Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ میں پناہ گزینوں کے لیے ایک اور مشکل، ’ملک بدری بڑھ جائے گی‘

نئی پالیسی کے تحت اب پناہ گزینوں کو اپیل کے لیے 30 کے بجائے 10 روز ملیں گے (فوٹو: اے پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پناہ گزینوں کو ملنے والے اس دورانیے کو کم کر دیا ہے جس کے دوران سٹیٹس ختم کیے جانے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ناقدین کی جانب سے اس اقدام کو تنقید کا سامنا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں جنگوں اور مظالم سے جان بچا کر آنے والوں کے لیے ملک بدری کے خطرات بڑھ جائیں گے۔
نئی پالیسی کا نفاذ بدھ 14 اکتوبر سے ہو رہا ہے جس کے تحت اب پناہ گزینوں کو سٹیٹس کی تبدیلی کے خلاف اپیل کے لیے 30 کے بجائے 10 روز ملیں گے۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پناہ گزینوں کے پروگرام کو محدود کرنے اور اس میں تبدیلیاں لانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔
دستاویز کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد ان افراد سے جڑے ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے جو پناہ گزین کے طور پر امریکہ میں داخل ہوئے مگر اس سٹیٹس کے اہل نہیں تھے۔
پالیسی میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس سے کتنے افراد متاثر ہو سکتے ہیں تاہم اس میں صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں امریکا آنے والے پناہ گزینوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے دور حکومت کے دوران دوران پناہ گزینوں کے پروگرام کی ساکھ کو تشویش ناک حد تک نقصان پہنچا۔
دوسری جانب پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اور افراد اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی جو بائیڈن کے دور میں امریکہ آنے والے کم از کم ایک لاکھ 85 ہزار پناہ گزینوں کے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے اور جن کی گرین کارڈ کی درخواستوں پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔
امریکہ میں پناہ گزینوں کی آمد کے حوالے سے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں طویل عرصے سے اتفاق رائے رہا ہے۔
 1980 میں کانگریس نے بھاری اکثریت سے پناہ گزینوں سے متعلق قانون منظور کیا تھا۔ اس قانون کے تحت پناہ گزینوں کی درخواستوں کی امیگریشن نظام میں سخت جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

’ظلم سے بھاگ کر آنے والوں پر ظلم‘

پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے نئی پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تحت پناہ گزینوں کو اپنی قانونی حیثیت کا دفاع کرنے کے لیے خاطر خواہ وقت نہیں ملے گا۔
گلوبل ریفیوج کے صدر کرش اومارا وگناراجہ نے کہا کہ ان خاندانوں نے تمام مطلوبہ مراحل مکمل کیے، انٹرویوز دیے، سکیورٹی جانچ کروائی اور بیرون ملک کئی سال انتظار کیا۔ انہیں امریکی حکام کی منظوری کے بعد ہی امریکا میں داخل ہونے کی اجازت ملی۔
انہوں نے کہا کہ اب امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی صرف 10 دن میں ان فیصلوں پر دوبارہ غور کرنا چاہتا ہے، جبکہ وکیل تلاش کرنے، دستاویزات کا ترجمہ کروانے اور اپنے آبائی ممالک سے ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے یہ وقت ناکافی ہے۔
پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی بڑی تنظیم ہائیاس نے خبردار کیا کہ تشدد اور ظلم و ستم سے بھاگ کر آنے والے افراد کو دوبارہ انہی ممالک میں بھیجے جانے کا خطرہ ہے، جہاں انہیں تشدد اور ظلم کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ہائیاس کی نائب صدر نومی سٹینبرگ کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے پناہ گزینوں کو مستقل تحفظ فراہم کرنے کے بنیادی اصول کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چرچ ورلڈ سروس (سی ڈبلیو ایس) کے مطابق پناہ گزینوں کو اپنی قانونی حیثیت ختم ہونے سے پہلے جواب دینے یا اپیل کرنے کا مؤثر موقع نہیں ملے گا۔
تنظیم کے پالیسی ڈائریکٹر ڈینیلو زیک نے کہا کہ یہ پالیسی ان افراد بے دخل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے جو ظلم و ستم سے بچ کر آئے اور جنہیں تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

شیئر: