Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کا پہلا جلسہ: ’لوگ آئے پر ووٹ عمران خان کا‘

پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ پرویز خٹک اکیلا نہیں بلکہ پورا نوشہرہ اس کے ساتھ ہے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی پی)
پاکستان تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے کے بعد پرویز خٹک کی نئی پارٹی پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کی جانب سے پہلا عوامی جلسہ نوشہرہ میں منعقد کیا گیا۔
سنیچر کو ہونے والے جلسے میں پرویز خٹک، سابق وزیراعلٰی محمود خان سیمت ضیا اللہ بنگش اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

جلسہ گاہ میں انتظامات کیسے تھے؟

پارٹی کی جانب سے جلسے کے لیے نوشہرہ کے مرکز کا انتخاب کیا گیا تھا تاکہ شہر، کینٹ اور گاؤں کے عوام آسانی سے جلسہ گاہ پہنچ سکیں۔  پنڈال میں انتظامات سے متعلق جلسہ منتظمین کا کہنا تھا کہ پنڈال میں 10 ہزار کرسیاں لگائی گئیں جبکہ جلسہ گاہ میں 40 ہزار لوگوں کی گنجائش موجود تھی۔ سٹیج اور پنڈال کے اردگرد ساونڈ سسٹم کے ساتھ لائٹوں کا بندوبست بھی کیا گیا تھا۔

’ہماری توقعات سے زیادہ لوگ آئے‘

پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے چیئرمین پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ پرویز خٹک اکیلا نہیں بلکہ پورا نوشہرہ اس کے ساتھ ہے، اس کا ثبوت آج کا کامیاب جلسہ ہے۔ آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کا صفایا کروں گا۔
ترجمان پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز ضیا اللہ بنگش نے اردو نیوز سے گفتگو میں موقف اپنایا کہ پنڈال لوگوں سے بھرا ہوا تھا، ہماری توقعات سے زیادہ لوگ آئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 40 ہزار افراد کا اندازہ لگایا تھا مگر ان کی تعداد 50 ہزار تک پہنچی تھی۔
ضیا اللہ بنگش کے مطابق جلسہ گاہ کے اردگرد لوگوں کی بڑی تعداد کھڑی تھی کیونکہ پنڈال بھر گیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس جلسے کی کامیابی کے لیے پرویز خٹک اور ان کے صاحبزادوں نے بہت محنت کی تھی جس کا صلہ مل گیا۔

صحافیوں کے مطابق جلسہ کتنا کامیاب رہا؟

مقامی صحافی شہاب الرحمان کے مطابق پرویز خٹک ماضی میں بہت بڑے بڑے جلسے کر چکے ہیں مگر اس بار وہ پاور شو نظر نہیں آیا۔
’انہوں نے نوشہرہ میں بے تحاشا ترقیاتی کام کیے مگر اس کے باوجود بڑا جلسہ کرنے میں ناکام ہوئے۔‘
شہاب الرحمان نے بتایا کہ ’جلسے میں شریک لوگوں کی تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ ہو گی۔‘
تاہم پشاور کے سینیئر صحافی فیضان حسین کے مطابق ’جلسے میں 10 ہزار بندے موجود تھے۔ گرمی کے باوجود پی ٹی آئی پی کا پہلا پاور شو کامیاب رہا ورنہ یہ امید نہیں کی جا رہی تھی۔‘

ضیا اللہ بنگش کے مطابق جلسے میں 50 ہزار لوگ تھے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی پی)

انہوں نے مزید کہا کہ ’پنڈال میں موجود بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ صرف جلسہ دیکھنے آئے ہیں مگر ان کا ووٹ عمران خان کا ہے۔‘
فیضان حسین کے مطابق جلسے کے انتظامات قابل تعریف ہیں، سٹیج پر تمام قیادت کے لیے الگ کرسیاں موجود تھیں جبکہ ضلعی رہنماوں کے لیے سٹیج کے نیچے الگ جگہ مختص کی گئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پورے جلسے میں کسی قسم کی بدمزگی یا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر پرویز خٹک نے عمران خان سے راہیں جدا کر کے 17 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے نام سے نئی جماعت بنائی جس میں سابق وزیراعلٰی محمود خان سمیت سابق صوبائی وزرا اور تحریک انصاف کے سابق رہنما شامل ہوئے۔

شیئر: