Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پناہ گزینوں کی ملک بدری تیز کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا نیا قانون

ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نظام میں زیر التواء پناہ گزینوں کے مقدمات کی تعداد کم کرنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ٹرمپ انتظامیہ نے منگل کو ایک نیا قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت لاکھوں پناہ گزینوں کی ملک بدری تیز رفتاری سے کی جا سکتی ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی  نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نظام میں زیر التواء پناہ گزینوں کے مقدمات کی تعداد کم کرنا ہے۔
نئے قانون کے تحت پہلے امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز  کے افسر کے ساتھ انٹرویو کے بجائے کچھ پناہ کی درخواستیں براہِ راست محکمہ انصاف کے امیگریشن ججوں کو بھیجی جائیں گی۔
ہوم لینڈ سکیورٹی  نے کہا کہ موجودہ نظام ’بنیادی طور پر ایک غیرملکی کو پناہ کے لیے دوسرا موقع دیتا ہے، یہ قانون اس کُل وقت کو کم کرے گا جو پناہ افسران اور امیگریشن ججوں کو درخواستوں پر فیصلہ کرنے میں لگتا ہے۔‘
مزید کہا کہ 14 لاکھ سے زائد پناہ کے زیر التواء مقدمات میں سے تقریباً چار لاکھ 44 ہزار سے زائد مقدمات یعنی 31 فیصد متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز  کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے ایک بیان میں کہا کہ ’بہت عرصے سے پناہ کا نظام تاخیر اور ورک پرمٹ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، نہ کہ حقیقی تحفظ کے دعووں کے لیے۔‘
 انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کا پناہ کا نظام ان افراد کے تحفظ کے لیے ہے جو واقعی ظلم و ستم سے ڈرتے ہیں۔ یہ قانون اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا کہ وسائل بروقت ان دعوؤں پر خرچ ہوں، نہ کہ ان پر جو نظام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لیے انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ لاکھوں غیرقانونی تارکین وطن کو ملک بدر کریں گے (فوٹو: اے ایف پی)

ہوم لینڈ سکیورٹی  کے جنرل کونسل جیمز پرسیول نے کہا کہ نیا قانون ’کارکردگی کو بہتر بنائے گا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیرقانونی امیگریشن پر قابو پانے کے وعدے کو پورا کرے گا۔‘
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لیے انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ لاکھوں غیرقانونی تارکین وطن کو ملک بدر کریں گے اور دوبارہ صدر بننے کے بعد انہوں نے کئی اقدامات کیے ہیں جن کا مقصد ملک بدری کو تیز کرنا اور سرحدی کراسنگ کو کم کرنا ہے۔

 

شیئر: