سعودی عرب میں خوراک کا ضیاع کیسے روکا جا رہا ہے؟
غذائی ضیاع سے نقصان کا تخمیہ سالانہ 43 ارب ریال کے قریب ہے۔( فوٹو: عرب نیوز)
سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینیئرعبدالرحمن الفضلی نے کہا ہے کہ ’مملکت میں غذائی اشیا کے ضیاع کی شرح میں 34 فیصد سے کم ہو کر 27 فیصد رہ گئی ہے۔‘
انہوں نے بتایا ’غذائی ضیاع سے ہونے والے نقصان کا تخمیہ سالانہ 43 ارب ریال کے قریب ہے۔‘
اخبار 24 کے مطابق ایک پوڈ کاسٹ میں انہوں کہا ’حکومت اور نجی شعبے کی کاوشوں سے خوراک کے ضیاع کی شرح میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔‘
عبدالرحمن الفضلی نے کہا ’وزارت نے سال 2025 میں اس حوالے سے جامع جائزہ سروے کا اہتمام کیا جس میں معلوم ہوا کہ غذائی اشیا کے ضیاع میں 16 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔‘
وزارت کا ہدف ہے کہ اس تناسب کو مزید کم کرتے ہوئے سال 2032 تک 15 فیصد سے بھی کم کیا جائے۔
سعودی وزیر کے مطابق اصل مقصد بچ جانے والی خوراک کو دوبارہ استعمال کرنا نہیں بلکہ ابتدا سے خوراک کے ضیاع کو روکنا ہے تاہم اگر اضافی خوراک بچ جائے تو اسے ضائع کرنے کے بجائے ضرورت مند افراد تک پہنچایا جانا ہے۔
واضح رہے مملکت میں نجی شعبے کے تعاون سے فوڈ بینک کے عنوان سے ایسے سینٹرز بنائے گئے ہیں جہاں ہوٹلوں اور شادی ہالوں سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ وہاں سے اضافی خوراک کو بروقت حاصل کرکے متعلقہ سینٹرز میں پہنچایا جاتا ہے جہاں انہیں محفوظ طریقے سے پیک کرنے کے بعد ضرورت مند افراد اور خاندانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
