Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایران کے ساتھ جنگ معمولی بات ہے‘، صدر ٹرمپ کی کوہِ کلنگ کو نشانہ بنانے کی دھمکی

صدر ٹرمپ ایک طرف ایران پر معاشی دباؤ بڑھا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف فوجی طاقت کے تباہ کن اضافے کا امکان بھی برقرار رکھا گیا ہے (فوٹو:گیٹی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بہت جلد ایران کی ’پک ایکس ماؤنٹین‘ (کوہِ کلنگ) کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
کوہِ کلنگ ایران کی شدید نقصان سے دوچار جوہری افزودگی کی تنصیب نطنز کے قریب واقع ہے۔ اس مقام کے اردگرد انتہائی محفوظ حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں زمین کی گہرائی میں بنائے گئے سرنگوں کے دو کمپلیکس موجود ہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ’جنگ‘ قرار نہیں دیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکہ کے لیے ’چھوٹی موٹی بات‘ ہے۔
وینس کے بیان سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا، ’بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے۔ میں اسے فوجی تنازع کہتا ہوں کیونکہ یہ ہمارے لیے چھوٹی موٹی بات ہے۔ یہ کوئی بڑی چیز نہیں ہے۔ ہم نے وینزویلا میں بھی ایسا ہی کیا اور اب پھر یہ کر رہے ہیں۔‘
جولائی میں امریکا نے اپنے سرکاری ’ڈیفنس کژولٹی اینالیسس سسٹم‘ میں تبدیلی کرتے ہوئے ’جنگ‘ کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے فوجیوں کی درجہ بندی ’اوورسیز آپریشنز‘ کے تحت کر دی تھی۔
ایک ایسی ایرانی حکومت جو بڑے پیمانے پر جاری فوجی کارروائی کے باوجود پسپا ہونے  سے انکار کر رہی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب دو رُخی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ اس حکمتِ عملی میں ایک طرف معاشی دباؤ بڑھانا شامل ہے جبکہ دوسری طرف فوجی طاقت کے تباہ کن اضافے کا امکان برقرار رکھا گیا ہے۔
جنگ کے دوران ٹرمپ کئی مرتبہ مذاکرات میں پیش رفت کا اعلان کر چکے ہیں یا عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہونے کے بعد آخری وقت میں فوجی کارروائی کی دھمکیاں واپس لے چکے ہیں۔

 امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ’جنگ‘ قرار نہیں دیں گے (اے ایف پی)

کارنیگی اینڈوومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ماہر ایرون ڈیوڈ ملر کے مطابق صدر ٹرمپ ایران پر دوبارہ بھرپور بمببیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ’جنگ‘ قرار نہیں دیں گےاری شروع کرنے سمیت آبنائے ہرمز کے معاملے پر تہران کو کسی قسم کی بڑی رعایت دینے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’وائٹ ہاؤس نہ تو ایک بڑی جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ بڑی رعایتیں دینے پر آمادہ ہے۔ جو راستہ وہ اختیار کر رہے ہیں، وہ ان دونوں صورتوں سے بچنے کی کوشش ہے۔‘

شیئر: