Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آرائش کا حکم د یتا ہے ، نمائش کا نہیں

 مغرب کی اندھی تقلید نے عورت کو بے حیائی کی دلدل میں گھسیٹ کرمسلم خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا ہے
رسول اللہ   کا ارشاد ِ مبارک ہے:
’’حیا ء   اور ایمان ایک دوسرے کے ساتھی ہیں ،جب ایک اٹھ جاتا ہے تودوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔ ‘‘(مشکوٰۃ)۔
آئیے دیکھیں، سوچیں! اورغور کریںکہ حجاب کیا ہے، اس کے فوا ئد کیا ہیں اور اس کے ترک کرنے پر کیا نقصانات ہیں؟
حجاب عربی لغت میں 2 چیزوں کے درمیان حائل ہوجانے والی اس آڑ یا اوٹ کا نام ہے جس کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے سے او جھل ہو جاتے ہیں۔ حجاب اسلامی شعار اور امت مسلمہ کا تشخص ہے اور اس کا مقصد ستر حاصل کرنا اور فتنے سے بچنا ہے۔ حجاب محض سر پر ڈھا نکے جانے والا کپڑا نہیں بلکہ مسلم و پاکیزہ عورت کی شنا خت اور عصمت کا محافظ ہے۔حقیقی حُسن بے حیا ئی و بے حجابی میں نہیں بلکہ حقیقی حسن وہ ہے جو آنکھوں کو حیاء   اور دل کو ایمان و تقو یٰ سے معمور کر تا ہے۔ حجاب کا تعلق نظر، زبان اور لباس سے ہے۔ شرم و حیا ء   عورت کا زیور ہے اور پردہ و حیاء دونو ں باہم مشروط ہیں۔ رسول اللہ   کا ارشاد  ہے:
’’عورت پوشیدہ چیز ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک جھانک میں لگا رہتا ہے۔‘‘ (ترمذی)۔
نیز فرمایا:
’’جب تجھ میں حیاء نہیں تو پھر جو تیرا دل چا ہے کر۔‘‘(بخاری)۔
اسلام آرائش کا حکم دیتا ہے نما ئش کا نہیں جبکہ مو جودہ معا شرے میں اظہار ِحسن و جما ل کی خوا ہش نے  آج کی عورت کے ذہنوں پر تسلط جما کر   بے حیائی میں مبتلا کر دیا ہے۔ کہیں فن کے نام پر، کہیں ترقی کے نام پر، کہیں آرٹ کے نام پر   عورت کی نہ صرف شرف ِنسوانیت پامال کی ہے بلکہ مغرب کی اندھی تقلید نے عورت کو بے حیائی کی دلدل میں گھسیٹ کرمسلم خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا ہے۔ کسی بھی معا شرے یا ریا ست کی تعمیر میں خاندان ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مضبوط و مستحکم خاندان قوی معا شرے کی بنیا دی اکا ئی ہے۔ آزادیٔ نسوا ں کی آڑ میں بے حجابی کے فروغ نے موجودہ ملحدانہ اور لا دینی نظام پر مبنی معا شر ہ قا ئم کر کے عورت کی تحقیر و تذلیل کی ہے۔کوئی بھی قوم اسوقت تک زوال پذیر نہیں ہو تی جب تک اسکی عورتیں زیور ِحیاء سے مزین اور مرد شمشیرِغیرت سے مسلح ہوں۔ ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق  حیاء   ہے۔حجاب حکم الہٰی ہے اور بدکاری و بد نظری سے بچاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو تبرج الجاہلیہ کیساتھ نکلنے سے منع فرمایا ہے ۔ تبرج سے مراد عورت کی زینت اور محاسن، سر، چہرہ، گردن، سینہ ، بازو اور پنڈلی کی نمائش ہے۔ حجاب کا اصل مقصد عورت اور مرد کے آزادانہ اختلاط میں رکادٹ قائم کر کے فحاشی و بے حیائی کا سد باب
 کرکے پاکیزہ معاشرہ وجود میں لانا ہے۔ باحجاب عورت کیلئے معاشی ترقی کی راہیں کھلی ہیں اور حجاب اعلیٰ تعلیم اورترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ۔ فی الحقیقت حجاب خاموش دعوتِ دین ہے  اور دل کا پردہ۔آنکھ میں حیاء اور نیت کی پاکیزگی کا عملی اظہار حجاب ہے۔ غرضیکہ فرمان رسول اللہ  کے مطا بق:
’’حیا ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں لے جاتا ہے۔ حیاء  ایمان میں سے ہے اور ایمان کا راستہ جنت ہے ۔بے حیا ئی کوڑا کرکٹ ہے اور کوڑا کرکٹ آگ میں لے جاتا ہے۔‘‘ (ترمذی)۔
حجاب عورت کو آزادی، تحفظ، شناخت، عزت و وقار عطا کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حجاب اختیا ر کر کے حیاء   و عفت کی مضبوط ڈھال اپنے گرد قائم کرلی جائے اور ارد گرد بے حیائی و فحاشی پر مبنی بل بورڈز، ہورڈننگزکی حوصلہ شکنی کر کے ارباب اقتدار پر دباؤ ڈالتے ہو ئے بے حجابی کے فروغ کی روک تھام میں اپنی بھر پور کوشش کی جائے اور اصلا حِ معاشرہ میں اپنا بھر پور حصہ ڈالا جائے۔
 
 
 
 
 

شیئر: