Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حکومت سازی: مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان ڈیڈ لاک ہے کیا؟

قمرالزمان کائرہ نے بیان دیا کہ پیپلزپارٹی اپنے اس اصولی موقف پر قائم ہے کہ وہ کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔ (فوٹو: سکرین گریب)
پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت بنانے کا مرحلہ بھی پیچیدگیوں کا شکار ہے کسی ایک بھی پارٹی کے پاس سادہ اکثریت نہ ہونے کے سبب جوڑ توڑ کی سیاست عروج پر ہے۔
وفاق میں حکومت بنانے کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے بڑے سر جوڑ کے بیٹھے ہیں تاہم ابھی تک شراکت اقتدار کا فارمولہ طے نہیں پا سکا۔ منگل کے روز صورت حال اس وقت گھمبیر ہو گئی جب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بیان دیا کہ اگر ان کی جماعت وزارت عظمی کے لیے ن لیگ کو ووٹ دے گی تو شرائط اپنی منوائے گی۔
اس سے پہلے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان پانچ مرتبہ بیٹھک ہوچکی ہے۔ پیر کی شام جب کمیٹیوں کا اجلاس اختتام پذیر ہوا تو یہ مقامی میڈیا میں خبریں نشر کی گئیں کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے۔ اور رات دس بجے اجلاس دوبارہ ہو گا۔ تاہم اس وقت سے لے کر اب تک مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس اور رابطے دوبارہ بحال نہیں ہو سکے۔
سپریم کورٹ کے باہر بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس کے بعد البتہ شہباز شریف لاہور سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہو گئے۔ جس سے یہی تاثر لیا گیا کہ وہ معاملات کی بحالی کے لئے ابھی اعلی قیادت آپس میں بیٹھے گی تاہم ابھی تک صورتحال جوں کی توں ہے۔

ڈیڈ لاک ہے کیا؟

مسلم لیگ ن کی جانب سے تو اس حوالے سے کوئی بھی رہنما کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ البتہ پیپلزپارٹی کے رہنما دبے لفظوں میں اظہار کر رہے ہیں جس سے اس مسئلے کی کچھ نہ کچھ شکل آشکار ہو رہی ہے۔
قمرالزمان کائرہ نے بیان دیا کہ پیپلزپارٹی اپنے اس اصولی موقف پر قائم ہے کہ وہ کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔ ان کے اس بیان سے واضع ہوتا ہے کہ ڈیڈ لاک میں ایک بات مسلم لیگ ن کی جانب سے اس بات پر اصرار کیا جانا بھی ہے کہ پیپلزپارٹی بھی حکومت کا باضابطہ حصہ بنے۔
تاہم بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں جب ان دیکھی شرائط کا ذکر کیا جو وہ مسلم لیگ ن سے منوانا چاہتے ہیں تو ایسے معلوم ہوا کہ پیچیدگی اس سے زیادہ ہے جو سمجھی جا رہی ہے۔

مجیب الرحمن شامی کہا کہنا ہے کہ اس وقت ایک مرتبہ پھر اعصابی جنگ ہے اور ابھی چند دن یہ چل سکتی ہے۔ (فوٹو: ایکس)

مسلم لیگ ن کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کے ایک اہم رہنما نے اردو نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں زیادہ چیزیں تو شئیر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں لیکن بنیادی بات تو یہی ہے کہ پیپلزپارٹی کو چاہیے کہ ملک کو موجودہ صورت حال سے نکالنے میں اگر سنجیدہ ہے تو اپنے حصے کا بوجھ اٹھائے۔ اور کابینہ کا حصہ بنے۔ تاہم ان کی شرائط کی فہرست لمبی ہے اور پنجاب کی گورنرشپ بھی وہ لینا چاہتے ہیں۔ جس پر مسلم لیگ ن کو اعتراض ہے۔‘
سیاسی مبصرین کا یہی ماننا ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں اپنی مستقبل کی سیاست کو ذہن میں رکھ کر فیصلے لینا چاہتی ہیں۔
تجزیہ کار سلمان غںی کہتے ہیں کہ ’یہ بات تو طے ہے کہ حکومت کیسے بنے گی اس کا فارمولہ بالاخر کہیں اور سے آئے گا۔ 29 تاریخ تک سیاسی جماعتوں کے پاس وقت ہے مجھے امید ہے کہ وہ ایک دوسرے پر پریشر بڑھا کر صرف اپنے آپ کو زیادہ محفوظ کرنا چاہتی ہیں۔ جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ وہاں زیادہ مسئلہ بلاول کا ہے آصف علی زرداری کی طرف سے مکمل خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ انہیں حالات کا ادراک ہے۔‘
’دونوں جماعتوں کو بخوبی پتا ہے کہ اکھٹے چلنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ لہذا اس مسئلے یا ڈیڈ لاک نے حل ہونا ہی ہونا ہے۔‘
مجیب الرحمن شامی کہا کہنا ہے کہ ’اس وقت ایک مرتبہ پھر اعصابی جنگ ہے اور ابھی چند دن یہ چل سکتی ہے۔ مسلم لیگ ن نہیں چاہے گی کہ ان کے پاس ایسی حکومت ہو جس میں وہ بچہ جمورا کی طرح چل رہے ہوں۔ اس لیے اس بات کا اندازہ تھا کہ معاملات اتنی آسانی کے ساتھ حل نہیں ہوں گے جتنا سوچا جا رہا تھا۔‘
’ابھی تو آفیشل طور پر چیزیں باہر نہیں آئی ہیں لیکن جو خدوخال نظر آ رہے تھے اس میں تو یہی تھا کہ پیپلزپارٹی سارے آئینی عہدے رکھنا چاہتی ہے جبکہ حکومت ن لیگ کے ذمہ لگانا چاہتی ہے۔ اور اب ن لیگ ان کو اس پوزیشن سے نیچے لانے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔‘

شیئر: