روزوں کا حقیقی مقصد کیا ہے؟

 
 کتنے ہی ایسے روزہ دارہیں جن کو روزوں سے صرف پیاس ملتی ہے اورکتنے قیا م کرنے والے ہیں جن کوقیام سے صرف بیداری ملتی ہے

* *  * محمدصدیق پِرہار۔ پاکستان ** *

          اللہ تعالیٰ کاامت مسلمہ پراحسان عظیم ہے کہ اس خالق کائنات نے اپنے پیارے محبوب رحمت دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کورمضان المبارک جیسا بابرکت اورعظمتوں والامہینہ عنایت فرمایا۔اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پرروزے فرض کیے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کافرمان عالی شان ہے :
     ’’ اے ایمان والو!تم پرروزے فرض کیے گئے ہیںجس طرح تم سے پہلے لوگوںپرفرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگاربنو۔‘‘ (البقرہ 183) ۔
    کتاب ’’قانون شریعت‘‘ کے صفحہ195 پرلکھا ہے کہ روزہ بھی مثلِ نمازکے فرض عین ہے۔اسکی فرضیت کامنکرکافراوربلاعذرچھوڑنے والاسخت گناہ گاراوردوزخ کاسزاوارہے۔جوبچے روزہ رکھ سکتے ہوں،ان کورکھایاجائے اورقوی مضبوط لڑکے لڑکیوں کومارکرروزہ رکھایاجائے ۔پورے ایک مہینہ رمضان کاروزہ فرض ہے۔
    شریعت میں روزہ کے معنیٰ ہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی نیت سے صبح صادق سے لیکرسورج ڈوبنے تک کھانے پینے اورجماع سے اپنے آپ کوروکے رکھنا۔مسلمان روزہ کی حالت میں کھانے پینے سے پرہیزکرتے ہیں۔کیاروزہ صرف بھوکاپیاسارہنے کاہی نام ہے؟کیاپورا ایک مہینہ روزانہ 15گھنٹے کچھ نہ کھانانہ پینا روزہ ہوجائیگا؟اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی جس آیت مبارکہ میں روزہ کی فرضیت کاحکم دیا ہے توساتھ یہ بھی فرمادیا ہے کہ یہ روزے کس لیے فرض کیے گئے ہیں۔روزوںکامقصدبھوک پیاس برداشت کرناہی ہوتا تواللہ تعالیٰ فرمادیتا کہ’’ تاکہ تم بھو کے پیاسے رہو‘‘،’’تاکہ تم فاقے سے رہو‘‘۔اللہ تعالیٰ نے ایساکچھ نہیں فرمایا بلکہ  فرمایا کہ’’ تاکہ تم پرہیزگاربنو‘‘۔روزہ کامقصدمسلمانو ں کوصرف بھوکاپیاسارکھنانہیں بلکہ پرہیزگاربناناہے۔ سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    ’’روزہ عذاب الٰہی کے لیے ڈھا ل ہے ،پس روزہ دارکوچاہیے کہ فحش بات نہ کہے اورجہالت کی باتیں(مثلاًمذاق، جھوٹ، چیخنا، چلانا  اورشوروغل مچاناوغیرہ) بھی نہ کرے اوراگراس سے کوئی شخص لڑے یااسے گالی دے تواسے چاہیے کہ  مرتبہ کہہ دے کہ میں روزہ دارہوں،قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، روزہ دارکے منہ کی خوشبواللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبوسے بھی زیادہ عمدہ ہے (اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ )روزہ داراپناکھاناپینااوراپنی خواہش وشہوت میرے لیے چھوڑدیتا ہے(تو) روزہ میرے ہی لیے ہے اورمیں ہی ا سکابدلہ دوںگا اورہرنیکی کاثواب10 گناملتا ہے (لیکن روزہ کاثواب اس سے کہیں زیادہ ملے گا)‘‘(بخاری)۔
     سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جوشخص جھوٹ بولنااوردغابازی کرنانہ چھوڑے تواللہ تعالیٰ کواس بات کی کچھ بھی پروانہیں کہ وہ (روزہ کانام کرکے) اپناکھانا پیناچھوڑ دے۔‘‘ (بخاری)۔
     سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن اس حال میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اوراس نے عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ!میںتوبربادہوگیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :کیا ہوا ؟اس نے عرض کیاکہ روزہ کی حالت میں مجھ سے یہ غلطی ہوگئی،تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کیاتُوایک غلام آزادکرسکتاہے؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں۔پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کیاتُوپے درپے 2مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے، تواس نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکیاتُو 60 مسکینوں کو کھاناکھلاسکتاہے تواس نے عرض کی کہ نہیں(سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں کہ پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توقف کیا۔ہم اسی حال میں تھے کہ کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجوروں سے بھرا ہواخرمے کی چھال کاایک ٹوکرالایا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سائل کہاں ہے ،تو اس نے عرض کیا:میں حاضرہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس ٹوکرے کولے لے اورخیرات کردے۔اس نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کیا!اپنے سے زیادہ محتاج کوخیرات دوں ،اللہ کی قسم مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی گھرمیرے گھرسے زیادہ محتاج نہیں  ۔ یہ سن کررسول ﷺ اتناہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دانت مبارک نظرآنے لگے۔ﷺ  نے فرمایا:اچھاپھراپنےہی گھروالوں کوکھلادے ۔‘‘
     اس حدیث مبارکہ سے بہت سے درس ملتے ہیں۔یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ روزہ کاکفارہ اس وقت 2صورتوں میں اداکیاجاسکتاہے کہ 2مہنے کے روزے رکھنا یا 60 مسکینوں کوکھاناکھلانا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جواس سائل کوکھجوروں کاٹوکرااس کو دے کراجازت دے دی کہ وہ یہ کھجوریں اپنے گھر والوں کو کھلادے تواس کاکفارہ اداہوجائے گا۔یہ اختیارصرف اورصرف ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی حاصل ہے۔دنیاکاکوئی اورشیخ الاسلام، کوئی شیخ الحدیث، کوئی مفتی، کوئی عالم اس طرح کافتویٰ نہیں دے سکتا۔
     اس حدیث مبارکہ سے ہمیں جودرس ملتے ہیں ان میں سے پہلادرس یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے مکمل اختیارات سے نوازرکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومکمل اختیارات سے نوازرکھا ہے کہ آپﷺ شریعت کے معاملات جس طرح چاہیں چلاسکتے ہیں۔ اس حدیث مبارکہ میں سائل نے جب کفارہ اداکرنے کی تینوں صورتوں میں کفارہ اداکرنے سے معذوری ظاہرکردی تواسکے بعد شریعت کی روسے اس کے روزے کاکفارہ اداکرنے کی کوئی صورت باقی نہیں تھی۔ رسول اکرم نورمجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شخص سے فرماسکتے تھے کہ اگر تُوان تینوں صورتوںمیں سے کسی ایک صورت میں بھی کفارہ ادانہیںکرسکتاتواس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی حل نہیں ۔
ً    شریعت میں روزہ کا کفارہ اداکرنے کی یہی3 صورتیں ہیں لیکن رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے ایساکچھ نہیں فرمایا۔کھجوروں کاٹوکراکسی نے خدمت اقدس میں پیش کیا تواس سے فرمایا کہ اسے مدینے کے غریبوںمیں تقسیم کردو۔ اس نے دیکھا کہ آج دریائے رحمت جوش میں ہے تواس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مدینے میں مجھ سے زیادہ غریب کوئی نہیں ۔اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جا اپنے ہی گھروالوں کوکھلادے۔ اس حدیث مبارکہ سے دوسرادرس یہ ملتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کایہ عقیدہ اورایمان تھا کہ ہماری تمام مشکلات کاحل سروردوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود ہے اس لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوجب بھی کوئی مشکل پیش آتی توبارگارہ نبوت میں حاضرہوجاتے تھے۔ یہ سائل بھی روزہ ٹوٹ جانے کے بعد بارگاہ رسالت میں حاضرہوااوراپنی مشکل پیش کی۔
    اس حدیث مبارکہ سے یہ درس بھی ملتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پرہیزگاری کے کس درجہ پر فائز تھے ۔ اگربشری تقاضوں کے مطابق کسی صحابی سے کوئی غلطی ہوجاتی تووہ اسکے ازالہ کی فوری کوشش کرتے ، بارگاہ رسالت میں پیش ہوکراپنی غلطی کی تلافی کی درخواست کرتے،اپنی غلطیو ں کوچھپاتے نہیں تھے۔اس حدیث مبارکہ سے ایک اوردرس یہ بھی ملتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کواپنے اعمال ء اپنی غلطیوں کاکتنا احساس ہوتا تھا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس طرح کی غلطیاں اس لیے ہوجاتی رہی ہیں کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کودین سکھانامقصودتھا ، کہ جب کسی امتی سے ایسی غلطی ہوجائے تووہ اس غلطی کاکفارہ یاازالہ اس طرح کرے۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حسن تربیت و فیضانِ نظرکاہی اثرہے کہ صحابہ کرام پرہیزگاری کے اعلیٰ درجہ پرفائزتھے یہی وجہ ہے کہ اس صحا بی سے جب روزہ ٹوٹ گیا تووہ بارگاہ نبوت میں پیش ہوگئے ۔یہ بات تووہ پہلے سے ہی جانتے تھے کہ کفارہ کی تینوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں وہ کفارہ ادانہیں کرسکتے۔جب ایسی صورتحال ہوجائے توذراسوچیں مسلمان کی کیاکیفیت ہوگی۔ اس کی بے بسی ومجبوری نہ جانے اسے کیا کیاصدمات سے دوچارکررہی ہوگی۔اس صحابی کاایمان اورعقیدہ تھا کہ اگرچہ میں کسی بھی صورت میںکفارہ ادانہیں کرسکتالیکن میری اس مشکل کاحل بارگاہ نبوت سے ہی ملے گا۔ وہ اپنے عقیدہ پرثابت قدم رہے ۔بارگاہ نبوت سے انہیں اس  مشکل کاایساحل بھی مل گیا جونہ اس سے پہلے کسی کوملااورنہ ہی اس کے بعد۔
     حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    ’’جوشخص بغیرکسی رخصت یامرض کے رمضان کاایک روزہ افطارکرلیتا ہے، زمانہ بھرروزے رکھنااس کی قضانہیں بن سکتا ،اگرچہ تمام عمرروزے رکھے۔‘‘(مشکوٰۃ)۔
    اس سے اگلے صفحہ پرلکھی ہوئی حدیث مبارکہ کامفہوم یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    ’’ کتنے ہی ایسے روزہ دارہیں اُن کوروزوں سے صرف پیاس ملتی ہے اورکتنے رات کو قیا م کرنے والے ہیں اُن کوقیام سے صرف بیداری ملتی ہے۔‘‘(مشکوٰۃ)۔
    ایسے روزہ دارموجودہ دورمیں کثرت سے پائے جاتے ہیں جن کوروزہ رکھنے سے پیاس اورتراویح پڑھنے سے بیداری ہی ملتی ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :
    ’’جوشخص (روزہ رکھ کر) بری بات کہنااوراس پرعمل کرناترک نہ کرے تواللہ تعالیٰ کواس کی پروا نہیں کہ اس نے کھاناپیناچھوڑدیا ہے ۔‘‘
    اس حدیث کے تحت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ روزہ قبول نہ ہوگا اس لیے کہ روزہ کے مشروع اورواجب کرنے کامقصدیہی بھوک اورپیاس نہیں بلکہ لذتوں کی خواہشات کاتوڑنااورخودغرضی کی آگ بجھا نامقصودہے تاکہ نفس خواہشات کی جانب راغب ہونے کی بجائے حکم الٰہی پرچلنے والاہوجائے۔
               روزہ کامقصد بھوک وپیاس برداشت کرنانہیں بلکہ پرہیزگاری کی تربیت حاصل کرنا ہے۔ علامہ رضاثاقب کہتے ہیں کہ جہاں ہم 29شعبان المعظم کوکھڑے ہوتے ہیں یکم شوال المکرم کوبھی اسی جگہ کھڑے ہوتے ہیں۔ پوراایک مہینہ ہم بھوک وپیاس میں گزاردیتے ہیں اسکے علاوہ ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔آج کے مسلمانوں کے روزے بھوک وپیاس پرہی مشتمل ہوتے ہیں۔ روزہ کے دیگرعوامل پرعمل کرنا اب بہت کم دکھائی دیتا ہے۔کسی نے رمضان المبارک سے چندروزپہلے فیس بک پرکیاخوب لکھا کہ اب وہ مہینہ آنے والا ہے جس میں 50 روپے کی چیز200روپے میں بیچ کردوکاندارکہے گا کہ جلدی کرو کہیں نمازنہ رہ جائے۔
عام  دنوں میں چائے پانی کاخرچہ مانگاجاتاہے اوررمضان المبا رک میں افطاری کاچاہے روزہ کسی کابھی نہ ہو۔روزہ رکھ کرجھوٹ بولنا، فراڈ کرنا، دھوکہ دینا، ذخیرہ اندوزی کرنا، زیادہ منافع لینا، ماتحت افرادسے عام دنوں کی نسبت زیادہ کام لینا، دونمبر، غیرمعیاری اورناقص اشیاء سستے داموں بیچ کر احترام رمضان المبارک کانام دے دینا، روزہ رکھ کرچغل خوری کرنا، ایک دوسرے کاحق غضب کرنا، گالیاں دینا، زبان درازی کرنا، بہتان تراشی کرنا، وعدہ خلافی کرنا، کمزوراوربے سہارو ں پرظلم کرنا، لوٹ مارکرنا، مہنگائی کاطوفان کھڑاکرنا ، بدنگاہی، بدزبانی اوربدکلامی جاری رہے توایسے روزے کاکوئی فائدہ نہیں۔ کوئی یہ بھی نہ سمجھ لے کہ پھرتوروزہ رکھاہی نہ جائے ۔ روزہ توفرض ہےضرورضروررکھاجائے۔ روزہ کے ساتھ ساتھ اسکے دیگرعوامل پربھی سختی سے عمل کیاجائے ۔
    سب روزہ دارہی ایسے نہیں ہوتے۔ اب بھی ایسے روزہ دارموجودہیں جوصحیح معنوں میں روزہ رکھتے ہیں' روزہ کے حقوق پورے کرتے ہیں۔ ایساکام نہیں کرتے جس سے روزہ پراثرپڑتاہو۔ صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی رضا اوررسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی کے لیے ہی روزے رکھتے ہیں۔ ایسے روزہ داروں کواللہ تعالیٰ روزہ کاپوراپورااجردے گا۔
مزید پڑھیں:- - - - -طاق رات اور شب جمعہ، لیلۃ القدر کا امکان
 
 

شیئر: