چاند اور میری ادھوری خواہش

مقامی امریکی باشندوں کی تاریخ کو چیکاسا ریکریئشنل سنٹر میں محفوظ کیا گیا ہے۔
چاند کا ٹکڑا کون نہیں دیکھنا چاہے گا لیکن میری بدقسمتی کہ اتنے قریب پہنچ کربھی نہ دیکھ پائی۔
میں نیل آرم سٹرانگ کی طرح خلاباز تو نہیں اور نہ ہی ان کی طرح چاند پر پہنچی لیکن جب میں امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں نیشنل ایئر اورسپیس میوزیم گئی تو مجھے امید تھی کہ میں چاند کا ٹکڑا قریب سے دیکھ سکوں گی۔  
لیکن جب ہم میوزیم کے اس حصے میں گئے جہاں چاند کے اس ٹکڑے کی موجودگی کے بارے میں بتایا گیا تھا تو یہ جان کر بے حد مایوسی ہوئی کہ میوزیم کا یہ حصہ ترقیاتی کام کی وجہ سے بند کیا گیا ہے اور سیاحوں کے لیے نومبر میں کھولا جائے گا۔

نیشنل ایئر اور سپیس میوزیم میں پرانے خلائی جہازوں کے ماڈلز بھی رکھے گئے ہیں۔ 

خیر ہم یہ سوچتے ہوئے میوزیم سے نکل آئے کہ اس مرتبہ چاند نہ دیکھا تو کیا ہوا، ہو سکتا ہے یہ موقع جلد ہی دوبارہ مل جائے اور ابھی تو امریکہ میں ہمارے دیکھنے کواور بہت کچھ تھا۔
ہماری یہ امریکہ یاترا صحافیوں کے لیے مختص ایک پروگرام کے توسط سے ہو رہی تھی اور ہمارے ساتھ پاکستان سے دیگر 11 صحافی بھی تھے جن کو امریکہ کے مختلف شہروں میں لے جایا گیا۔
امریکہ کے دورے کے دوران ہمارے لیے اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب امریکہ میں معمر ترین افراد کو بھی چستی اور پھرتی سے معمول کے کام کرتے دیکھا۔
پاکستان میں جب بھی میں نے اپنے آس پاس 60 برس سے زیادہ عمر کی خواتین سے بات چیت کی تو ان میں سے اکثر کو یا تو زندگی کے آخری حصے میں داخل ہونے کے لیے تیار دیکھا یا اس بارے میں بات کرتے سنا۔ لیکن کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کوئی 60، 65 سالہ میزبان اپنے مہمانوں کو خود گاڑی چلا کر گھمانے لے جائے۔

 چھٹی کے دن امریکہ کی سڑکوں پر سیاحوں کا ہجوم نظر آتا ہے۔

جب ہم ڈیلاس سے اوکلاہاما ائیر پورٹ پہنچے تو 63 سالہ  کیتھی اور اوکلاہاما یونیورسٹی کی ایک اور 61 سالہ ملازمہ شیرل ہماری گاڑیاں چلا رہی تھیں، یہ منظر کم از کم میرے لیے حیران کن تھا۔
اوکلا ہاما کے پورے سفر میں ان خواتین کو چاک و چوبند پا کرنہ صرف ان خواتین پر رشک آیا بلکہ پاکستان کی خواتین کے لیے افسوس بھی محسوس ہوا کہ وقت سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہیں، نہ کام کاج کے قابل ہوتی ہیں اور نہ زندگی کا لطف اٹھاتی ہیں۔
مجھے کبھی بھی امریکہ جانے کا خاص شوق نہیں تھا۔ ہمیشہ لگتا تھا کہ امریکی مغرور ہوتے ہیں۔ یہ بھی سنا تھا کہ پاکستانیوں کا امریکہ کے ایئرپورٹس پر کچھ اچھا تجربہ نہیں رہتا۔ اس پروگرام کے لیے بھی اپنا نام میں نے دوستوں کے بے حد اصرار کرنے کے بعد ہی دیا تھا لیکن ڈیلاس پہنچنے کے بعد میری سب غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔
جب ڈیلاس ایئرپورٹ پرامیگریشن افسر نے معمول کے سوالات و جوابات کے بعد خوش اخلاقی سے ’خوش آمدید‘ کہا، تو ایک خوشگوار سی حیرت ہوئی۔

اوکلاہاما یونیورسٹی 1890 میں بنائی گئی اس میں 20 ہزار سے زیادہ طالب علم پڑھتے ہیں۔ فوٹو:او یو فیس بک

اوکلا ہاما میں ہماری رہائش وہاں کی یونیورسٹی کے کاٹیجزمیں تھی کیونکہ ہماری میزبان یہی یونیورسٹی تھی۔
اگلے روز اوکلاہاما یونیورسٹی کے ڈین نے ہمارے لیے اپنے گھر عشائیے کا انتظام کیا، جہاں انہوں نے ہمارے لیے پاکستانی جھنڈے جیسا دکھائی دینے والا کیک پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اوکلاہاما لے جانے اور امریکہ کے چھوٹے شہرڈلاس، پھر قدرے بڑے شہر سینٹ لوئیس اور پھر بڑا شہر واشنگٹن دکھانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم امریکہ کے چھوٹے بڑے شہروں میں ترقی کے مراحل  کا مشاہدہ  کر سکیں۔
بہرحال، گروپ میں ہم سب پاکستانی تھے اور وہ بھی صحافی، اسی لیے میڈیا کے شعبے میں نوکریوں کے بحران اور تنخواہوں پر بھی باتیں ہوئیں۔ لیکن ہمیں علم ہوا کہ امریکہ میں رہنے والوں کے کچھ اور ہی مسائل ہیں۔ ہمارے لیے تو صحافت روز کا کام ہے، لیکن پاکستان کی صحافت کو امریکہ میں چیلینج سمجھا جاتا ہے۔ 
ایک صحافی سے بات کرنے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے حالات سے باخبر ہیں اور ’ہم پاکستانی صحافیوں کو سلام پیش کرتے ہیں‘۔

اوکلاہاما کے مقامی باشندوں کے پاکستانی صحافیوں کا گروپ فوٹو۔

سننے میں تو یہ سوچ کھوکھلی لگے گی لیکن پاکستان میں ہم زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں خاندان اور قدریں نہیں ہوتیں۔ لیکن وہاں کے پارکوں اور پکنک پوائنٹس پر مناظر نے یہ سوچ بھی غلط ثابت کر دی۔
یہاں دکھائی دینے والے بہت سے مناظر میں سے ایک نے خاص طور پر اپنی جانب راغب کیا اور وہ یہ تھا کہ تفریخ گاہوں میں خواتین مکمل پرسکون اور مطمئن نظر آ رہی تھیں۔ ایک پاکستانی عورت کے لیے تفریح گاہوں میں گھورے جانے کے بغیر آرام سے بیٹھنے کا تصور ایک آسائش سے کم نہیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ امریکہ میں لوگ اپنی ترجیحات کے متعلق یکسو ہیں۔
جیسے عورتوں کو تفریح گاہوں میں گھورنے اور انہیں غیر محفوظ محسوس کرانے سے بہتر وہ سمجھتے ہیں کہ باہر نکلنے والوں کی ہر طرح مدد کی جائے اور کوئی کسی سے پیچھے نہ رہ جائے۔

امریکہ کی تفریح گاہوں کو دیکھ کر خیال آیا کہ کاش پاکستان میں بھی عورتیں ایسے ہی سکون سے وقت گزار سکیں۔

اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں  ڈبل ڈیکر بس میں وہ لوگ سفر کرسکتے ہیں جن کو چلنے پھرنے میں مسائل درپیش ہوں۔ 
معذور لوگوں کی مدد کرتے دیکھ کر لگا کہ امریکہ میں ایک معذور شخص کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں اور معذوری کے باوجود وہ ایک بہترین زندگی گزار سکتے ہیں۔
ایک اور بات جو مجھے معیوب بھی لگی اور متاثر کن بھی وہ وقت کی پابندی تھی۔ امریکی وقت کے اتنے پابند ہیں کہ ایک جگہ تو ہماری منتظم نے ہمارے گروپ کی ایک ساتھی کو دیر کرنے پر پیچھے ہی چھوڑ دیا۔ میں ابھی اس بات پر غور ہی کر رہی  تھی کہ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کا وقت قیمتی ہوتا ہے۔
ہماری منتظم دل کی نرم لیکن کام اور وقت کے معاملے میں انتہائی سخت تھیں جس کی وجہ سے میں ان کو جنرل کیتھی کہہ کر پکارتی تھی۔

امریکی صحافی کہتے ہیں کہ پاکستان میں صحافت کرنا مشکل کام ہے۔

اوکلا ہاما کے بعد میزوری ریاست کا سینٹ لوئس ہمارا میزبان شہر تھا۔
سینٹ لوئس سیاہ فاموں کا شہر ہے، یہاں غربت بھی ہے۔ ہمارے ایک منتظم کے مطابق حکومت ان کو ہر مہینے راشن دیتی ہے لیکن ہوٹل کے قریب ایسے سیاہ فاموں کو دیکھا جو نہ صرف بھیک مانگ رہے تھے بلکہ ایک واقعے میں ہمارے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ کچھ بھی ہو مجھے دے دو۔
ایک بار تو یوں ہوا کہ ہم جس ہوٹل میں ٹھہرے تھے وہاں ہمارا گروپ باہر سے آتا ہوا کیفے ٹیریا میں ہوٹل کے رہائشیوں کے لیے موجود مفت کافی، پاپ کارن اور سیب لینے گیا تو ہمارے ساتھ ایک شخص بھی یہ چیزیں لینے کے لیے شامل ہو گیا۔
ہوٹل انتظامیہ کے ایک رکن کو پتہ چلا تو اس کے کچھ کرنے سے پہلے ہی وہ بندہ وہاں سے بھاگ گیا۔ خالی ہاتھ نہیں بلکہ کھانے کا سامان لے کر!
کھانوں کی بات کریں تو امریکہ میں کھائے گئے دو کھانوں کا ذائقہ نہیں بھولا جائے گا۔ ایک کیتھی کے گھر کی مکس سبزی اور ایک اوکلاہاما کے مور شہر میں ہمالیہ رسٹورنٹ کا بوفے۔

سینٹ لوئس کے ایک باغ میں وکٹوریہ کنول کے بڑے پتے دیکھ حیرانگی ہوتی ہے۔

کبھی انڈیا جانے کا اتفاق تو نہیں ہوا لیکن اس کا ذائقہ بھی امریکہ میں چکھ لیا۔ اپنے پڑوسی ملک کا کھانا سات سمندر پار کھا کے بڑا لطف آیا۔
روانگی کے وقت کیتھی نے پوچھا کہ امریکہ کیسا لگا، تو میں نے کہا کہ امریکی عوام اچھے ہیں، راستہ سمجھاتے ہیں اورآپ کو دیکھ کر مسکراتے ضرور ہیں۔
 ’جنرل کیتھی‘ کہنے لگیں، ’کچھ امریکی بہت اچھے اور کچھ صرف اچھے ہوتے ہیں۔‘

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر:

متعلقہ خبریں