Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کورونا وبا کے اثرات: ’ہوائی سفر کئی برس تک متاثر رہے گا‘

خلیجی ملکوں کی ایئرلائنز میں بزنس کلاس سفر کو خصوصی ترجیح دی جاتی ہے (فوٹو: عرب نیوز)
بزنس کلاس کے سفر کا سلسلہ کئی برس تک متاثر رہنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے قطر ایئرویز کے سینئر ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ وبائی صورتحال سے قبل بزنس کلاس کا سفر ایئرلائنز کی آمدن میں اضافے کا اہم ذریعہ تھا۔
قطرایئرویز کے چیف کمرشل افسر تھیئری انتینوری نے ایوی ایشن کنسلٹنسی سی اے پی اے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہواباز اداروں کی جانب سے قیمتوں میں کمی کے بعد بزنس کلاس سفر بحال ہونے میں ٹائم لے گا۔
وبائی صورتحال سے قبل خلیجی ایئرلائنز کی جانب سے اعلی درجے کے مسافروں کو مزید بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے انتہائی لگژری نشستیں مہیا کی جا رہی تھیں۔
کورونا وبا سے پیداشدہ صورتحال کے دوران ویڈیو کانفرنسنگ فیچر کا استعمال عام ہو جانے اور کارپوریشنز کی جانب سے اخراجات میں کمی نے اعلی سفری ذرائع استعمال کرنے والوں کو متاثر کیا ہے۔
بدھ کے روز ایک آن لائن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تھیئری انتینوری کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ خریداری سے متعلق شعبے یا کچھ چیف فنانسل افسران بغیر سوچے سمجھے اس موقع کو اخراجات میں کمی کے لیے استعمال کر کے چند ہزار ڈالر بچانے کی کوشش کریں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اخراجات میں کمی اور دیگر مسائل کی وجہ سے بزنس ٹریول کئی برس تک متاثر رہ سکتا ہے۔‘

خلیجی ایئرلائنز کے اکثر جہازوں میں زیادہ تر نشستیں بزنس کلاس کے لیے مختص ہوتی ہیں (فوٹو: قطرایئرویز)

خلیجی ملکوں کی ایئرلائنز کے لیے بزنس کلاس کے سفر کی سابقہ معمول پر بحالی کی مدت کا اندازہ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان کہ جہازوں میں نشستوں کی بیشر تعداد بزنس کلاس کی ہوتی ہے۔
ایئربس کے چیف ایگزیکٹو افسر گیوم فوری چند روز قبل برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کو انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ بزنس کلاس کا سفر بتدریج وبا سے پہلے کی سطح پر پہنچے گا۔

شیئر: