حسن نیت کے ساتھ عمل کر یں فائدہ ہی فائدہ

انسان کو چند روز کی محنت سے جنت نہیں ملے گی بلکہ اچھی نیت سے جنت حاصل ہوگی جس کی کوئی حد و انتہانہیں 
حافظ محمد ہاشم صدیقی ۔جمشید پور،ہند 
مولائے رحیم وکریم علیم بذات الصدور ہے۔ اللہ رب العزت دلوں کی بات ہی نہیں بلکہ وہ دل کی ہر دھڑکن کو جانتا ہے اور جاننے کے ساتھ ساتھ حساب بھی لے گا چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔‘‘ (البقرہ284)۔
’’نیت ‘‘کہتے ہیں دل کے پکے ارادے کو۔جو بھی کام ہم کریں گے اس میں نیت کی اچھائی و برائی دیکھی جائے گی اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں نیت کے اعتبار سے ہی سزاو جزا کا فیصلہ ہوگا۔ہمارا کوئی بھی عمل نیت کے بغیر قابل اعتبار نہیں۔ ہمارے سارے اعمال کا دارو مدار ہماری نیت ہے۔ خالص اللہ و رسولﷺ کی رضا جوئی کی نیت سے کام کرنا ہی فلاح کا ضامن ہے۔ 
بخاری شریف کی پہلی حدیثِ پاک ہمیں اخلاص نیت کی تعلیم دیتی ہے۔ اللہ رب العزت نے بخاری شریف کو وہ مقبولیت عطا فرمائی ہے کہ آج 12سو سال گزرنے کے باوجود یہ کتاب سند کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ حضرت امام بخاری ؒ  کا اخلاص ونیک نیتی ہے۔ امام بخاری فقہ و حدیث میں مجتہدانہ شان کے حامل ہیں۔ انہوں نے ایک ایک حدیث کو درج کرنے سے پہلے طہارت، نظافت اور پاکیزگی کے انتہائی اہتمام کے ساتھ نماز و دعا کا اہتمام فرمایا اور 16 سال کی گراں قدر محنت ومشقت کے بعد امت کو یہ عظیم ذخیرۂ حدیث عطا فرمایا، جس میں حضور سید عالم ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ کو دین اسلام اور اسلام کے ہر ہر جز کو امت کے سامنے پیش کر دیا تاکہ آپﷺ کی مکمل حیات ہمارے سامنے آجائے۔ 
چنانچہ بخاری شریف کی پہلی حدیث نیت کے بارے میں ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: 
’’بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور بے شک ہر انسان کے لئے وہی ہے جو وہ نیت کرے ، جس کی ہجرت اللہ و رسول (ﷺ)کے لئے ہے تو اللہ و رسول(ﷺ) کے لئے ہجرت کا ثواب اسے ملے گا اور جس کی ہجرت دنیا کے حصول یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لئے ہے تو اس کی ہجرت کا اجرو ثواب اسے وہی ملے گا جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔‘‘(صحیح بخاری، باب الایمان )۔
ً اگر ہم غور وفکر سے کام لیں تو صرف یہی ایک حدیث ہماری نیتوں کی درستگی اور اعمال کی پاکیزگی کے لئے کافی ہے۔ بڑے واضح اور جامع انداز میں نبی رحمتﷺ نے ہمارے عمل و کردار کا رخ متعین فرمادیا ہے کہ ہمارے سارے اعمال و افعال نیت کے بغیر صحیح نہیں ہوتے۔ جیسی نیت ویسی برکت۔ آقائے دو عالم ﷺ  کا ارشاد گرامی ہے :
’’ بندہ بہت سے نیک اعمال کوانجام دیتا ہے،فرشتے اس کو آسمان پر لے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان اعمال کو اس کے نامۂ اعمال سے نکال دو،کیونکہ اس نے یہ کام میری خوشنودی کے لئے نہیں کیے اور ہاں، فلاں فلاں اعمال اس کے نامہ اعمال میں درج کردو،فرشتے عرض کریں گے کہ الٰہ العالمین !اس بندے نے تو یہ کام کیے نہیں ، تب اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اس نے دل میں ان کاموں کی نیت کی تھی۔ 
حدیث پاک میں ہے:
نیۃالمؤمن خیرمن عملہ 
’’مومن کی نیت عمل سے بہتر ہے۔ ‘‘(المعجم الکبیر،طبرانی )۔
عمل و کردا رمیں دکھاوا، اہلِ دنیا کی خوشنودی شامل ہوسکتی ہے مگر نیت میں ریا(دکھاوا) کا دخل نہ ہوگا۔ہمارے کام کو اہل دنیا دیکھ سکتے ہیں مگر ہماری نیت کو مولائے علیم و خبیر دیکھتاہے لہٰذا ہمارے کام اور ہماری نیت کی جزا و سزا بھی رب تعالیٰ ہی عطا فرمائے گا۔ حدیث پاک کی روشنی میں ایک دلچسپ و سبق آموز واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔
سرکار دوعالم ﷺنے ارشاد فرمایا: 
’’یومِ قیامت بارگاہِ الٰہی میں ایک بندہ پیش ہوگاجس کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیاجائے گا جس میں حج ، عمرہ ، جہاد ، زکوٰۃ ، صدقہ لکھا دیکھے گا۔ بندہ دل میں کہے گاکہ میں نے اس میں کچھ بھی نہیں کیا ،یہ میرا نامہ اعمال نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا یہ تمہار اہی نامہ اعمال ہے۔ تم اپنی زندگی میں یہ کہتے تھے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا توحج و عمرہ کرتا ، صدقہ و خیرات کرتا، جہاد کرتا۔میں جانتا ہوں کہ تم اپنی اس نیت میں سچے ہو تو میں نے تم کو ان سب چیزوں کا ثواب عطا فرمادیا۔اور ایک ایسا بندہ بھی پیش کیاجائے گا جس کے ساتھ پہاڑوں جیسی نیکیاں ہوں گی۔منادی آواز دے گا :جس کسی کا اس پر حق ہو وہ بدلے میں اس کی نیکیاں لے لے۔یہ سن کر سارے لوگ آئیں گے اور اس کی نیکیاں لے جائیں گے،یہاں تک کہ نیکیاں ختم ہوجائیں گی۔ وہ حیران و ششدر رہ جائے گا۔ اس وقت رب کریم ارشاد فرمائے گا:تیرا ایک خزانہ میرے پاس ہے ،جس کی خبر نہ میرے فرشتوں کو نہ کسی مخلوق کو ہے۔ بندہ عرض کرے گا :بارِالٰہ وہ کیا ہے؟رب تعالیٰ فرمائے گا وہ تیری نیک نیتی ہے جسے تو نے دنیا میں کیا تھا۔ میں نے اسے 70گنا کرکے لکھ دیا ہے جو تیری نجات کے لئے کافی ہے۔‘‘
ً دیکھا آپ نے! مومن کی نیت نے مومن کو کیسے بچایا لہٰذا ثابت ہوا کہ مومن کے عمل سے بہتراس کی نیت ہے۔ اعمال صالحہ رکھتے ہوئے بھی حقوق العباد کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سارے اعمال تقسیم کردیئے گئے۔ اگر بچایا تونیت خالص نے بچایا۔نِیَّۃُالْمُؤمِنْ خَیْرٌمِّنْ عَمَلِہ ’’مومن کی نیت عمل سے بہتر ہے‘‘۔پہلے واقعے میں تو عمل کا کوٹہ بھی نہیں ہے۔ نہ حج وعمرہ نہ جہاد و زکوٰۃ مگر صرف نیت کی برکت نے سارے اعمال دفتر میں درج کرادیئے۔
4 قسم کے لوگ:
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ4 قسم کے لوگ ہیں: ایک وہ جومال رکھتا ہے اور علم کے مطابق مال کو خرچ کرتا ہے۔ دوسرا نیت و تمنا رکھتا ہے کہ اگر یہ مال میرے پاس ہوتا تو میں اس کو راہِ خدا میں خرچ کرتا... تو ان دونوں کا ثواب برابر ہے۔ تیسرا وہ کہ مال کو بے جاو ناروا خرچ کرتاہے اور چوتھا وہ یہ کہے  و  آرزو رکھے کہ میرے پاس مال ہوتا تو میں ایسا ہی کرتا تو ان دونوں کا گناہ یکساں و برابر ہے۔
معلوم ہوا کہ نیت اُس عمل کا حکم رکھتی ہے جو نیت کے مطابق ہو۔
کیمیائے سعادت میں حضرت امام غزالی رحمہ اللہ علیہ نے بنی اسرائیل کے ایک عابد کاقصہ درج فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک آدمی ریت کے ڈھیر کے قریب سے گزرا۔ قحط کا زمانہ تھا ۔اس نے کہا کہ اگر اس ٹیلے (ڈھیر) کے برابر میرے پاس گیہوں ہوتے تو میں فقیروں اور مساکین میں بانٹ دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اُس زمانے کے نبی پر وحی نازل فرمائی اور حکمِ الٰہی ہوا: اے میرے نبی! اس شخص سے کہہ دوکہ وہ صدقہ خدائے پاک نے قبول کر لیا ہے اور جس ڈھیر کے برابر گیہوں ہوتے اتنا ثواب تجھے عطا کیا گیا ہے اور اگر تُو نے صدقہ دینے کا عمل کیا ہوتا تو اتنا ہی ثواب تجھے ملتا۔
غزوۂ تبوک میں عد م شرکت ...ثواب شرکت کا: 
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سید عالم ﷺ  غزوہ تبوک کے لئے مدینہ منورہ سے باہر تشریف لائے تو ارشاد فرمایا کہ مدینے میں بہت سے لوگ رہ گئے ہیں مگر وہ ہمارے رنج و دکھ جو بھوک سفر سے ہم اٹھارہے ہیں اس میں وہ شریک ہیں۔ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! ایساکیوں ہے؟حالانکہ وہ ہم سے دور ہیں۔ نبی رحمت ﷺنے فرمایا:
’’وہ لوگ عذرکی وجہ سے ہمارے ساتھ جہاد میں شریک نہیں ہو سکے لیکن ان کی نیت ہماری نیت کی طرح ہے۔‘‘(نِیَّۃُالْمُؤمِنْ خَیْرٌمِّنْ عَمَلِہ)۔ 
ایمان کو مضبوط اورنیت کو اچھی بنانے کے لئے ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیں اِس بات کے بیان میں کہ عمل بغیر نیت اور خلوص کے صحیح نہیں ہوتے اور ہر آدمی کو وہی ملے گاجو نیت کرے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:
’’عمل نیت سے ہی صحیح ہوتے ہیں(یا نیت ہی کے مطابق ان کا بدلہ ملتا ہے)اورہر آدمی کو وہی ملے گا جو نیت کرے گا، پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی رضا کے لئے ہجرت کرے اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی طرف ہوگی، اور جو کوئی دنیا کمانے کے لئے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لئے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت ان ہی کاموں کے لئے ہوگی۔‘‘(بخاری :کتاب الایمان کے بیان میں )۔
نیکی کمانے کا آسان  نسخہ:
نیت اچھی رکھیں۔صالحین کرام و علما ئے کرام فرماتے ہیں کہ پہلے عمل کی نیت سیکھو اس کے بعد عمل کرو۔
ایک شخص لوگوں سے سوال کرتا پھرتا کہ مجھے کوئی ایساعمل سکھا ؤکہ رات دن اسی میں مصروف عمل رہوں اور کبھی نیکی و ثواب سے محروم نہ رہوں۔ تو ایک بزرگ نے فرمایاکہ ہمیشہ نیکی کی نیت رکھا کرو اور اسی نیک نیتی کے ساتھ عمل میں مصروف رہو،رات و دن نیکی و ثواب کی دولت ملتی رہے گی۔
حضرت امام حسن بصری ؒنے ارشاد فرمایاہے کہ انسان کو چند روز کی محنت سے جنت نہیں ملے گی بلکہ اچھی نیت سے جنت حاصل ہوگی جس کی کوئی حد و انتہانہیں ۔
شیخ احمد یحییٰ منیری رحمہ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں:
’’میرے بھائی شمس الدین!لکھنے والے کی طرف سے سلام و دعا کے بعد مطالعہ کرو کہ ہر شخص کو اس کی نیت کے ترازو میں تولاجائے گا۔ خلاصہ یہ ہے جان لو کہ نیت کا سر چشمہ اخلاص کے دریا سے ہے اور اسی سر زمین (یعنی اخلاص) میں اس کی پیدائش ہے۔ 
اسی لئے اس حدیث کی جبروتیت ہے کہ:اللہ تمہاری صورتوں اور کاموں کو نہیں دیکھتا مگر تمہارے دلوں اور نیتوں کو دیکھتا ہے( مسلم)۔
اور اس حدیث کی ہیبت و سیاست نے جگر کو کباب کردیا ہے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے:
’’قیامت کے دن لوگوں کا حشر ان کی نیتوں پر ہوگا۔‘‘
ہم کو تم کو خبر نہیں۔ کل قیامت کے دن جہان والے اس قدر چیخ ماریں گے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی۔ جب سامنے سے پردہ ہٹ جائے گا تو ظاہر ہوجائے گاکہ کس نے کیاکر رکھا ہے: شرک یا توحید، کفر یا اسلام ۔جب یہ بات مسلم ہوگئی کہ افعال و اعمال کی قدر نیت کے اعتبار سے ہوتی ہے اورنیت علم نہایت پاکیزہ و پرلطف ہے تو بقدر وسعت ہوشیار اور بیدار ہونا چاہئے اور تصحیحِ نیت میں پوری کوشش کرنی چاہئے۔ انشاء اللہ تعالیٰ امید ہے کہ بات حاصل ہوجائے گی۔ 
کلامِ الٰہی قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں نیت کا بیان صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ اس مقالہ میں سب لکھنا ممکن نہیں۔  صحابی ٔرسول اوربزرگانِ دین کے چند اقوال ملاحظہ فرمائیں اور پڑھ کر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
٭  سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ اکثر نیک نیت کیا کرو کیونکہ رِیا نیت میں داخل نہیں ہوتی۔‘‘
٭ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’ مجھے میری والدہ نے کہا: اے بیٹے!علم حاصل نہ کر جب تک تو اس پر عمل کرنے کی نیت نہ کر لے ورنہ قیامت کے دن وہ علم تیرے لئے وبال ہوگا۔‘‘
٭  حضرت ابو عبداللہ انطاکی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’ یومِ قیامت اللہ تعالیٰ ریاکار کوکہے گا کہ جا اپنے عمل کا ثواب ان لوگوں سے لے جن کو تُودکھانے کے لئے عمل کرتا تھا۔‘‘
٭ حضرت داؤد طالسی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ عالم جب کوئی کتاب لکھے تو اسے مناسب ہے اس سے نصرتِ دین کا قصد کرے نہ کہ حسنِ تالیف کے سبب اپنے ہم عصروں میں تعریف کا طالب ہو۔‘‘
٭ حضرت امام غزالی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’ اللہ تعالیٰ نیت کے معاملے میں دل پر اس لئے نظر فرماتا ہے کیونکہ دل ہی نیت کا مقام ہے اس لئے سید عالم ﷺ نے کاموں کا ثواب اور عمل کا دارومدار نیت سے ہے فرمایا۔ہر شخص کو عمل و عبادت کا ثواب اتنا ہی ملے گا جیسی اس کی نیت ہوگی۔‘‘(کیمیائے سعادت ، کشف القلوب )۔
اب اگر کسی کام میں ہماری نیت اہلِ دنیا کی خوشنودی حاصل کرنا ہے تو پھر اسے ریاکاری میں شمار کیا جائے گا۔ بندوں کو اگرچہ اس قبیح نیت کی خبر نہیں مگر جو علیم بذات الصدور ہے (اللہ دلوں کی بات جانتاہے) وہ دل کی ہر دھڑکن کو جانتاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب خوب جانتا ہے، اگر تم نیک ہو تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔‘‘(بنی اسرائیل25 )۔
توریت شریف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
جس عمل کومیں منظور کرلوں وہ اگر تھوڑا ہو، بہت ہے اور جسے میں رد کردوں وہ اگرچہ کثیر ہو، مگر وہ بہت ہی کم( یعنی اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں)ہے(تنبیہ المفترین، کشف القلوب)۔
ارشاد ربانی ہے:
’’ اللہ تمہارے کاموں کوجانتا ہے۔‘‘(البقرہ283)۔
اللہ سے دعا ہے کہ عبادات و معاملات میں ہمیں نیک نیتی کی دولت سے نوازے۔ آمین ،ثم آمین۔!!  
 
 

شیئر: