Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

سنیچر کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں کا اہتمام کرنے والی ’ییلو ویسٹ‘ تحریک نے آئندہ سنیچر کو ایک بار پھر احتجاج کی اپیل کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر کرفیو نافذ کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب مظاہرین نے پیرس میں لووَر میوزیم کے داخلی راستے کو بند کر دیا، جبکہ حکام عوامی بے چینی پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے صورتِ حال پر غور کے لیے وزرا کے ساتھ ہنگامی اجلاس کیا۔ اس سے قبل وزیرِ داخلہ نے کہا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے ہنگاموں کے دوران پولیس نے صورتِ حال پر اپنا کنٹرول کھو دیا تھا۔
سنیچر کو ہونے والے مظاہروں کا اہتمام کرنے والی ’ییلو ویسٹ‘ تحریک نے آئندہ سنیچر کو ایک بار پھر احتجاج کی اپیل کی ہے۔ اِس پیش رفت کے بعد وزیراعظم سیباستیان لیکورنو نے علاقائی حکام پر زور دیا کہ وہ کاروباری مراکز اور دکانوں کے تحفظ کے لیے جزوی اور مخصوص علاقوں میں محدود کرفیو نافذ کریں۔ حالیہ احتجاج کے دوران سینکڑوں دکانوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ لوٹا بھی گیا ہے۔
وزیرِ داخلہ لوراں نونیز نے آج اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیش کش بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ سنیچر کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بعض بڑے شہروں میں سینکڑوں دکانوں کو لوٹے جانے کے بعد وہ دکان داروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ صورتِ حال پر حکومت کا کنٹرول برقرار تھا۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے لوراں نونیز کا استعفیٰ مسترد کر دیا۔ تاہم، انہوں نے حکومتی ردِعمل میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی سطح پر ہونے والی ناکامیوں کا اعتراف کیا۔
وزیرِ انصاف جیرالڈ درماناں نے پیر کو بتایا کہ ہفتے کے اختتام پر ملک بھر میں دو ہزار 330 سے زیادہ افراد کو پولیس کی تحویل میں لیا گیا۔ اِن میں سے تقریباً 70 فی صد بالغ تھے، جبکہ زیادہ تر کا نام پہلے ہی حکام کے ریکارڈ میں موجود تھا۔
فرانس کے ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر الین دی کریسینزو کے مطابق، ہفتے کے اختتام پر ہونے والے تشدد سے ملک بھر میں دو ہزار سے زیادہ دکانیں متاثر ہونے کا امکان ہے، جبکہ نقصان کا تخمینہ ’سینکڑوں ملین یورو‘ لگایا جا رہا ہے۔
یورپی یونین نے ہفتے کے اختتام پر ہونے والے تشدد کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ فرانس میں پُرامن احتجاج کے حق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
لووَر میوزیم کا داخلی راستہ بند
پیر کے روز بھی عوامی بے چینی میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ مظاہرین نے پیرس میں واقع مشہور لووَر میوزیم کے داخلی راستے کو بند کر دیا۔ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے اس میوزیم کے باہر ہونے والا احتجاج فرانس میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی تازہ مثال تھا۔
فرانس میں قیمتوں میں اضافے نے عوامی غصے کو مزید ہوا دی ہے۔ مارچ سے اب تک ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اور پیٹرول کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ 2021 کے بعد سے اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی 25 فیصد بڑھ گئی ہیں۔

سنیچر کو ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں دو ہزار سے زیادہ دکانیں متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

یہ ہنگامے ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہے ہیں جب ملک میں اہم صدارتی انتخابات میں صرف چند ماہ باقی ہیں۔ فرانس کے موجودہ صدر ایمانوئل میکخواں دوبارہ صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکتے، جبکہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کی صدارتی امیدوار میرین لے پین رائے عامہ کے جائزوں میں نمایاں مقام حاصل کیے ہوئے ہیں۔
یورپ کے دیگر ممالک میں بھی احتجاج
فرانس کی طرح یورپ کے دیگر ممالک میں بھی مہنگائی اور رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
ہفتے کے اختتام پر اٹلی کے شہر میلان میں روزمرہ اخراجات میں اضافے کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے دوران بھی جھڑپیں ہوئیں۔ بیلجیئم میں پولیس نے برسلز اور لیئژ شہر میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
سپین میں ستمبر سے میڈرڈ کے مرکزی علاقے پُوئرتا ڈیل سول کے چوک میں سینکڑوں خیمے لگے ہوئے ہیں۔ احتجاج کا آغاز اُس وقت ہوا جب ایک 87 سالہ خاتون کو اُس فلیٹ سے بے دخل کیا گیا جہاں وہ ساری زندگی رہی تھیں۔ اِس واقعے نے ملک گیر مظاہروں کو جنم دیا، جہاں رہائش کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
پرتگال میں بھی رہائش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے دارالحکومت لزبن اور دوسرے بڑے شہر پورٹو میں خیمے نصب کر رکھے ہیں۔

شیئر: