Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’فکر، مایوسی، فخر‘: طالبان حکومت میں افغان کیسی زندگی گزار رہے ہیں؟

افغان طالبان نے 15 اگست 2021 کو کابل کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
دو سال قبل جب طالبان نے امریکہ کے خلاف 20 سال کی جنگ لڑنے کے بعد کابل کا کنٹرول حاصل کیا تو بہت سے افغانوں اور خاص طور پر خواتین کی زندگی ڈرامائی طور پر بدل گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سقوط کابل کے دو برس بعد چار افغانوں (ایک کاروباری خاتون، کسان، سابق طالب جنگجو اور میڈیکل کی طالبہ) سے گفتگو کی ہے کہ ان کی زندگیوں پر ہونے والی تبدیلیوں نے کیا اثر ڈالا ہے۔

اپنی کمپنی چلانے والی آرزو عثمانی

طالبان جب اقتدار میں آئے تو آرزو عثمانی ’خوفزدہ اور اداس‘ تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے دس دن تک اپنا کمرہ نہیں چھوڑا۔ میں ایسا سوچ رہی تھی جیسے سب کچھ میرے لیے اور دیگر افغانوں کے لیے ختم ہو گیا تھا۔‘
30 برس کی آرزو عثمانی نے 2021 میں دوبارہ قابل استعمال سینیٹری پیڈز بنانے والی ایک کمپنی قائم کی تھی۔
’لیکن میں جب گھر سے باہر گئی تو لوگ اپنی زندگیوں کے بارے میں سوچ رہے تھے جس سے مجھے امید ملی اور میں نے خود سے کہا کہ مجھے یہیں رہنا ہے۔‘
انہوں نے غیریقینی صورتحال کی وجہ سے اپنا کاروبار بند کر دیا جس میں 80 خواتین کام کر رہی تھیں۔ لیکن دو ماہ بعد دوبارہ کاروبار کا آغاز کر دیا۔

آرزو عثمانی 2021 میں دوبارہ قابل استعمال سینیٹری پیڈز بنانے والی ایک کمپنی قائم کی تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد غیر سرکاری اداروں (این جی اوز) میں خواتین کے کام پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور گزشتہ ماہ بیوٹی پالر بھی بند کر دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم صحت کے شعبے میں کام کرتے ہیں، اس لیے ہم کام کام کر رہے ہیں اور اب میں اچھا محسوس کرتی ہوں۔‘
لیکن این جی اوز کی سرگرمیوں میں کمی آنے کے بعد ان کے کاروبار کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ آرزو عثمانی کی کمپنی میں اب 35 خواتین کام کرتی ہیں اور خریدار بھی کم ہو گئے ہیں۔

ایک کسان جو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

راحت اللہ عزیزی سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے پر شکر گزار ہیں۔
وہ کابل کے شمال میں صوبہ پروان میں اپنے چھوٹے فارم کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ’بغیر پریشانی کے دن رات گھوم سکتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے۔‘
ان کے مطابق ’اگست 2021 کے بعد بہت تبدیلی آئی ہے۔ پہلے جھگڑا تھا اور اب سکون ہے۔‘
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن یوناما کی سالانہ رپورٹ کے مطابق مسلح تصادم کے نتیجے میں 2009 سے 2020 کے دوران 38 ہزار شہری ہلاک اور 70 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔
تاہم دو بچوں کے والد راحت اللہ عزیزی معاشی مشکلات کی وجہ سے پریشان ہیں۔

راحت اللہ عزیزی سکیورٹی صورتحال سے مطمئن ہیں لیکن ان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

افغانستان کی معیشت جو پہلے ہی دہائیوں کی جنگ سے متاثر ہے، اب طالبان کی حکومت پر قبضے کے بعد بین الاقوامی امداد میں اربوں ڈالر کی کٹوتی کی وجہ سے بحران کا شکار ہے۔
راحت اللہ عزیزی کا کہنا ہے کہ ’میں سات کلو ٹماٹر 200 افغانی کا بیچا کرتا تھا لیکن اب صرف 80 افغانی پر بیچتا ہوں۔‘

طالب جنگجو جو اب پولیس اہلکار

طالبان کی اقتدار میں واپسی 23 برس کے لال محمد کے لیے معاشی استحکام لائی ہے۔
وہ چار برس قبل طالبان میں شامل ہوئے تھے اور اب دوسرے بڑے شہر قندھار میں پولیس افسر ہیں۔
لال محمد کو 12 ہزار افغانی (142 ڈالر) کی تنخوا ملتی ہے جو ان کے خاندان کے لیے کافی ہے۔
وہ باقاعدہ تنخواہ لینے پر خوش ہیں اور ان کو گاڑیاں رکھنے اور پیسہ کمانے کا شوق بھی نہیں۔
’میرا خواب تعلیم حاصل کرنا اور امارت اسلامیہ کی خدمت کرنا ہے۔ میں آخری دم تک اس کے ساتھ رہوں گا۔‘

لال محمد پہلے ایک طالب جنگجو تھے اور اب ایک پولیس افسر ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

طالبان کی تحریک نے قندھار میں جنم لیا تھا جس نے پہلی مرتبہ 1996 سے 2001 تک حکومت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم بہت خوش ہیں۔ ہمارے کوئی مسائل نہیں۔ کوئی جنگ اور جھگڑا نہیں۔ ہم امارت اور لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔‘

میڈیکل کی سابق طالبہ مستقبل کی تلاش میں

ہماسہ باور نے ایک مرتبہ میڈیکل کے شعبے میں افغانستان میں اپنے مستقبل کا تصور کیا تھا۔
جب سے طالبان کی حکومت آئی اور خواتین کو یونیورسٹیوں سے روک دیا گیا تو وہ اب صرف ملک سے باہر ہی یہ امید کر سکتی ہیں۔
20 برس کی مزار شریف کی رہائشی کا کہنا ہے کہ ’یونیورسٹیوں کی بندش نہ صرف میرے بلکہ میرے تمام ہم جماعتوں کے لیے ایک صدمہ تھا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ایک لڑکی تعلیم یافتہ ہو گی تو تمام گھرانہ تعلیم یافتہ ہو گا اور اگر ایک گھرانہ تعلیم یافتہ ہو گا تو تمام معاشرہ تعلیم یافتہ ہو گا۔ اور اگر ہم تعلیم سے محروم رہے تو ایک پوری نسل ناخواندہ رہ جائے گی۔‘

مہاسہ باور چاہتی ہیں کہ عورتوں کو اپنے حقوق دیے جائیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے تعلیم کے لیے ایک بہتر مستقبل چاہتی ہوں، میرے پاس افغانستان چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔‘
ہماسہ باور کا کہنا ہے کہ امریکی حمایت یافتہ حکومت میں آزادی تھی اب تو ہم مسجد کبود تک بھی نہیں جا سکتے۔
’نہ صرف میں بلکہ افغانستان کی ہر عورت اپنا حق اور آزادی واپس چاہتی ہیں۔‘

شیئر: