این سی سی آئی اے کا غیر قانونی کال سینٹرز پر بڑا کریک ڈاؤن، 300 چینی باشندوں سمیت 1000 ملزمان گرفتار
جمعہ 23 اکتوبر 2026 5:48
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
فرحت کاظمی کے مطابق ایسے غیر قانونی دھندے صرف ترقی پذیر ممالک میں ہی پنپ سکتے ہیں (فوٹو:این سی سی آئی اے)
پاکستان کی قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ملک بھر، بالخصوص دارالحکومت اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید تیز کرتے ہوئے کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔
حالیہ چند ہفتوں کے دوران کی جانے والی درجنوں کارروائیوں میں غیر ملکیوں سمیت سینکڑوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ کروڑوں روپے کے سائبر جرائم میں ملوث بیسیوں غیر قانونی کال سینٹرز کو سیل کر کے بند کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے حال ہی میں قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے عہدے پر تبدیلی کرتے ہوئے سابق آئی جی اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی کو ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے، جس کے بعد سے ملک بھر میں ان کارروائیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
اسلام آباد میں بڑے چھاپے اور غیر ملکیوں کی گرفتاری
اسلام آباد کے سیکٹرز آئی ٹین، آئی نائن، جی ایٹ، اور ای الیون کے علاوہ راولپنڈی میں بھی این سی سی آئی اے کی جانب سے کارروائیاں کی گئی ہیں۔ یہ علاقے ان غیر قانونی نیٹ ورکس کا مرکز بنے ہوئے تھے جہاں سے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملکی و غیر ملکی شہریوں سے فراڈ کیا جاتا تھا۔
ان کارروائیوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں بڑی تعداد غیر ملکیوں کی بھی شامل ہے جبکہ درجنوں کال سینٹرز کو بند کر کے ان کا تمام سامان قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
این سی سی آئی کے مطابق ان کارروائیوں کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان میں بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری، خصوصاً چینی باشندے، گرفتار ہوئے ہیں جو مقامی افراد کی ملی بھگت سے غیر قانونی کال سینٹرز کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر سائبر فراڈ کے شبکے (نیٹ ورکس) چلا رہے تھے۔
سائبر تحقیقاتی ایجنسی نے درجنوں سمارٹ فونز، کمپیوٹرز، اور لیپ ٹاپس بھی برآمد کیے ہیں، جو آن لائن جاب اسکیمز، جعلی ریٹنگ، فنانشل فراڈ اور 'بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
اسی طرح ایک ہفتے کے دوران ہی اسلام آباد میں ایک ارب روپے مالیت کی آن لائن فراڈ سکیموں کے خلاف این سی سی آئی اے اور چینی پولیس نے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران تھانہ مارگلہ کی حدود میں تین گھروں پر چھاپے مار کر 305 چینی باشندوں کو حراست میں لے لیا۔
این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں کسی ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ لاہور، کراچی اور فیصل آباد سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی ان نیٹ ورکس کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، اور قانون شکن عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں
تاہم ان کارروائیوں کی افادیت کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن کس حد تک غیر جانبدارانہ ہے اور کیا اس سے واقعی ان جرائم کی شرح میں کمی آ رہی ہے؟ نیز یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ غیر قانونی کال سینٹرز مالی فراڈ کے لیے کون سے طریقے اور ہتھکنڈے استعمال کر رہے تھے۔
اس معاملے کو مزید باریکی سے سمجھنے کے لیے ہم نے اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی (ریٹائرڈ) فرحت کاظمی سے گفتگو کی۔
اُنہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ایسے غیر قانونی کال سینٹرز زیادہ تر بڑی عالمی معیشتوں کے شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، جن میں مختلف نوعیت کے فراڈ شامل ہیں۔ ان کے مطابق کریڈٹ کارڈ کی معلومات اور موبائل بینکنگ کے فراڈ کے علاوہ 'آئیڈینٹیٹی تھیفٹ' (شناخت کا چوری ہونا) جیسے جرائم بھی کیے جاتے ہیں، جن میں ملزمان جعلی پولیس یا ویزا افسر بن کر غیر ملکی شہریوں کو جھانسہ دیتے اور ان سے رقم بٹورتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹین (I-10) میں ایک کارروائی کے دوران ایسے ملزمان کے قبضے سے دوسرے ممالک کی پولیس کی وردیاں بھی پکڑی گئی ہیں۔ یہ عناصر انہی وردیوں کا استعمال کر کے متاثرین کو ویڈیو کالز پر ثبوت دیتے ہیں کہ وہ متعلقہ ملک کی کسی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کے اہلکار ہیں اور انہیں فلاں کام کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایسے مقامات پر زیادہ تر ایسے نوجوانوں کو رکھا جاتا ہے جن کی انگریزی زبان پر عبور اچھا ہوتا ہے۔ یہ نوجوان ان کال سینٹرز کے ذریعے بڑی عمر کی خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کر کے دھوکے سے ان کی رقوم بٹورتے ہیں۔
فرحت کاظمی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے غیر قانونی دھندے صرف ترقی پذیر یا تیسری دنیا کے ممالک جیسے پاکستان میں ہی پنپ سکتے ہیں، کیونکہ جہاں قانون کی حکمرانی ہو وہاں اس نوعیت کے مراکز چلانا ممکن نہیں ہوتا۔
سابق ایس پی کے مطابق اس دھندے کے پسِ پردہ دو طبقات ہوتے ہیں؛ ایک وہ بااثر سرمایہ کار جو مالی معاونت سے یہ غیر قانونی کال سینٹرز چلاتے ہیں، جبکہ دوسرا طبقہ ان بے روزگار نوجوانوں کا ہے جو مالی مجبوریوں کے باعث نادانستہ یا دانستہ طور پر ان جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا حصہ بن جاتے ہیں۔
سابق ایس پی کے مطابق اگرچہ قانون شکن عناصر اور اس دھندے کے اصل ماسٹر مائنڈز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے، لیکن جو نوجوان صرف ملازمت یا روزگار کے لیے ان کال سینٹرز سے جڑے ہوتے ہیں، ان کا معاملہ جانچ پڑتال اور تفتیش کے بعد عموماً الگ رکھا جاتا ہے۔
تاہم انہوں نے ایک اہم نکتے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں ان مقامی سہولت کاروں کو بھی لازمی بے نقاب کیا جانا چاہیے جو ان غیر ملکیوں کو پاکستان میں کاروبار شروع کرنے، کمپنیاں رجسٹر کروانے، پولیس سے تعلقات استوار کرنے اور قانونی معاملات طے کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ جب تک ایسے بااثر سہولت کاروں (خواہ ان کا تعلق سیاست یا بیوروکریسی سے ہو) کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، ان مسائل کا مکمل سدباب ممکن نہیں ہوگا۔
ان کارروائیوں کے قانونی اور عدالتی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے لیے جب ہم نے ماہرِ قانون اور ان کیسز پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم سے بات کی تو انہوں نے اس کریک ڈاؤن کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
ماہرِ قانون کے مطابق ’اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بھی یہ واضح احکامات موجود ہیں کہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کو سختی سے جاری رکھا جائے۔‘
انہوں نے انکشاف کیا کہ ’ان کال سینٹرز کا نیٹ ورک صرف مالی دھوکہ دہی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے پسِ پردہ پاکستانی شہریوں کا نادرا ریکارڈ اور دیگر اہم نوعیت کا ڈیٹا بھی چوری ہونے کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔‘
اس سوال پر کہ ان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکیوں، بالخصوص چینی شہریوں کو پاکستان میں عدالتوں کے ذریعے سزائیں دینے کے بجائے فوری طور پر ڈی پورٹ کیوں کیا جاتا ہے، انہوں نے وضاحت کی کہ ریاست کا انہیں فوری ملک بدر کرنا انتظامی اور قانونی لحاظ سے ایک بہتر فیصلہ ہوتا ہے۔
’اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر انہیں پاکستان کی جیلوں میں رکھا جائے جہاں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ قیدی ہوتے ہیں (مثلاً جہاں چار بندوں کی جگہ ہو وہاں گیارہ بندے ہوں)، تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔‘
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اس امر کو لازمی یقینی بنائے کہ جو غیر ملکی شہری یہاں سے ڈی پورٹ ہو کر جا رہے ہیں، ان کی پاکستان میں دوبارہ واپسی اور داخلے پر ہمیشہ کے لیے پابندی عائد ہو سکے۔
آخر میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمارے اداروں میں بیٹھے وہ عناصر جو ان غیر ملکیوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں، ان کی اور آن لائن چلنے والے تمام بزنسز کی کڑی جانچ کی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں پاکستانی شہریوں کو اس طرح کے بڑے آن لائن فراڈ سے بچایا جا سکے۔‘
