Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

117 سالہ البانین خاتون گنیز ریکارڈ ہولڈر سے بھی بڑی نکلیں، ’ڈاکٹر کے پاس گئی نہ کبھی دوا لی‘

کامیلے مارا آج بھی روز اپنے 80 سالہ بیٹے کے ہمراہ چہل قدمی کرتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
البانیہ کی 117 سالہ خاتون کو اس بات کی زیادہ فکر نہیں کہ وہ دنیا کی عمر رسیدہ ترین خاتون ہیں یا نہیں جبکہ پنشن حکام کو یہ یقین دلانے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتیں کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے 117 سالہ البانین خاتون کامیلے مارا کا انٹرویو کیا ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ اتنی لمبی زندگی گزارنے کے بعد بھی وہ زندگی سے مزید لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں۔
کامیلے اس زمانے میں پیدا ہوئیں جب البانیہ میں سلطنت عثمانیہ کی حکومت تھی، انہوں نے ملک میں کمیونسٹ حکومت کا دور بھی دیکھا جبکہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے وقت وہ 36 سال کی تھیں۔
کامیلے مارا دارالحکومت سے قریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں فیرس میں رہتی ہیں، انہوں نے اپنی ساری زندگی اسی گاؤں میں بِتائی ہے۔
وہ فطرت کے قریب رہتی ہیں، مویشی پال رکھے ہیں اور اپنی خوراک کا سامان خود کاشت کرتی ہیں۔
انہوں نے ملک کے بلند پہاڑ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’زندگی خوبصورت ہے بالکل تومور کے پہاڑ کی طرح، جب اس پر پھول کھلتے ہیں۔‘
سر پر روایتی سفید سکارف اوڑھے کامیلے مارا نے یہ بھی کہا کہ ’انسان اتنی ہی زندگی جیتا ہے جتنی خدا نے اس کے لیے لکھ رکھی ہوتی ہے۔‘

سرکاری دستاویز میں کامیلے مارا کی تاریخ پیدائش 19 اگست 1909 درج ہے (فوٹو: اے ایف پی)

سرکاری دستاویزات کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش 19 اگست 1909 ہے، اس حساب سے وہ برطانیہ کی ایتھل کیتھرہم سے دو روز بڑی ہیں، جن کو گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کی عمر رسیدہ ترین خاتون قرار دے رکھا ہے۔
110 سال سے زائد عمر رکھنے والے افراد کی درست عمر کا اندازہ مشکل ہوتا ہے کہ کیونکہ بہت سے علاقوں میں اس وقت مناسب طور پر ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا۔
تاہم کامیلے مارا کے پاس کئی ایسی دستاویزات موجود ہیں جو ان کی عمر کی تصدیق کرتے ہیں۔
ان کے 80 سالہ بیٹے ہیسن کہتے ہیں کہ جب ان کی والدہ 100 سال کی ہوئیں تو مقامی حکام نے ان کی پنشن بند کر دی کیونکہ انیہں یقین نہیں تھا کہ وہ زندہ ہیں اور پنشن دوبارہ شروع کروانے کے لیے گواہوں کے بیانات کے علاوہ ثبوت بھی پیش کرنا پڑے۔
رواں ماہ کے آغاز البانیہ کی حکومت نے ان کی غیرمعمولی عمر کے اعتراف میں ایک خصوصی سرکاری پنشن جاری کی ہے۔

بیٹے کے مطابق والدہ کی طویل عمری کا راز فطرت کے قریب رہنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

طویل عمر کا راز

کامیلے مارا کو دیکھا جائے تو اس راز ان کے طرز زندگی اور عادات میں ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق وہ صبح سویرے اٹھتی ہیں، صحن میں جھاڑو دیتی ہیں، پودوں کو پانی دیتی ہیں اور مرغیوں کو دانہ ڈالتی ہیں، اس کے بعد بیٹھ کر کافی پتی ہیں۔
وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں اور ان کے ہمراہ روز چہل قدمی کے لیے بھی نکلتی ہیں۔
انہیں خوشبو بہت پسند ہے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے تلسی کے پتے جیبوں میں رکھتی ہیں۔
ان کے بیٹے کے مطابق ’ان کی طویل عمر کا راز جو بھی ہو، مگر آج تک وہ کبھی ڈاکٹر کے پاس نہیں گئیں۔‘
ہیسن کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ صحت مند زندگی گزار رہیں اور انہوں نے کبھی کوئی دوا بھی نہیں لی۔

کامیلے مارا اپنی پانچ نسلیں دیکھ چکی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

پانچ نسلوں کی خوشیاں

کامیلے مارا کے شوہر کو دنیا سے گئے 36 سال گزر چکے ہیں لیکن وہ آج بھی ان کے ساتھ گزارے ہوئے برسوں کو یاد کرکے مسکرا دیتی ہیں۔ ان کی شادی گھر والوں کی مرضی سے ہوئی تھی۔
ان کے مطابق ’ہم دونوں کے درمیان بے پناہ محبت تھی۔‘
وہ اپنے خاندان کی پانچ نسلوں کو پروان چڑھتے ہوئے دیکھ چکی ہیں۔
بات چیت کے دوران وفات پا جانے رشتہ داروں اور دوستوں کو یاد کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو دکھائی دیے لیکن جیسے ہی ان کی ایک بھتیجی کچھ پوچھنے آئی تو چہرے پر خوشی لوٹ آئی۔
’میں نے ان کو منگنی کرتے اور گھر بساتے دیکھا ہے، گھر میں ان کے آنے پر خوشی ہوتی ہے۔‘
ان کے پاس اپنی جوانی کی صرف ایک تصویر یادگار کے طور پر موجود ہے۔
قریباً 100 سال پرانی اس تصویر میں ایک نوجوان لڑکی نے سفید سکارف اوڑھ رکھا ہے بالکل ویسے ہی جیسے اب بھی کامیلے مارا لیتی ہیں۔
تصویر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میری عمر 18 سال تھی۔‘

شیئر: