Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لبنان میں ڈوبتی کشتی سے 27 شامی تارکین کو بچا لیا گیا

لبنان اس وقت تقریباً 20 لاکھ شامی باشندوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
لبنانی بحریہ نے ملک کے شمالی ساحل پر سنیچر کو ربڑ کی کشتی الٹنے کے بعد 27  شامی غیر قانونی تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچا لیا۔
اے ایف پی نیوز کے مطابق لبنانی فوج کے ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ لبنانی بحریہ شکا کے ساحل کے قریب ڈوبنے والی ربڑ کی کشتی پر سوار غیر قانونی تارکین کو شہری دفاع کے تعاون سے بچانے میں کامیاب رہی۔
لبنانی فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست  کے ساتھ کہا کہ ہمیں پریس سے بات کرنے کی اجازت نہیں تاہم انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ تمام تارکین وطن شامی باشندے ہیں۔
لبنان سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن عام طور پر 175 کلومیٹر کے اس بحری راستے سے مشرقی بحیرہ روم کے جزیرے قبرص کی طرف جاتے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے بتایا ہےکہ ہفتے کے روز ایک لبنانی سمگلر کو 42 شامی باشندوں کے ہمراہ اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک گاڑی  میں سوار تھا۔
بعدازاں پولیس نے بتایا ہے کہ گاڑی کے لبنانی ڈرائیور نے اعتراف کیا ہے کہ شامی باشندوں کو کشتی کے ذریعے قبرص سمگل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
شامی تارکین وطن نے پوچھ گچھ  کے دوران بتایا ہے کہ انہوں نے قبرص کے راستے یورپ پہنچنے کے لیے پانچ تا سات ہزار ڈالر ادائیگی کی تھی۔
سیکورٹی ذرائع نے ایک بار پھر نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ انہیں صحافیوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

گذشتہ ہفتے ایک ہزار غیر قانونی تارکین کو سرحد عبور کرنے سے روکا گیا۔ فوٹو عرب نیوز

سیکیورٹی اہلکار نے بتایا ہے کہ اس سے پہلے کہ تارکین وطن سمندر راستہ عبور کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوں ہم انہیں بری راستے میں ہی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قبل ازیں جمعرات کو  فوج ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ ہفتے لبنان کی شام کے ساتھ غیر محفوظ سرحد کے قریب تقریبا ایک ہزار غیر قانونی تارکین کو سرحد عبور کرنے سے روکا ہے۔
لبنان کی فوج باقاعدگی سے سمندری راستے سے  سمگلنگ کی کارروائیوں کو ناکام بناتی ہے اور  سمگلروں اور  آنے والے تارکین وطن دونوں کو گرفتار بھی کرتی ہے۔

شام میں جنگی صورتحال کے بعد سے آبادی کا نصف بے گھر ہو چکا ہے۔ فائل فوٹو روئٹرز

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حکام کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک اس وقت تقریباً 20 لاکھ شامی باشندوں کی میزبانی کر رہا ہے جب کہ آٹھ لاکھ سے زیادہ لبنانی اقوام متحدہ کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جو کہ دنیا بھر میں فی کس مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
واضح رہے کہ شام 2011 سے حکومت کی جانب سے جمہوریت کے حامی پرامن مظاہروں کو دبانے کے بعد جنگی صورتحال سے دوچار ہے جس کے باعث اب تک نصف ملین سے زیادہ افراد ہلاک اور اس صورتحال سے قبل ملک کی آبادی کا نصف بے گھر ہو چکے ہیں۔

شیئر: