Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یوم عید پر وعید نہ بھولیئے

جو لوگ زکوٰۃ لینے کے مستحق ہیں وہ صدقہ فطر لینے کے بھی مستحق ہیں، گھر کا سربراہ ہر فرد کی جانب سے صدقہ فطر ادا کرے، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا
* * * ڈاکٹربشریٰ تسنیم۔ شارجہ* * *
اللہ تعالیٰ کا بے شمار شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں رمضان المبارک کو پانے کا موقع عطا فرمایا اور اس میں مقدور بھر نیکی کمانے اور روزہ کے اجر و ثواب کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور مبارک باد کے مستحق ہیں وہ سب روزہ دار جنہوں نے قرآن پاک سے منسوب اس ماہ مبارک میں قرآن کا فہم حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔ روزہ داروں کی کوششوں کو اللہ تعالیٰ رحمت ِ خاص سے نوازتا ہے اور قرآن پاک کو پانے والوں کی خوشیوں میں ایک اور اضافہ عید الفطر کا دن ہے۔
نبی اکرم نے فرمایا: ’’ہر قوم کے لئے عید اور خوشی کے دن ہیں اور آج( یعنی اختتام رمضان پر) ہماری عید کا دن ہے۔ ‘‘ نبی اکرم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو فرمایا: ’’تم سال میں 2دن خوشی منایا کرتے تھے، اب اللہ نے تم کو ان سے بہتر2 دن عطا فرمائے ہیں( یعنی)عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔‘‘ عید الفطر کی رات کو فرشتوں میں بوجہ خوشی کے دھوم مچ جاتی ہے اور اللہ رب العزت ان پر جلوہ فرماتے ہوئے دریافت کرتے ہیں کہ بتاؤ، مزدور اپنی مزدوری پوری کر چکے تو اس کی جزا کیا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ اسے پوری پوری اجرت ملنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :فرشتوتم گواہ رہو! میں نے محمد( )کے روزہ داروں کو بخش دیا اور ان کے لئے جنت واجب کر دی اسی لئے اس رات کا نام فرشتوں میں ’’لیلۃ الجائزہ‘‘( یعنی) ’’انعام کی رات‘‘ ہے۔
رسول اللہ نے فرمایا: ’’جو دونوں عیدوں کی شب بیداری کرے گانیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ تو اس بندے کا دل نہیں مرے گاجس دن اور وں کے دل مردہ ہو جائینگے۔‘‘(ابن ماجہ)۔ ’’چاند رات‘‘ ہمارے معاشرے میں ایک خاص قسم کا تاثر رکھتی ہے جس میں خوشی و مسرت اور دوستوں، رشتہ داروں کی ملاقاتوں پر دلی خوشی کا احساس پایا جاتا ہے۔ وہ رات جس کو ’’انعام کی رات‘‘ کا نام دیا گیاوہ گھروں، بازاروں میں ’’قید سے نجات‘‘ کا تاثر دیتی ہے۔ لگتا ہے وہ تمام جکڑے ہوئے شیطان اپنے لاؤ لشکر اور تمام تر ہتھیاروں، چالبازیوں کے ساتھ مسلمانوں کے گھروں، محلوں، بازاروں پہ پل پڑتے ہیں۔
عید کا چاند نظر آتے ہی نہ توذہن وہ جگمگاتے ہوئے لگتے ہیں نہ دلوں میں وہ نور کا سماں ہوتا ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا فحاشی و بے حیائی کا علمبردار بن کر سامنے آتا ہے۔ گویا کہ شیطان کی فوجیں حملہ کرنے کو تیار بیٹھی تھیں اور اب ذہنوں، دلوں اور نظروں کو گندگی اور نجس میں مبتلا کرنے کا حکم آ گیا۔ کتنے نادان ہیں ہم کہ سارا ماہِ مبارک جتنی مزدوری کی وہ ضائع کر دی۔بازاروں میں شیطان خوب کھیل کھیلتا ہے۔ مردوں اور عورتوں میں حیا، پاکیزگی، حرمت، غیرت بے پاؤں رخصت ہو جاتی ہے۔ چاند رات میں بازاروں کی رونق دیکھنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ مسلمانوں میں رمضان المبارک کے کچھ اثرات رہ گئے ہیں۔ ہم سب کو اپنے معمولات کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم ان مقدس ساعات میں کہاں اور کیا کرنے میں مصروف ہوں گے۔جب اللہ رب العزت روزہ داروں میں اپنی رحمتِ خاص سے انعامات تقسیم فرما رہے ہوں گے، کیا ہم دنیا کی چیزوں کی طلب میں اخروی انعام کو بھول جاتے ہیں۔
کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نظر عنایت اور خصوصی انعام کی اہمیت نہیں ۔ عید کی تیاری کے سب مراحل اگر پہلے پورے کر لئے جائیں تو اس مقدس، عظیم رات کے ایک ایک لمحے سے بخوبی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ترغیب منذری میں درج ہے : ’’عید کی صبح کو اللہ تعالیٰ بہت سارے فرشتوں کو شہروں میں بھیجتا ہے۔ وہ گلی کوچوں راستوں میں کھڑے ہو کر پکارتے ہیں جن کی پکار کو انسان اور جنات کے علاوہ سب سنتے ہیں۔ فرشتے کہتے ہیں: اے امت محمدیہ کے لوگو! تم اپنے رب کریم کی طرف نکلو، جو بہت انعام دیتا ہے اور بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ جب روزہ دار عید گاہ میں پہنچ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے فرماتا ہے: ان مزدوروں کا کیا بدلہ ہونا چاہیئے جنہوں نے اپنے کام احسن طریقہ سے انجام دے دیئے ہیں۔ فرشتے جواب دیتے ہیں: اے ہمارے آقا! ان کا بدلہ یہی ہے کہ ان کی پوری پوری مزدوری دیدی جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے فرشتو! تم گواہ رہو اُن کے رمضان کے روزے اور نماز کی وجہ سے میں ان سے خوش ہو گیا اور ان کو بخش دیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! تم مجھ سے مانگو میں اپنی عزت اور جلال کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس اجتماع میں دنیا و آخرت کی جو کچھ بھی بھلائی مجھ سے مانگو گے میں دوں گا اور تمہارا خصوصی خیال رکھوں گا اور جب تک میری ناراضگی سے ڈرتے رہوگے تمہاری خطاؤں اور لغزشوں کو درگزر کرتا رہوں گا اور مجھے اپنی عزت و بزرگی کی قسم ہے نہ تمہیں رسوا اور ذلیل کروں گا اور نہ مجرمین کے سامنے تمہاری رسوائی ہونے دوں گا۔ تم سب کو میں نے معاف کر دیا۔ تم نے مجھے راضی کرنے کی کوشش کی میں تجھ سے راضی ہو گیا۔ یہ اعلان اور انعام و بخشش سن کر فرشتے جھوم اٹھتے ہیں اور مؤمنین کی کامیابی پر جشن مناتے ہیں۔‘‘
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا: ’’ زکوٰۃ الفطر فرض ہے جو لوگوں کو ان گناہوں سے پاک کرے گی جو رمضان میں روزہ کے ساتھ دانستہ یا نادانستہ سرزد ہوئے۔ جو نماز عید سے پہلے ادا کرے گا اس کی زکوٰۃ الفطر قبول ہو گی،جو عید کی نماز کے بعد ادا کرے گا تو اسے صدقہ و خیرات کا ثواب مل جائے گا۔‘‘ نبی نے مکہ مکرمہ کے گلی کوچوں میں ایک آدمی بھیج کر یہ اعلان کرایا : ’’آگاہ ہو جاؤ صدقہ فطر ہر مسلمان مرد، عورت، آزاد، غلام چھوٹے بڑے پر واجب ہے۔ ‘‘(ترمذی)۔ جو لوگ زکوٰۃ لینے کے مستحق ہیں وہ صدقہ فطر لینے کے بھی مستحق ہیں۔ گھر کا سربراہ اپنے گھر کے ہر فرد کی جانب سے صدقہ فطر ادا کرے۔ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ بچہ اگر ایک دن کا بھی ہو تب بھی صدقہ فطر دینا ہو گا۔ عید کی صبح اٹھ کر روزمرہ کی ضروریات سے فارغ ہو کر عید کی نماز کیلئے تیاری کرنا واجب ہے۔ اگر اس دن حسب عادت رمضان المبارک کی طرح سحری کے وقت اٹھے اور نماز تہجد ادا کرے، اپنے رب سے مزدوری لینے کی رات اور ان مبارک ساعات کو اپنے لئے توشۂ آخرت بنا سکتا ہے۔ شب عید کی بہت فضیلت ہے۔ جو عید کی رات جاگ کر عبادت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور قیامت کے دن اس کا دل زندہ رہے گا۔ شب عید کو آج ہمارے گھر، گلیاں اور بازار جو نقشہ پیش کرتے ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں محاسبۂ نفس کی اشد ضرورت ہے۔ مزدور اپنی مزدوری لینے کی بجائے شیطانی مشغولیات سے دلوں کو مردہ کر رہے ہوتے ہیں اور وہ تمام اجر و ثواب جو پورے رمضان المبارک میں سمیٹا ہوتا ہے ضائع ہو جاتا ہے۔
عید کی نماز سے پہلے میٹھی چیز کھا کر گھر سے روانہ ہونا سنتِ نبی ہے۔ رسول اللہ طاق عدد عموماً 7 کھجوریں کھا کر گھر سے عید کے لئے روانہ ہوتے تھے(طبرانی)۔ عید گاہ پیدل جانا احسن ہے ،بوجہ عذر سواری پر جانا بھی جائز ہے(ترمذی)۔ مرد، خواتین، بچے سب عید گاہ جائیں۔اس نماز کو شہر سے باہر ادا کرنا سنت ہے۔بلاعذر شرعی اس نماز کو شہر میں پڑھ لینا خلافِ سنت ہے۔ سارے شہر کی گلی کوچوں اور راستوں سے مسلمان اپنے رب کی کبریائی کا اعلان کرتے ہوئے ایک کھلے میدان میں جمع ہوتے ہیں۔ سب قوموں کے تہوار ہوتے ہیں اور بالعموم وہ اپنے تہوار مناتے وقت کھیل تماشے، پینے پلانے اور ناچ گانے وغیرہ میں کھو جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے تہوار اپنے رب کی حمد و ثنا سے شروع ہوتے ہیں اور جائز حدود میں سیر و تفریح، کھیل کود، میل جول، کھانے پکانے، دعوت طعام کے ساتھ جاری رہتے ہیں۔
غرض، اسلام کی بنیادی باتوں کو کسی بھی موقع پر صرفِ نظر نہیں کیا جاتا۔ ایسی حرکات جو انسانوں کو حیوانوں کے درجے پر لے آئیں قطعی ممنوع ہیں۔ مومنوں کا اپنی افرادی قوت کا مظاہرہ کرنا بھی خوشی کے موقع پر جائز ہے۔ نبی اکرم نے گروہ کی شکل میں عید گاہ کی طرف جانے اور بلند آواز سے تکبیر پڑھنے کی تلقین کی اور یہ کہ ایک راستے سے جاؤ تو واپسی دوسرے راستے سے آؤ۔ آپ نے فرمایا کہ تمام گھر والے جشن عید منانے اور خوشی و مسرت کے موقع پر عید گاہ میں حاضر ہوں۔آپ نے مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کسی عورت کے پاس چادر (برقع) نہ ہو تو کوئی دوسری عورت اپنی چادر میں اس کو لے جائے(بخاری و مسلم)۔ جو عورت عذر ِشرعی کی بنیاد پر نماز کے لئے نہ جا سکتی ہو اس کو بھی ساتھ لے جانے کا حکم ہے۔وہ بھی مسلمانوں کے اس خوشیوں بھرے میلے میں ضرور شریک ہو۔ عید کے دن بیشتر گھرانوں میں خواتین کو عید گاہ لے جانے کا رجحان نہیں پایا جاتا۔ان کو اس طرف ضرور توجہ دینی چاہئے کہ نبی اکرم نے اس امر کی کتنی تاکید کی ہے۔رحمتوں اور بخششوں کی اس دولت سے خواتین کیوں محروم رہیں جو نماز عید اور اجتماعِ عید پر اللہ کی طرف سے خصوصی طور پر نچھاور ہوتی ہے لیکن اس بات کا خصوصی خیال کیا جائے کہ خواتین پردہ کر کے جائیں اور بناؤ سنگھار، زیور پہننے کے معاملے میں احتیاط برتیں۔
