Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انرجی ڈرنکس ’توانائی کا ذریعہ‘ لیکن صحت کے لیے کتنی نقصان دہ؟

انرجی ڈرنکس میں چینی کی بھاری مقدار استعمال ہوتی ہے جو موٹاپے سمیت بہت سی بیماریوں کا باعث بنتی ہے (فائل فوٹو: گیٹی امیجز)
انرجی ڈرنکس کے استعمال سے اگرچہ فوری توانائی کا احساس ہوتا ہے مگر ان مشروبات کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مشروبات میں صرف کیفین ہی نہیں بلکہ چینی کی بھاری مقدار کا استعمال بھی کیا جاتا ہے جو موٹاپے سمیت بہت سی بیماریوں کی وجہ بنتی ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ انرجی ڈرنکس کا مسلسل استعمال بعض مردوں میں بے خوابی  اور بے چینی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ 
اس لیے اگر انرجی ڈرنکس کی عادت کو مکمل طور پر ختم کرنے میں مشکل پیش آرہی ہو تو کم سے کم اسے بہت حد تک کم ضرور کر دیں۔ 
ذہنی کارکردگی میں اضافہ 
تقریباً تمام ہی انرجی ڈرنکس میں کیفین پائی جاتی ہے جو دماغ کو ایکٹیو کرنے اور کھیلوں کی صلاحیت کو بہتر کرنے میں معاون ہوتی ہے۔
ہر انرجی ڈرنک میں کیفین کی مقدار مختلف ہوتی ہے جبکہ اس میں شامل دیگر عناصر ذیل میں دیے جا رہے ہیں۔ 
چینی
یہ کیلوریز کے حصول کا بنیادی جزو ہے جو  بعض انرجی ڈرنکس میں بڑی مقدار میں شامل کی جاتی ہے۔
اگرچہ کچھ انرجی ڈرنکس میں یہ موجود نہیں ہوتی، تاہم ان میں بھی بڑی مقدار میں کیلوریز شامل کی جاتی ہیں۔ 
وٹامن بی: 
یہ وٹامن خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس سے انسانی جسم کو طاقت حاصل ہوتی ہے۔ 
امینو ایسڈ: 
ٹورائن اور ایل کارنیٹائن کی طرح کے مادے جسم کے بہت سے عوامل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ 
جڑی بوٹیوں کا استعمال: 
مثال کے طور پر گارانا کیفین کی طاقت بڑھا دیتا ہے جب کہ ’جنسنگ‘ کے استعمال کی وجہ سے دماغ کو توانائی کا احساس حاصل ہوتا ہے۔ 

انرجی ڈرنکس کے استعمال سے مردوں کے لیے صحت کے بعض مسائل پیدا ہو سکتے ہیں (فائل فوٹو: آئی سٹاک)

مردوں کو انرجی ڈرنکس سے کیوں اجتناب کرنا چاہیے؟ 
انرجی ڈرنکس کے استعمال سے اگرچہ کھلاڑیوں کو توانائی حاصل ہوتی ہے، تاہم ان کا استعمال مردوں کے لیے صحت کے بعض مسائل پیدا کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے جن میں سے کچھ کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے: 
بعض غیر منظورشدہ انرجی ڈرنکس
بعض ایسے انرجی ڈرنکس بھی ہیں جو فوڈ سپلیمنٹ کے طور پر مارکیٹ میں فروخت کیے جا رہے ہیں جو کہ فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی سے منظورشدہ نہیں ہیں۔ 
انرجی ڈرنکس کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا  کی فہرست ڈبے پر درج نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے فوڈ اتھارٹی انہیں لائسنس جاری نہیں کرتی۔ 
مارکیٹ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 27 انرجی ڈرنکس میں سے صرف 16 ایسے ہیں جن کے ڈبوں پر ان کے اجزائے ترکیبی میں کیفین کی مقدار درج کی جاتی ہے۔ 
ان 16 انرجی ڈرنکس میں سے 5 میں کیفین کی مقدار کا تناسب 20 فیصد تک تھا جو کہ ڈبے پر درج بھی تھا جبکہ کچھ میں یہ مقدار 70 فی صد تک تھی۔ 
یہ تو وہ انرجی ڈرنکس ہیں جن پر اجزائے ترکیبی درج ہیں تو ان ڈرنکس میں کیفین کا تناسب کیا ہو گا جن پر ان میں شامل اجزائے ترکیبی ہی درج نہیں ہیں۔ 

آپ اگر انرجی ڈرنکس استعمال کرنا ہی چاہتے ہیں تو اس کی یومیہ مقدار 473 ملی لیٹر سے زیادہ نہ ہو (فائل فوٹو: آئی سٹاک)

چینی کی بہتات
انرجی ڈرنکس میں بھی چینی کی مقدار عام جوسز یا سوفٹ ڈرنکس جتنی ہی ہوتی ہے یعنی 6 چائے کے چمچے بلکہ اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ 
چینی کی زیادہ مقدار کے بعض نقصانات کو ذیل میں بیان کیا جا رہا ہے: 
بڑھاپے کا جلد آنا 
کینسر کی پرورش 
وزن میں اضافہ  
انفیکشن  
دل کے لیے نقصان دہ 
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 200 ملی گرام کیفین کا استعمال دل کے نظام کو متاثر کرسکتا ہے جس سے دل کی دھڑکن میں بگاڑ پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے اور یہ مقدار ایک انرجی ڈرنک میں موجود ہوتی ہے۔ 
قوتِ حافظہ کی کمزوری
وہ افراد جو درمیانی مقدار میں انرجی ڈرنک پینے کے عادی ہوتے ہیں ان کا حافظہ کمزور ہو جاتا ہے۔
کچھ تحقیقی کاوشوں سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو افراد انرجی ڈرنکس پینے کے عادی تھے ان میں تشنج کی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی اور انہوں نے جب انرجی ڈرنکس کا استعمال بند کیا تو یہ دورے پڑنا بھی بند ہوگئے۔ 

انرجی ڈرنکس کے عادی افراد بے خوابی، گھبراہٹ اور غصے کی کیفیات کا سامنا کرتے ہیں (فائل فوٹو: تھنک سٹاک)

غصہ، اعصابی تناؤ اور گھبراہٹ 
یہ درست ہے کہ کھیل کے میدان میں ایک کھلاڑی کو انرجی ڈرنک استعمال کرنے سے توانائی ملنے کی صورت میں فوری فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
تاہم وہ لوگ جو ان کے استعمال کے عادی ہو جاتے ہیں، وہ بے خوابی ، گھبراہٹ اور غصے کی کیفیات کا سامنا کرتے ہیں۔ 
نیند کی کمی 
نیند اور نظامِ تنفس کے حوالے سے شائع ہونے والے ایک جریدے میں جامعات میں زیرِتعلیم طلبہ پر بھی تجربات کیے گئے جو انرجی ڈرنکس استعمال کرنے کے عادی تھے۔ 
ان طلبہ میں بے خوابی پائی گئی جس کی وجہ سے وہ دن کے وقت تھکاوٹ کا شکار رہتے اور اپنا کام بہتر طور پر نہیں کر پاتے تھے۔ 
دانتوں کی خرابی
سویڈش ماہرین کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انرجی ڈرنکس استعمال کرنے والوں کے دانت جلد خراب ہو جاتے ہیں۔ 
میٹابولک کے خطرات
انرجی ڈرنکس میں چینی کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے اس کے علاوہ فرکٹوز کارن سیرپ کی شکل میں موجود ہوتا ہے جو موٹاپے اور ٹائپ ٹُو ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔ 

بعض ایسے انرجی ڈرنکس مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں جو فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی سے منظورشدہ نہیں ہیں (فائل فوٹو: فری پِک)

خشکی 
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش یا سپورٹس کے بعد اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے یا شدید گرمی میں بھی اس کے استعمال سے اجتناب برتا جائے کیونکہ اس کا استعمال جسم کی خشکی میں اضافہ کرتا ہے۔ 
یومیہ کتنی مقدار میں انرجی ڈرنکس کا استعمال محفوظ ہوسکتا ہے؟ 
اس بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ انرجی ڈرنکس میں کیفین کی مقدار کی وضاحت نہیں ہوتی۔
اگر ایک دن میں ایک ڈرنک لی جائے تو کوئی خاص فرق نہیں ہوتا تاہم اسے یومیہ بنیاد پر عادت نہیں بنانا چاہیے۔ 
آپ اگر اس کے باوجود انرجی ڈرنکس استعمال کرنا ہی چاہتے ہیں تو اس کی فی یوم مقدار 473 ملی لیٹر سے زیادہ کسی طور پر نہیں ہونی چاہیے تاکہ اس کے مُضر اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

شیئر: