امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران جنگ ختم ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہوں نے بدھ کو ڈیلس میں ریپبلکن نیشنل کنونشن کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں انتخابات کے فوراً بعد ایران جنگ ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ اب مزید مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ انتخابات پر اثرانداز ہونے کی بے حد کوشش کر رہے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران پر ڈالے گئے معاشی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران اس کے سامنے مزید نہیں ٹھہر سکے گا۔
اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ کا ساتویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم فوری طور پر اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔
بدھ کو ایران کی جانب سے آنے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 جہازوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد امریکہ نے اس کے پانچ آئل ٹینکر ڈبوئے۔

لڑائی کی تازہ لہر کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئی ہیں اور خام تیل کی قیمت جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہے۔
حالیہ کچھ عرصے کے دوران صدر ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین تک پہنچی ہے جس کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جنگ اور بڑھتی مہنگائی پر ووٹر میں پائی جانے والی تشویش ہے۔
رواں برس تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو عام طور پر صدر کی کارکردگی کے حوالے سے عوامی رائے کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔













