حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں
حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں
پیر 19 اکتوبر 2026 7:45
آذربائیجان مسلم دنیا کی نسبتاً زیادہ سیکولر ریاستوں میں شمار ہوتا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔ سکولز میں حجاب پر پابندی سے متعلق ضوابط اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔
دونوں ممالک مشترکہ زبان اور ثقافتی رشتوں کے باعث قریبی تعلقات رکھتے ہیں، جنہیں عموماً ’ایک قوم، دو ریاستیں‘ کے نعرے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں اعلیٰ حکام کے بیانات نے ان تعلقات میں موجود اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اگرچہ دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت نے محتاط لب و لہجہ اختیار کر رکھا ہے، لیکن حکومتی عہدیداروں کے درمیان بیان بازی میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔
پیر کو ترک صدر رجب طیب اردوان کے چیف مشیر اوکتائے سارال نے آذربائیجان میں سکول یونیفارم کے ضوابط میں تبدیلی کے فیصلے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
نئے ضوابط کے تحت سکول یونیفارم کے ساتھ ایسی اشیا پہننے کی اجازت نہیں ہوگی جو مقررہ لباس یا تعلیم کے سیکولر اصولوں سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔
اوکتائے سارال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ’حجاب پہننا ایمان کا تقاضا ہے۔‘ انہوں نے آذربائیجان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کو جلد از جلد واپس لے۔
اس کے جواب میں آذربائیجان کی حکمراں جماعت ینی آذربائیجان پارٹی (وائی اے پی) نے اردوان کی جماعت اے کے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اور ان کے مشیر کے بیانات کو ’مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش پر مبنی اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا۔
جماعت نے اپنے بیان میں کہا کہ آذربائیجان کو نشانہ بنانے والی گمراہ کن معلومات کی مہم زیادہ جارحانہ، منظم اور کھلم کھلا بہتان تراشی پر مبنی ہوتی جا رہی ہے۔
سیکولر آذربائیجان اور ترکیہ کی مذہبی قدامت پسند قیادت میں اختلافات
حالیہ تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان نظریاتی فرق کو نمایاں کیا ہے۔ آذربائیجان مسلم دنیا کی نسبتاً زیادہ سیکولر ریاستوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ ترکیہ میں صدر اردوان کی قیادت مذہبی قدامت پسند سیاست کی نمائندگی کرتی ہے۔
تاہم اختلافات کی ایک اہم وجہ اسرائیل کے ساتھ آذربائیجان کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی ہیں۔
سنہ 2020 میں آرمینیا کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان کو ڈرونز اور دیگر ہتھیار فراہم کیے تھے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید نمایاں ہوا۔
اس کے برعکس ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ صدر اردوان غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ انقرہ فلسطینی تنظیم حماس کی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے بھی برقرار رکھتا ہے۔ اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد غزہ میں جنگ شروع ہوئی تھی۔
ترکیہ کے حکومت نواز اخبار ینی شفق نے بھی حجاب سے متعلق آذربائیجان کے ضوابط پر تنقید کرتے ہوئے انہیں اسرائیل کی جانب جھکاؤ کا اشارہ قرار دیا۔
تاہم آذربائیجان کی حکمراں جماعت نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو سیاسی الزامات کی بنیاد بنانے کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔
آذربائیجان کی آزاد خارجہ پالیسی
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ تنازع اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ آذربائیجان اب علاقائی سیاست میں زیادہ خودمختار کردار ادا کر رہا ہے اور اپنے قریبی اتحادی ترکیہ کے دباؤ کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
آزاد سیاسی تجزیہ کار فواد شہبازوف کے مطابق وسیع تر یوریشیا میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورت حال نے آذربائیجان کو زیادہ حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اپنانے کا موقع دیا ہے۔
ان کے بقول، باکو اب اپنے اتحادی ترکیہ سمیت کسی بھی بیرونی فریق کی مداخلت کی کوششوں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرتا ہے۔
دوسری جانب اردوان کی جماعت اے کے پارٹی کے نائب سربراہ کرشاد زورلو نے جمعے کو کہا کہ دونوں ممالک خاندان کے اندر پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنا جانتے ہیں۔ ان کا بیان سوشل میڈیا پر جاری تلخ بحث کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔
اس سے قبل جمعرات کو باکو میں ایک علاقائی سربراہی اجلاس کے دوران ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے مشکل حالات کے باوجود دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان ’ناقابلِ شکست تعلق‘ کو سراہا۔
توانائی اور علاقائی مفادات تعلقات میں اہم رکاوٹ
ترکیہ اور آذربائیجان مشترکہ زبان اور ثقافتی رشتوں کے باعث قریبی تعلقات رکھتے ہیں: فائل فوٹو اے ایف پی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے پاس تعلقات منقطع کرنے کی گنجائش محدود ہے، کیونکہ ان کے مشترکہ سٹریٹجک اور اقتصادی مفادات بہت اہم ہیں۔
ایسٹونیا میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار ڈیفنس اینڈ سکیورٹی سے وابستہ ایوان کلیز نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ روس کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور پڑوس میں ایران کی جنگ کے تناظر میں آذربائیجان کسی اچھے شراکت دار کو خود سے دور کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے زور دیا کہ توانائی کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ کے لیے آذربائیجان وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم دروازہ ہے، جسے انقرہ ایک سٹریٹجک خطہ سمجھتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ آبادی میں ترکیہ سے تقریباً 10 گنا چھوٹا ہونے کے باوجود آذربائیجان کو توانائی کے وسائل اور وسطی ایشیا تک رسائی کے باعث مذاکرات میں اہم برتری حاصل ہے۔
فواد شہبازوف کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ ترکیہ موجودہ بحران سے نکلنے اور سفارتی روابط بحال کرنے کے لیے کس حد تک سنجیدہ اقدامات کرتا ہے۔
ترکیہ یورپ اور ایشیا کے درمیان توانائی اور تجارت کے اہم راہداری مرکز کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے، جس کے لیے آذربائیجان کے ساتھ تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ترک صحافی کے خلاف آذربائیجان کا وارنٹ گرفتاری
حجاب کے حوالے سے سکول یونیفارم کے ضوابط میں تبدیلی کے فیصلے پر ترکیہ اور آذربائیجان کے تعلقات میں کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی ایک اور مثال جمعے کو سامنے آئی، جب آذربائیجان نے ترکیہ کے اخبار شانلی عرفہ اولائے سے وابستہ صحافی جلال چفتچی کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اعلان کیا۔
استغاثہ کے مطابق صحافی پر آذربائیجان میں بغاوت پر اکسانے اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکیہ اور آذربائیجان کے دیرینہ تعلقات میں اختلافات بڑھ رہے ہیں، تاہم توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سے جڑے مشترکہ مفادات دونوں ممالک کو سفارتی راستے سے تنازعات حل کرنے کی طرف مائل رکھ سکتے ہیں۔