ایثار اور قربانی کی مثال: والد کو گردہ عطیہ کرنے میں دو سعودی بھائیوں میں مسابقت
آپریشن کامیاب رہا۔ یہ خبر بیٹوں کے لیے سکون کا باعث تھی ( فوٹو: سکرین گریب)
سعودی عرب کے تبوک ریجن میں سعودی نوجوان مھند البلوی نے والد کو اپنا گردہ عطیہ کرکے ایک مثال قائم کی ہے۔ نوجوان کے والد گزشتہ چھ ماہ سے گردے کے مرض میں مبتلا تھے۔
اخبار 24 سے گفتگو کرتے ہوئے مھند البلوی نے بتایا والد صاحب کو ڈائیلاسز کراتے دیکھا کرتا تھا۔ علاج کے دوران انہیں جو تکلیف ہوتی تھی وہ میری برادشت سے باہر تھی۔ انہیں مستقل طور پر صحت مند دیکھنا میری سب سے بڑی خواہش تھی۔
انہوں نے بتایا والد کی شفایابی کا ایک ہی علاج تھا کہ کوئی انہیں گردہ عطیہ کردے جب مجھے معلوم ہوا تو والد کو اپنا گردہ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے اس فیصلے پر میرے بھائی متفق تھے تاہم اس وقت شدید مزاحمت کرنا پڑی جب میرے بھائی نے یہ حق مجھ سے لینا چاہا۔ بھائی کا کہنا تھا کہ وہ اپنا گردہ والد کو عطیہ کریں گے مگر میں نے انہیں قسم دے کر روک دیا۔
مھند البلوی نے مزید بتایا آپریشن سے کچھ دیر قبل والد نے منع کیا کہ میں اپنا گردہ عطیہ نہ کروں، وہ میری صحت کے بارے میں فکر مند تھے مگر میں اپنے فیصلے پر قائم رہا اور بالاخر انہیں راضی کرلیا۔
گردے کی منتقلی کا آپریشن کامیاب رہا۔ یہ خبر میرے لیے بہت ہی سکون کا باعث تھی کہ اب والد کو ڈائیلاسز کے تکلیف دہ مراحل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور اب وہ ایک صحت مند زندگی گزاریں گے۔
مھند البلوی کے والد عبدالکریم البلوی نے بتایا تقریبا دو برس قبل گردے کا عارضہ لاحق ہوا مگر ابتدا میں علاج کرانے سے انکار کیا مگر سات ماہ قبل مرض بڑھ گیا تو ڈاکٹروں نے لازمی ڈائیلاسز تجویز کیا جو ایک تکلیف دہ عمل تھا۔