پردہ فرض عبادت ہے۔اس سے روگردانی حکم ِ الٰہی کی صریح نافرمانی ہے۔اجتماعِ عید میں سنت چیز نیا لباس ہے۔خوشبو بھی وہ ہونی چاہئے جو رنگت میں نمایاں ہو، خوشبو میں نہیں۔ نماز کے بعد امام اپنی جگہ پر کھڑا ہو کر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر خطبہ دے اور ہر شخص با ادب ہو کر خطبہ سنے۔ اگر عورتوں تک امام کی آواز نہ پہنچتی ہو تو امام الگ انہیں دوبارہ خطبہ سنائے (بخاری و مسلم)۔ اس تاکید سے خواتین کا عید گاہ میں حاضر ہونے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جمعہ کی طرح عید بھی شعائر اسلام ہے۔ اس کا احترام اور اس کے تقاضے سنت ِ نبوی کے مطابق پورا کرنا ہر مومن، مرد عورت اور بچے پر واجب ہے۔عید کے دن نماز سے پہلے گھر سے روانہ ہونے سے لے کر (تمام راستے) اور نماز کھڑی ہونے تک زیادہ سے زیادہ تکبیریں پڑھنا چاہئیں۔ساری فضا ایک نورانی احساس اور پاکیزہ جذبے سے معمور ہو جائے اور دشت و جبل نامِ حق سے گونج اٹھے۔ عید کے دن محمد اس دعا کو پڑھا کرتے تھے۔ ’’یا اللہ!ہم تجھ سے پاک و صاف زندگی اور ایسی ہی عمدہ موت طلب کرتے ہیں،یا اللہ !ہمارا لوٹنا رسوائی اور فضیحتی کا نہ ہو، اے اللہ! ہمیں اچانک ہلاک نہ کرنا نہ اچانک پکڑنا اور نہ ایسا کرنا کہ ہم حق ادا کرنے اور وصیت کرنے سے بھی رہ جائیں،اے اللہ! ہم تجھ سے حرام سے اور دوسروں کے سامنے سوالی بننے کی فضیحتی سے بچنے کی دعا کرتے ہیں،اے اللہ !ہم تجھ سے پاکیزہ زندگی ،نفس کا غنیٰ، بقا، ہدایت و کامیابی اور دنیا و آخرت کے انجام کی بہتری طلب کرتے ہیں، اے ہمارے رب!ہم شکوک و شبہات اور آپس میں نفاق، ریاء بناوٹ اور دین کے کاموں میں دکھاوے کے عمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں، اے دلوں کے پھیرنے والے رب! ہمارے دل ہدایت کی طرف پھیرنے کے بعد ٹیڑھے نہ کرنا اور ہمیں اپنی طرف سے خاص رحمت عطا فرمانا ، بے شک توہی سب کچھ دینے والا ہے۔‘‘
اسلامی تہواروں میں نہ شراب و قمار ہے نہ لہو و لعب اور نہ انسانیت سوز نظارے۔خاکساری و خشیت الٰہی کے جلوے ہیں۔ ایثار و مساوات کے مجسمے اور ہمدردی و غمخواری کے نمونے ہیں۔ اتحاد و اتفاق کی جیتی جاگتی عملی تصویر نظر آتی ہے۔ مسلمانوں کی عیدوں میں نہ کھیل تماشہ ہے نہ وقت کے زیاں کا کوئی عمل بلکہ ان خوشی کے دنوں میں بھی عبادتِ الٰہی اور ذکر و تسبیح و تہلیل ہے۔ مومن اپنی دنیا کی آسائشوں کی بجائے آخرت کے لئے ہر لمحہ فکر مند رہتا ہے اسی لئے عید کی تیاریوں میں مگن ہو کر ایسا ہوش و خرد سے بے بہرہ نہیں ہوا جاتا کہ فرائض کی بجا آوری بھول جائے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ شب ِ عیدشاپنگ، مہندی، چوڑیوں، سلائیوں اور میچنگ کی فکروں میں گزر جاتی ہے اور نماز فجر سے غفلت میں مبتلا ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ گھڑیاں رب کی رضا کے حصول کی خصوصی گھڑیاں ہیں اور تحائف خصوصاً عید کارڈز کا انتخاب ایمان کا امتحان ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو کارڈز اور ٹی وی، ویڈیو، سی ڈی کے ذریعہ فحاشی پھیلاتے ہیں اور جو لوگ ان کو خرید کر فحاشی پھیلانے میں ممد و معاون بنتے ہیں سب کے لئے دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی مقدر ہے۔ یہ قرآن میں صریحاً درج ہے۔عید کی حقیقی خوشیوں کو محض دنیاوی خوشیوں کا محور نہیں جاننا چاہئے بلکہ توشۂ آخرت پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ مومن کی5 عیدیں ہیں:
٭ ہر مسلم و مومن جس دن گناہ سے محفوظ رہے اور کوئی گناہ سرزد نہ ہو وہ عید کا دن ہے
٭ جس دن مسلم مرد و عورت دنیا سے اپنا ایمان سلامت لے جائے اس کی وہ عید ہے
٭ جس دن مسلمین و مسلمات دوزخ کے پل سے سلامتی کے ساتھ گزر جائیں
٭ جس دن مسلمان دوزخ سے بچ کر جنت میں داخل ہو جائے
٭ جس دن مسلمان اپنے رب کی رضا کو پا لے اور اس کے دیدار سے اپنی آنکھیں روشن کرے وہ عید کا دن ہے۔ حضرت علی ؓ کو کسی نے عید کے دن دیکھا کہ وہ خشک روٹی کھا رہے ہیں۔دیکھنے والے نے کہا :اے ابو ترابؓ!آج عید ہے۔ آپ ؓ نے فرمایا:ہماری عید اُس دن ہے جس دن کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ وہب بن منبہ ؓ کو کسی نے عید کے دن روتے دیکھا تو کہا: آج تو مسرت و شادمانی کا دن ہے کیوں رورہے ہیں۔حضرت وہب نے فرمایا:یہ خوشی کا دن اُس کے لئے ہے جس کے روزے مقبول ہو گئے ہوں۔
حضرت شبلیؒنے عید کے دن لوگوں کو کھیل کود میں مشغول دیکھ کر فرمایا : ’’لوگ عید میں مشغول ہو کر وعید کو بھول گئے۔‘‘ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ عید کے آداب و فضائل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ٭ عید ان کی نہیں جنہوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپ کو آراستہ کیا، عید تو ان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی وعید اور پکڑ سے بچ گئے۔
٭ عید ان کی نہیں جنہوں نے آج بہت سی خوشبوؤں کا استعمال کیا،عید تو ان لوگوں کی ہے جنہوں نے گناہوں سے توبہ کی اور اس پر قائم رہے۔
٭ عید ان لوگوں کی نہیںجنہوں نے بڑی بڑی دیگیں چڑھا دیں اور بہت سے کھانے پکائے،عید تو ان کی ہے جنہوں نے حتی الامکان نیک بننے کی کوشش کی اور نیک بنے رہنے کا عہد کیا۔
٭ عید اُن کی نہیں جو دنیاوی زینت کے ساتھ نکلے، عید تو ان کی ہے جس نے تقویٰ و پرہیزگاری کو زادِ راہ بنایا۔
٭ عید اُن کی نہیں جنہوں نے اعلیٰ درجہ کے فرش سے (قالینوں سے) اپنے مکانوں کو آراستہ کر لیا، عید تو ان کی ہے جو دوزخ کے پل سے گزر گئے۔
٭عید ان کی نہیں جو کھانے پینے میں مشغول ہو گئے،عید ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کیا۔ اللہ رب العزت امت مسلمہ کو حقیقی عید سے ہمکنار فرمائے۔ آمین۔

شیئر: