Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانیوں کی واپسی، قرنطینہ کہاں اور طریقہ کار کیا ہے؟

پاکستان پہنچنے والے تمام مسافروں کو قرنطینہ کے عمل سے گزارا جا رہا ہے.(فوٹو سوشل میڈیا)
کورونا وائرس سے بچاؤ اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دنیا بھر کی طرح سعودی عرب میں بھی احتیاطی تدابیر کے تحت کئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں. پاکستانی سفارتخانے اور قونصلیٹ نےعارضی طور پر قونصلر خدمات معطل کر رکھی ہیں.
سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے اردونیوز کے توسط سے اپنے مسائل بیان کیے جو وہ سفارتخانے اور قونصلیٹ تک پہنچانا چاہتے ہیں.
قارئین کی طرف سے موصول ہونے والے سوالات اردو نیوز نے جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل خالد مجید کو ارسال کیے اور جوابات کے لیے ان کے ساتھ سیشن رکھا.
سوال: وطن واپسی پر قرنطینہ کا طریقہ کار کیا ہے؟
جواب:  سعودی عرب اور دیگر ممالک سے پاکستان پہنچنے والے تمام مسافروں اور عملے کو حکومتی نگرانی کے تحت قرنطینہ کے عمل سے گزارا جا رہا ہے. آمد کے فوری بعد ٹیسٹ کیا جائے گا. عام طور پر ٹیسٹ  کے عمل میں 24 گھنٹے لگتے ہیں لیکن مسافروں کی  زیادہ تعداد کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوسکتی ہے.  انفرادی ٹیسٹ اور  پرواز کی مجموعی ٹیسٹوں کے نتائج کی روشنی میں سرکاری صحت حکام  قرنطینہ کی مدت کا تعین کرتے ہیں.
منفی ٹیسٹ کے بعد گھر بھیجے جانے والے مسافروں کو 14 دن کی مدت پوری کرنے کے لیے لازمی طور پر خود کو الگ تھلگ کرنے کا مشورہ دیا جائے گا. وہ افراد جن میں کورونا کی علامات کم ہوں یا  ظاہر نہ ہوں،انہیں صوبائی محکمہ صحت کے مشورے سے گھر جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے بشرطیکہ گھر پر الگ تھلگ رہ سکیں.                                                                      
سوال: وطن واپسی پر قرنطینہ میں کہاں رکھا جائے گا.کیا مجھے اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی؟
جواب: اندرون ملک مسافروں کو قرنطینہ کے دو طریقے ہیں. اول سرکاری قرنطینہ مراکز اور  دوم حکومت کے زیر انتظام ہوٹل .مسافر کو ان میں سے کوئی بھی سہولت لے سکتا ہے.

واپس آنے والے تمام مسافروں کا ٹیسٹ کروایا جائے گا.(فوڈو سوشل میڈیا)

سرکاری مراکز مفت ہوں گے اگر مسافر سرکاری زیر انتظام  ہوٹل میں رہنا پسند کرتے ہیں تو انہیں قیام کے  تمام اخراجات خود برداشت کرنے ہونگے.ادائیگی والے قرنطینہ  مراکز  کی دستیابی محدود  ہے لہذا ان کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے.
سوال: کیا واپسی پر کورونا کا ٹیسٹ کروایا جائے گا؟
جواب: واپس آنے والے تمام مسافروں کا ٹیسٹ کروایا جائے گا.
سوال: پھنسے ہوئے مسافروں  کی واپسی کو  کس معیار پر ترجیح دی جارہی ہے؟
جواب: بیرون ملک ہمارے سفارتخانے اور مشن اس بات کو یقینی بناتے رہے ہیں کہ زیادہ تر مستحق افراد ترجیحی بنیادوں پر پاکستان واپس آسکیں. ہمارے مشنوں کو پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو ترجیح دینے کےلیے جس شفاف معیار کے تحت ہدایت کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ: وہ پاکستانی جو غیر ملکی ہوائی اڈوں پر پھنسے ہوئے ہیں ، وہ پاکستانی جن کی میزبان ملک میں  نوکری ختم یا معطل ہوگئی ہے،قیدی ، زائرین جن کی فیملی کا انتہائی قریبی رکن وفات ہوگیا ہو. سرکاری دوروں پر گئے ہوئے سرکاری ملازمین، ویزا میعاد ختم ہونے والے،  قلیل مدت  ویزے والے۔ اور ایسے مقامات پر موجود پاکستانی جہاں سے پاکستان کے لیے خصوصی پروازیں شروع ہوسکتی ہیں.

فلائٹ  کے نظام الاوقات کا ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ لیا جاتا ہے(فوٹو اردونیوز)

سوال: مخصوص ممالک کے لیے پروازوں کو کیوں ترجیح دی جارہی ہے؟
جواب۔ جن مقامات سے پاکستانیوں کو واپس لایا جارہا ہے اس کا انحصار اس ملک میں پھنسے پاکستانیوں کی کل تعداد  اور ان کی اپنے آپ کو برقرار رکھنے کی صلاحیت پر ہے. خلیجی ممالک کے لیے پروازوں کی زیادہ تعداد کی موجودہ پالیسی، اسی بات کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ وہاں پاکستانی مزدوروں ایک بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے.
سوال: مسافروں کو واپس لانے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
 جواب۔ مسافروں کے کورونا ٹیسٹ اور  قرنطینہ سہو لتوں کے مناسب انتظام کرنے کے بعد ہی پاکستان لایا جاتا ہے.محدود سہولیات کو برقرار رکھتے ہوۓ مقامی آبادی کی حفاظت کے لیے بھی کورونا ٹیسٹ اور قرنطینہ کی مدت پورا کرنا ضروری ہے.جیسے جیسے ہم اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں اپنے شہریوں کی بروقت واپسی کو یقینی بنانے کے لئے پروازوں کی تعداد اور مقامات  میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے.
سوال: کیا پروازوں کے کرائے کسی ضابطے کے تحت  لیے جا رہے ہیں؟
جواب: قومی ہوا بازی کی پالیسی 2019 کے مطابق ہوائی جہاز کے کرایوں پر حکومتی پابندی عائد نہیں ہوتی. موجودہ کرایہ معمول سے زیادہ ہوسکتا ہے کیونکہ ایئر لائنز کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان  جانے والی پروازوں کے دوران مسافروں میں فاصلے کو یقینی بنائے اور  تمام مسافروں کو کم از کم ایک خالی نشست کے ساتھ بٹھائے .ائیر لائن ایک طرف کی فلائٹ  مسافروں کے بغیر لانے پر مجبور ہے.
سوال: کچھ طیارے خالی پاکستان کیوں لوٹتے ہیں؟
جواب۔صرف ایک مقررہ تعداد میں پاکستانیوں کو ہر ہفتے پوری دنیا سے واپس لایا جاسکتا ہے کیونکہ ایک مناسب حد میں اندرون ملک مسافروں کو ٹیسٹ اور قرنطینہ میں رکھا جاسکتا ہےاور یہ بھی ضروری ہے کہ  مقامی آبادی کے لیے وبائی امراض کا انتظام کرنے کی صلاحیت کم نہ ہو۔
اسی لیے ہر ہفتے یورپ ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے علاقوں سے پروازیں اکثر خالی واپس آتی ہیں تاکہ متحدہ عرب امارات جیسے خطوں میں متعین کردہ معیار کے مطابق پھنسے ہوئے مسافروں کو واپس لایا جاسکے.

وزارت خارجہ کے کورونا سیل یا اوورسیز فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا جا سکتا ہے(فوٹو اردونیوز)

سوال: صرف ایک ہفتے کےفلائٹ نظام الاوقات کیوں اپ لوڈ کیے جاتے ہیں؟
جواب: فلائٹ  کے نظام الاوقات کا ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کو حتمی شکل دی جاتی ہے کیونکہ دنیا بھر کے بہت سارے ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کی ہوئی ہیں اس لیے ہر فلائٹ  کی انفرادی اجازت لی جاتی ہے. دنیا بھر میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی تعداد کا مسلسل جائزہ حکومت کو جہاں ممکن ہو،  مسافروں کی گنجائش کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے.
سوال: پروازوں کے نظام الاوقات کیوں تبدیل ہو تے ہیں؟
جواب: بڑی تعداد میں ائیر پورٹس اور ایئر لائنز کو بند یا محدود کردیا گیا ہے. پروازوں کو منزل تک پہنچانے کے  لیےمتعلقہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہوتی ہے. اس لیے پروازیں بعض اوقات منسوخ یا مسترد کردی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں متواتر تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں. اس لیے قطعی طور پر پروازوں سے متعلق پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہوتا. پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو واپس لانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں. مسافروں کو بروقت مطلع کرنے اور  تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھنے کے لیے فلائٹ کے نظام الاوقات اور معلومات ویب سائٹ پر باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کی جا رہی ہے.
http://covid.gov.pk/intl_travellers/flight_info  
http://Covid.gov.pk/intl_travellers/contact_info_for_querie  
سوال۔ کیا میتوں کو لانے کی اجازت ہے؟
جواب: پاکستان میتوں کو لانے کی اجازت ہے. معلومات کے لیے  متعلقہ سفارت خانے یا مشن سے رابطہ کیا جا سکتا ہے.
سوال: میں اپنے مقامی سفارت خانے یا مشن سے رابطہ کرنے سے قاصر ہوں یا میرے مزید سوالات ہیں۔ کس سے رابطہ کروں؟
جواب: اگر آپ اپنے مقامی سفارت خانے یا مشن سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں یا مزید معلومات کی درکار ہیں تو وزارت خارجہ امور کے کورونا سیل یا اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن سے رابطہ کریں. ان دونوں سے رابطے کے لئے کی تفصیلات درج ذیل لنک سے مل سکتی ہیں.
http://covid.gov.pk/intl_travellers/contact_info_for queries

شیئر: