Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وطن واپسی پر نواز شریف کو کن قانونی مراحل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

نواز شریف نومبر 2020 میں علاج کے لیے لندن روانہ ہوئے تھے (فوٹو: روئٹرز)
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف تقریباً تین سال لندن میں گزارنے کے بعد سیاسی طور پر متحرک ہوئے ہیں اور حال ہی میں انھوں نے متحدہ عرب امارات میں نہ صرف اتحادی سیاسی جماعتوں بلکہ اپنی جماعت کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں اور اجلاسوں کی صدارت کی ہے۔  
ان اجلاسوں کے بعد مسلم لیگ ن یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ نواز شریف جلد وطن واپس آ کر نہ صرف ملکی سیاست میں متحرک ہوں گے بلکہ وہ چوتھی بار ملک کے وزیراعظم بھی بنیں گے۔  
اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت دیگر لیگی رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آئے جن میں وہ نواز شریف کو چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنانے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔  

نواز شریف کا اس وقت قانونی سٹیٹس کیا ہے؟ 

سابق وزیراعظم نومبر 2019 میں لندن روانگی سے قبل نیب عدالت کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس کیس میں سات سال کی سنائی گئی سزا میں کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔ انھیں نیب نے دوسرے کیس میں تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے رکھا تھا جہاں ان کی طبیعت ناساز ہوئی اور سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔  

وزیراعظم سمیت کئی رہنما کہہ چکے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی الیکشن مہم نواز شریف چلائیں گے۔ (فوٹو: پی ایم ایل این)

عدالت میں نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے جمع کرائی گئی یقین دہانی کے باوجود جب وہ واپس نہیں آئے تو عدالت نے انھیں ایک سال بعد دسمبر 2020 میں اشتہاری قرار دیا۔  
سپریم کورٹ کے وکیل حافظ احسان کھوکھر کے مطابق ’اس وقت نواز شریف نہ صرف ایک سزا یافتہ قیدی ہیں بلکہ قانون کی نظر میں اشتہاری بھی ہیں۔‘  
ان کے مطابق ’نواز شریف کو کسی بھی عدالت سے کوئی ریلیف لینے کے لیے سب سے پہلے خود کو سرنڈر کرنا ہو گا۔‘  

وطن واپسی پر کیا ہو گا؟  

نواز شریف کی عدم واپسی کے باعث مسلم لیگ ن بھی نواز شریف کے قانونی سٹیٹس کے بارے میں جانتی ہے۔ اسی وجہ سے سابق وزیراعظم کی وطن واپسی کے لیے جہاں سیاسی محاذ پر تیاریاں شروع کر دی ہیں اور اپنے امیدواران اور کارکنان کو متحرک کرنا شروع کر دیا ہے وہیں قانونی محاذ پر بھی قانونی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی نواز شریف کی واپسی کی صورت میں انھیں قانونی ریلیف دلوانے کے لیے متعدد آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس قانونی ٹیم کے سربراہ ہیں۔
 

وکیل احسان کھوکھر کا کہنا ہے کہ عدالت سے ریلیف لینے کے لیے نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اردو نیوز سے گفتگو میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ’یہ تو طے ہے کہ نواز شریف نے انتخابی مہم شروع کرنے کے لیے پاکستان آنا ہے اور اگر وہ انتخابی مہم نہیں چلاتے تو ن لیگ کے لیے الیکشن لڑنا ناممکن ہے۔ اب ان کی واپسی کے لیے جو قانونی تقاضے ہیں ان کو دیکھ رہے ہیں اور کوشش ہو گی کہ اس حوالے سے تمام رکاوٹوں کو قانونی طریقے سے دور کیا جائے۔‘ 
سینیئر وکیل حافظ احسان کھوکھر کے مطابق ’اگر نواز شریف ابھی وطن واپس آتے ہیں تو ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے اگر وہ پاکستان آنا چاہتے ہیں تو ان کے وکلا ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر سکتے ہیں کہ نواز شریف وطن واپس آکر اپنے مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں اور وہ سرنڈر کرنا چاہتے ہیں۔‘  
انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست اس لیے نہیں دی جا سکتی کہ ان کا سٹیٹس صرف اشتہاری ملزم کا نہیں بلکہ مجرم کا ہے۔ اس لیے ان کے پاس سرنڈر کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔‘  

نا اہلی کیسے ختم ہو گی؟  

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق ’نواز شریف کی نااہلی کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ نے جس قانون سازی پر حکم امتناع دے رکھا ہے وہ ختم ہونے کے بعد نااہلی کی سزا ختم کرنے کے لیے درخواست دائر کی جائے گی۔‘  

وزیر قانون نواز شریف کی واپسی میں رکاوٹوں کو قانونی طریقے سے حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ (فوٹو: اے پی پی)

اسی طرح وفاقی حکومت نے قانون سازی کے ذریعے نا اہلی کی سزا پانچ سال تک محدود رکھنے کے حوالے سے قانون سازی بھی کر لی ہے۔  
نااہلی کے خاتمے کے حوالے سے ایڈووکیٹ حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ ’نواز شریف کیس میں کافی نکات کا حل ہونا باقی ہے۔ ان کی پہلی نااہلی سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے ہوئی۔ جس کے خلاف نظرثانی اپیل کا حق وہ استعمال کر چکے ہیں۔ پارٹی سربراہ والے کیس میں وہ اپیل کر سکتے ہیں جبکہ اب جو قانون سازی ہوئی جس میں 62 ون ایف کو ریگولیٹ کیا گیا ہے تو طے ہونا ہے کہ کیا یہ قانون نواز شریف کے لیے لاگو ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اس بارے میں حتمی فیصلہ عدالتوں میں ہی ہو گا۔‘  
حکومتی ٹیم کے مطابق اگر الیکشن کے لیے 90 روز کا وقت ہوا تو نواز شریف کی واپسی سے پہلے شروع کی گئی قانونی کارروائی کے ذریعے انتخابی شیڈول آنے سے پہلے نواز شریف کی نہ صرف سزا معطلی بلکہ نااہلی بھی ختم کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جس کے بعد نواز شریف انتخابی میدان میں ہوں گے۔

شیئر: