خراٹے بھی خطرناک ہوتے ہیں،ماہرین

لندن ۔۔۔ یہاں حال ہی میں جاری ہونے والی ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ کسی نہ کسی وجہ سے نیند میں خراٹے لینے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں مگر ان میں سے بہت سے لوگ نیند سے بیدار ہونے کے بعد یہ تسلیم کرنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں کہ وہ گزشتہ رات کو خراٹے لیتے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی اس کیفیت سے غفلت برتتے ہیں اور دوائیں نہیں لیتے ا ور اسی غفلت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خراٹے لینے والے شخص کا حافظہ بتدریج ختم ہونے لگتا ہے۔ اس کیفیت سے دوچار ہونے والے لوگوں کے نام ، راستے، مکانات اور بہت سی چیزوں کو بمشکل ہی یاد کر پاتے ہیں کیونکہ خراٹوں کی وجہ سے انکے دماغ کا وہ حصہ بری طرح متاثر ہوتا ہے جسے آپ ”حافظہ خانہ “کہتے ہیں۔ یہ مرض شدت اختیار کر جائے تو لوگ اپنا بچپن ، جوانی اور حالیہ زندگی کو بھی ٹھیک طرح سے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔طبی نظریات کے مطابق انسان خراٹے اس وقت لیتا ہے جب آپ کے دماغ ”مغز“ میں آکسیجن کی کمی واقع ہوتی ہے۔ واضح ہو کہ اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں 15لاکھ افراد خراٹے لینے کے عادی ہیں یا وقتاً فوقتاً خراٹے لینے کے عادی ہیں۔

شیئر: