﷺ کی ناکہ بندی کا یہ ہولناک پرو گرام ہر سنجیدہ آدمی کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ نبی رحمت ﷺ پر کیسے کیسے ظلم کیے گئے۔ آپﷺ نے زند گی میں بڑی سے بڑی تکلیف کو خندہ پیشانی سے بر داشت کیا۔ آپ ﷺ خود ارشاد فر ماتے ہیں: وَاُذِیْتُ فِی اللّٰہ مَا لَمْ یُوْ ذَ اَ حَدٌ۔یہ اس رسول گرا می کے ساتھ کیا گیا جو سارے جہان کے لیے رحمت اللعا لمین بن کر آیا(القرآن)۔دشمنان رسولﷺ واسلام آپکی دشمنی پر اس قدر کمر بستہ ہوئے۔
    ہو لناک منصو بہ:
     تمام قبا ئل کے لو گوں نے باتفاق ہولناک منصوبہ مرتب کیا بعیض بن عامر بن ہا شم نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھا۔ محرم کی چاند رات615 عیسوی کو خا نہ کعبہ کی اندرون دیوا ر پر آویزاں کردیا ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس منحوس تحر یر کے کاتب کو رسول کریم ﷺ کے دل کی آہ لگ گئی ۔اسکے دو نوں ہاتھ ہمیشہ کیلئے شل (بیکار) ہو گئے ۔ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ منصور بن عکرمہ نے لکھا تھا او ر یہ واقعہ اسکے ساتھ پیش آیا۔لو لا(اپاہج)ہو گیا۔اس معاہدہ کی چند بڑی باتیں مطا لعہ فر مائیں(1) اگر بنی ہاشم محمد ( ﷺ) کو قتل کر نے کیلئے ہما رے حوا لے نہیں کرتے تو ان کا مکمل معاشرتی با ئیکاٹ کیا جائے (2) ان سب کے ساتھ رشتے ناطے کے تعلقات کاٹ لیے جائیں(3) انکو نہ کچھ بیچا جائے نہ ہی ان سے کچھ خریدا جا ئے اور نہ ہی ان سے کسی چیز کا لین دین کیا جائے(4)انکو کھانے پینے کی چیزیں نہ دی جا ئیں اورآ نے کا ہر راستہ بند کر دیا جائے(5) انھیں اسی پہاڑی گھاٹی میں قید رکھا جائے، گلی با زار میں گھو منے پھر نے نہ دیا جائے وغیرہ وغیرہ۔
    رحمت عالم ﷺ اور آپﷺ کے اہل بیت وصحا بہ کرامؓ اور چا ہنے والوں کیلئے یہ مقاطعہ (ناکہ بندی )انتہائی دشوار اور صبر آزما تھا۔ اس اسیری اور محبوسی کا زمانہ اتنا سخت کہ محصو رین پر عرصہ حیات تنگ ہوگیا۔ کئی کئی دن سارے کے سارے لوگ بھو کے رہتے۔ کبھی کبھی کسی کے دل میں جذبۂ ہمدر دی بیدار ہو تا تو ڈھکے چھپے غلہ یا کھانے کا سامان چھپا کر پہنچا دیتا۔ حضرت خدیجہ ؓ کے بہن کے لڑ کے حکم بن حزام بن خویلد ایک بار گیہوں کی ایک گٹھری ایک لڑ کے کے سرپر اٹھوا کر گھاٹی پہنچے۔ ابو جہل نے دیکھ لیااور دوڑ کر جھپٹا کہ تم ایسا نہیں کر سکتے ،میں مکہ والوں کو خبر کرتا ہوںاور تمھیں رسوا ( بد نام) کروں گا ۔ابو البختری نے سنا تو کہا: اس کی پھو پھی کا یہ غلہ ہے، میں نے بھیجا ہے، یہ میرے پاس رکھا تھا۔اسے لے جا نے دو مگر وہ نہیں مانا اورجھگڑا کرنے لگا۔ ابو البختر ی نے غصہ میں آ کر اونٹ کی ہڈی سے ابو جہل کی زبر دست پٹائی کی اور پیروں سے روند روند کر اس کو ادھ مرا کردیااور غلہ پہنچا دیا۔ تنگ دستی اور بھوک پیاس سے محصورین بے تاب ہو گئے۔ حضور ﷺ کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ ابو طا لب کے ہا تھ خا لی ہو گئے تھے۔ ام ا لمو منین خدیجۃ الکبریٰ  ؓ  اور صحا بۂ کرامؓ بھی تنگ دست ہو چکے تھے۔ بھوک سے بچوں کے رونے بلکنے کی آوازیںآنے لگیں۔ بھوک اور کمزوری سے لوگ ایک دوسرے سے بات نہیں کر پارہے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔
    وحئی ربانی سے خوشخبری:
    ایسے میںوحئی ربانی نے ساری مصیبتوں کے دور ہو نے کی بشارت،خوشخبری سنائی۔ قریشی ظلم و تشد د کا جوعہد نامہ دیوار کعبہ سے لٹکا ہوا تھا، اس پر اللہ نے دیمک مقر ر کر دی تھی جس نے ساری تحریروں کو چاٹ ڈالا،صرف ذکر’’ اللّٰہ‘‘،اللہ رب ا لعزت کا نام با قی رہا۔حیّ  وقیوم اللہ کا نام جو لا فا نی اور لا یموت ہے ،باقی رہا۔ حضور ﷺ نے ابو طالب کو بتا یا، ابوطالب دوڑ کر قریش مکہ کے پاس گئے اورچیلنج کر دیا کہ میرے بھتیجے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ تحریر( اگریمنٹ )مٹ گئی ختم ہو گی(اور یقینا میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، تم لوگ جا نتے ہو) اگریہ بات سچ نکلی تو تم لوگ بازآ جائواور اگر غلط ثابت ہوئی تو میں اسے تمہا رے سپرد کر دوں گا۔ اس پر کفار خوش ہو کر بو لے کہ’’ اب تم نے انصاف کی بات کی ہے‘‘۔
    زبردست بھیڑ نے کعبہ میں داخل ہو کر دیکھا تو فر مان رسولﷺ کے مطابق صرف اللہ کا نام باقی تھااور کفار وقریش کی ساری تحریر  کو دیمک نے کھالیا تھا۔ تمام دشمنوں نے شرم و ندامت سے اپنی گر دنیںجھکا لیں۔قبائل قریش آپس ہی میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے۔ مطعم بن عدی، عدی بن قیس،زعمہ بن اسود،ابو البختری بن ہشام اورزہربن امیہ وغیرہ ایک ساتھ ہتھیار لگائے شعب ابی طالب میں آئے اور تمام محصورین (گھرے ہو ئے افراد) کو اپنے اپنے گھروں کو جانے کیلئے کہا(سیرت ابن ہشام،ابن سعد ، البدایہ والنہایہ، اسلام اور امن عالم) ۔ظلم وجبر کا یہ 3سالہ دور بھی آپ ﷺ کو دعوتِ توحید و اسلام کی تبلیغ کیلئے نہ روک سکا، پھر اس سے بھی زیادہ درد ناک اور سخت ترین مصائب کا دو رسفرِطا ئف کا آیا۔ رسول کریم ﷺ نے جب وہاں دعوت اسلام پیش فر مائی تو انتہائی اذیت ناک دور سے آپ ﷺ کو گزر ناپڑا جو تاریخ کے اوراق میں موجود ہے ۔آپ ﷺ نے طائف کے باشندوں تک اسلام کا پیغام پہچا نے کا کا م شر وع فر ما یا۔ آپ ﷺ نے سر داران طائف عبد یا لیل، سعود اور حبیب فر زندان عمرو سے گفتگو کی اور اسلام کی دعوت پیش فر مائی۔ آپﷺ کی دعوت پر غور فکر اور عمل کر نے کے بجا ئے ان لو گوں نے آپﷺ  کا مذاق اڑایا اور انتہا ئی حقا رت آ میز جملوں سے آپﷺ کو تکلیف پہنچائی اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ سر دا روں نے اوباش وآوارہ لڑکوں کو آپﷺ  کے پیچھے لگا دیا جنھوںہلہ بول کر آپﷺ کومارنا شروع کردیا۔ کنکر ، پتھر اور گا لی گلوج کی بارش کر دی اور مارتے مار تے شہر کے کنا رے تک چلے گئے ۔سیدنازید بن حار ثہؓ اور آپ ﷺ کا جسم مبا رک لہو لہان ہو گیا۔ خون مبارک بہہ کر نعلین مبارک تک آگیا۔ نبی رحمت ﷺ کے جسم اطہر میںاس مو قع پر جو تکلیفیں آئیں اور قلب اطہر جس قدر مجروح ہوا، اس سے پہلے کبھی نہیںہوا تھا۔آپ ﷺ خود فر ماتے ہیںمیری زندگی کا وہ سب سے سخت ترین دن تھا ۔ایک جگہ یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ  نے اسے جنگ احدسے زیادہ سخت دن قرار دیا ہے(سیرت النبی،سیرت احمدمجتبیٰ)۔طائف میں آپ ﷺکے ساتھ جوناروا سلوک ہوا اللہ نے اسکے بد لے میںآپﷺ کو بہت عطا فر مایا۔ مفسرین بیان فرماتے ہیں ’’ معراج‘‘ کا سفر انہی دکھوں کا مدا واتھا کیونکہ حق تعالیٰ نے وعدہ فر مایا کہ ’’ہر آنے والا دن گز ر نے والے دن سے بہتر نتائج والاہو گا‘‘(القر آن)۔اسلام آج دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ یہ سب نبی رحمت  ﷺ کی قر بانیوں کا نتیجہ ہے ۔ کاش ہم تمام مسلمان رسول اللہ ﷺ کی دعوتِ توحیدو اسلام کو پھیلانے کی سنت پر عمل کر تے اور پیغام ِ اسلام کو براد ران وطن ودوسرے مذاہب تک پہنچاتے تو اسوۂ رسول اللہﷺ  پر عمل کر نے کاثواب اور فوائد سے بھی مالا مال ہو تے۔ آج اسلام کی تعلیم کو اپنے اپنے عقا ئد ونظر یات کی تبلیغ کا ذریعہ بنا کر روز روز نت نئے فتنوں کوجنم دے رہے ہیں ۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی اور اس پر عمل کر نے کی تو فیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔

مزید پڑھیں:- - - - -اغیار کے تہوار اور مسلمانوں کی روش

شیئر: