Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زمبابوے میں فتح سے ٹیم کو مزیداعتماد ملا

 
لندن:سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر رمیزراجہ نے کہا ہے کہ فخرزمان نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے بڑی ٹیموں کی معیاری بولنگ کو بھی غیرموثر بنادیا اور وہ حالیہ سیریز کے دوران واضح فرق ثابت ہوئے۔ رمیز راجہ نے کہا کہ میں نے پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دوسرے ون ڈے کے بعد ٹویٹ کیا تھا کہ اس سیریز میں کوئی پاکستانی بیٹسمین ڈبل سنچری کی طرف کیوں نہیں دیکھ رہا؟ اگر زمبابوے کے خلاف نہیں تو پھر کس کے خلاف؟ایسا محسوس ہوتاہے کہ فخرزمان نے اس ٹویٹ کا سب سے زیادہ اثر لیا کیونکہ صرف 4روز بعد وہ چوتھے ون ڈے میں ڈبل سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹسمین بن گئے۔فخرزمان نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے بڑی ٹیموں کی معیاری بولنگ کو بھی غیرموثر بنایا ہے۔ درحقیقت وہ اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کی وجہ سے پاکستان کی فتح کا محرک بنے۔ رمیز نے کہا کہ ڈبل سنچری چاہے آپ کلب میچ میں بھی بنائیں یہ کبھی آسان نہیں ہوتی۔ فخرزمان اس سیریز میں لاجواب کھیلے۔رمیز راجہ کا اپنے ٹویٹ کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ اس کے ذریعے پاکستانی کھلاڑیوں کو کسی بڑی کارکردگی کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے شروع میں مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس ٹیم کے لیے صرف جیتنا ضروری ہے اور ہونا بھی چاہیے تھا لیکن جب آپ اور آپ کے حریف میں بہت واضح فرق ہو تو پھر آپ کوئی ورلڈ ریکارڈ پرفارمنس دکھا کر ہی شہ سرخیوں میں جگہ بناسکتے ہیں اور یہی بات میں نے اپنے ٹویٹ میں اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر کوئی ڈبل سنچری یا عالمی ریکارڈ پارٹنرشپ نہیں بنتی تو پھر مزا نہیں آئے گا۔رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ زمبابوے کے خلاف حاصل کردہ اعتماد ٹیم کو آنے والے میچوں میں کام آئے گا۔یہ سیریز پاکستانی ٹیم کے لیے تیاری کے نقطہ نظر سے ٹھیک تھی کیونکہ اس سے کھلاڑیوں کو جو اعتماد ملا ہے وہ اس سے آنے والی سیریز میں فائدہ اٹھائیں گے۔ اگلی سیریز کھیلتے وقت فخرزمان کو اپنی ڈبل سنچری یاد رہے گی۔ اسی طرح امام الحق کو اپنی ورلڈ ریکارڈ پارٹنرشپ اور سنچریاں یاد رہیں گی تاہم پاکستان کو اچھی اور بڑی ٹیموں کے خلاف بہتر کارکردگی دکھا نا ہوگی۔رمیز راجہ نے کہا کہ آصف علی کی شکل میں ہمیں ایک قابل اعتماد بیٹسمین ملا ہے۔آصف علی اچھی دریافت ہیں اگر اچھی اوپننگ پارٹنرشپ قائم ہوجائے تو پھر آصف علی کو تیسرے نمبر پر بھی کھلایا جاسکتا ہے۔ نوجوان کرکٹرز کے آنے سے پاکستانی ٹیم کی محدود اوورز کی کرکٹ بھی بدل گئی ہے۔ نوجوان کرکٹرز نے اپنی صلاحیتوں سے سفید گیند کی کرکٹ میں ہمارا ڈی این اے بدل دیا ہے اورہر کھلاڑی لاجواب پرفارمنس دے رہا ہے۔

شیئر: