Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوڈان شدید لڑائی اور بارشوں کی لپیٹ میں، انٹرنیٹ، موبائل سروس منقطع

سوڈان میں 15 اپریل سے فوجی اور نیم فوجی دستوں کے درمیان لڑائی جاری ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جس سے شہر میں انٹرنیٹ سمیت رابطے کے دوسرے ذرائع منقطع ہوئے ہیں جبکہ انسانی حقوق کے اداروں نے صورت حال کی مزید خرابی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے خرطوم میں موجود سورس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جمعے کو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہو گئی اور جمعے کو پورا دن ہی شہر کے جنوبی حصے کے علاوہ آرمی ہیڈکوارٹر کے قریب سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیتے رہے۔
سورس کے مطابق ’فوج اور نیم فوجی دستوں کے ایک دوسرے پر حملوں میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ دریائے نیل کے کنارے قائم شہر اومڈرمن میں جنگی جہازوں اور ڈرونز کی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔
15 اپریل سے سوڈانی فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان لڑائی جا رہی ہے۔ سوڈانی فوج کی جانب سے آرمی چیف عبدالفتاح البرہان جبکہ نیم فوجی دستوں کی کمانڈ انہی کے نائب رہنے والے محمد ہمدان ڈاجیو کر رہے ہیں۔
جھڑپوں کے دوران اب تک کم سے کم تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس کے دوران خرطوم اور مشرقی شہر ڈارفر میں بدترین تصادم ہوا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے 10 لاکھ 70 ہزار سے زائد رہائشیوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے کیونکہ اس پر مسلسل فضائی حملے جاری رہے جبکہ ٹینک گلیوں میں پھرتے رہے جس کے دوران لوٹ مار کے واقعات بھی ہوئے۔
نقل مکانی نہ سکنے والے اپنی بنیادی ضروریات، فرار ہونے کے راستوں اور خوراک و ادویات کے حوالے سے انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات حاصل کرتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار رک برینن نے جمعے کو بتایا کہ 20 لاکھ 40 ہزار سے زائد اپنے ملک کے اندر ہی بے گھر ہو چکے ہیں اور جن علاقوں میں وہ موجود ہیں وہ غیرمحفوظ ہیں اور وہاں سامان کی فراہمی بھی بہت کم ہے۔
ان کے مطابق ’جھڑپوں کے بعد پہلے سے ہی ناکافی سہولتوں صحت کے شعبے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور 80 فیصد ہسپتال فعال نہیں رہے۔‘
خرطوم سے جنوبی حصے کی طرف جانے والی بڑی سڑک پر واقع شہر کوسٹی کو موسمیاتی کا بھی سامنا ہے۔
نارویجن رفیوجی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ جمعے کو شروع ہونے والی بارش سے سیلاب آ گیا ہے جس کے باعث جہاں رہائشی مشکل میں ہیں وہیں خرطوم سے جان بچا کر پہنچنے والے دو لاککھ ساٹھ ہزار افراد کے مصائب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
امدادی تنظیمیں جو کئی بار ان علاقوں میں سامان کی فراہمی کے لیے راہداری فراہم کرنے کا مطالبہ کر چکی ہیں، نے خبردار کیا ہے کہ جون میں شروع ہونے والا بارشوں کا سلسلہ سیلابی پانی سے پھوٹنے والے بیماریوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
شعبہ صحت کے کارکنوں اور امدادی تنظیموں کے اہلکاروں کے درمیان جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں بتایا گیا کہ ملک کی 18 میں سے 11 ریاستوں میں خسرہ وبائی شکل اختیار کر گیا ہے جبکہ ہیضے اور آلودہ پانی سے لگنے والی دیگر بیماریوں کے 300 سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں اور سات اموات بھی ہو چکی ہیں۔
ہلال احمر کے عہدیدار پائیرے ڈوبیس کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان کے علاقے میں شمالی بارڈر کی بندش سے سامان نہیں پہنچ پا رہا اور بازار خالی پڑے ہیں جس سے صورت حال میں مزید خرابی پیدا ہوئی ہے۔
ان کے مطابق ’جب سے لڑائی شروع ہوئی ہے ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد نے جنوبی سوڈان کی طرف نقل مکانی کی ہے۔
خیال رہے سعودی عرب اور امریکہ کی ثالثی کوششوں سے سوڈانی فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدہ بھی ہوا تاہم اس کی خلاف ورزی کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں۔

شیئر: