Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پرتشدد احتجاج، پیرس سمیت فرانس کے کئی شہروں میں کرفیو نافذ

فرانس میں سنیچر سے شروع ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں پرتشدد واقعات بھی ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
فرانس میں بڑھتے پرتشدد مظاہروں کے بعد دارالحکومت پیرس سمیت چند دوسرے شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام کی جانب سے جاری کی دستاویز کے مطابق پیرس، لیون، للی اور نائس کے علاوہ بعض دوسرے میں منگل کے روز کرفیو نافذ رہے گا۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب حکام احتجاج کی اس لہر سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا سلسلہ سنیچر کو شروع ہوا تھا جو اتوار اور پیر کو بھی جاری رہا۔
اس دوران مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی ہوئے جبکہ کئی عمارتوں کو آگ بھی لگائی گئی۔
بعض علاقوں میں صرف رات کے وقت کے لیے کرفیو نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ کچھ مقامات پر دن کے وقت بھی موثر رہے گا۔
کرفیو کے احکامات میں پیرس کے ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جو احتجاج کے دوران لوٹ مار کا مرکز رہے جبکہ ان دونوں مقامات پر کسی بھی قسم کے اجتماع پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
ملک کے تیسرے بڑے شہر لیون میں بھی پیر کی شام سے کرفیو نافذ ہو گیا ہے، یہ وہی شہر ہے جہاں دو روز قبل محکمہ ٹوررزم کے ایک دفتر کو آگ لگا دی گئی تھی۔
جن زونز میں کرفیو لگایا گیا ہے وہاں عوام کی نقل و حرکت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور حکام کی جانب سے عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور باہر نہ نکلیں۔
رپورٹس کے مطابق کرفیو کا دورانیہ آج منگل تک کا ہے تاہم اس میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح رویرا کے سب سے بڑے شہر نائس میں میئر کے حکم کے تحت کرفیو نافذ کیا جا چکا ہے جبکہ للی، ڈوئی، واٹیگنیز اور ڈینین کے علاقوں میں بھی کرفیو لگانے کے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔

صدر ایمانوئیل میکخواں نے اتوار کو قوم سے خطاب میں عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی (فوٹو: روئٹرز)

اسی طرح لی مینس کے شمالی حصے میں واقع گاؤں کولینز میں منگل اور بدھ کے لیے ایسی پابندی لگائی گئی ہے جس کے دوران 16 سال سے کم عمر کے افراد باہر نہیں نکل سکیں گے۔
علاوہ ازیں مظاہروں میں شدت آنے کے بعد کیریبین جزائر گواڈیلوپ کے حکام نے بھی اہم مقامات پر کرفیو لگانے کا حکم دیا ہے۔
ایک روز قبل ہی صدر ایمانوئیل میکخواں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو ملک کی تاریخ کے بدترین ہنگامے ہوئے جن کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، مظاہروں میں دکانوں کو لوٹا گیا جبکہ دوسری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ’یہ مناظر دیکھ کر ہم سوچ رہے ہیں کہ ان کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے، فرانسیسی شہری اپنے ملک کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔‘

مظاہروں میں شریک ہزاروں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے مطابق ’ان واقعات کا کوئی جواز نہیں، نہ ہی ان کو درست قرار دیا جا سکتا ہے، آجہم سب شرمندگی اور غصہ محسوس کر رہے ہیں۔‘
احتجاج کا یہ سلسلہ مہنگائی اور عوامی کو ملنے والی سروسز میں کمی کے خلاف شروع ہوا ہے۔
اتوار کو رات گئے پیرس اور مارسیلے میں دوبارہ جھڑپیں ہوئیں، جہاں پولیس نے دکانوں کو لوٹنے کی کوششیں روکنے کے لیے مداخلت کی۔
سنیچر کو شروع ہونے والا احتجاج ہنگاموں میں تبدیل ہوا جس کے دوران تشدد کے واقعات بھی ہوئے۔
مختلف علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، عمارتوں پر نعرے لکھے گئے جبکہ سٹی ہال کو بھی نذر آتش کیا گیا۔

شیئر: