ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے کی موت: ٹھیکہ دار مقتول بچے کا تعاقب کیوں کر رہا تھا؟
ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے کی موت: ٹھیکہ دار مقتول بچے کا تعاقب کیوں کر رہا تھا؟
منگل 20 اکتوبر 2026 10:47
ادیب یوسفزئی -اردو نیوز
پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد دو ملزموں میں سے ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاکت کے بعد مقدمہ درج لیا گیا ہے جس میں دو افراد نامزد ہیں اور ان میں سے ایک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ملتان کی نجی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہونے والے واقعے میں جان سے جانے والے وسیم عباس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک یتیم خانے میں رہتا تھا اور نویں کا طالب علم تھا جبکہ الیکٹریشن کا کام بھی سیکھ رہا تھا۔
مقامی ذرائع نے اردو نیوز کو بتایا کہ وسیم عباس کا کام میں دل نہیں لگتا تھا اور اکثر بھاگ جایا کرتا تھا، اس بار وہ بھاگا تو ٹھیکیدار نے اس کا پیچھا کیا۔‘
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 15 سالہ وسیم عباس ایک گاڑی کو اپنی جانب آتے دیکھ کر بھاگنے لگتا ہے تاہم گاڑی اس کا تعاقب کرتی ہے اور اسے ٹکر مار دیتی ہے۔
ٹکر لگنے کے بعد وسیم اچھل کر قریبی گھر کے گیٹ سے ٹکراتا ہے اور شدید زخمی ہو کر زمین پر گر جاتا ہے اور شدید چوٹوں کی وجہ سے موقع پر ہی دم توڑ دیتا ہے۔
واقعے کے بعد موقع پر ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ لڑکے کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا اور گاڑی بے قابو ہو گئی تھی۔ تاہم ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ لڑکے کو جان سے مارنے کی نیت سے گاڑی چڑھائی گئی۔
رشتہ داروں کے مطابق رات ڈھائی بجے جنازہ کروا کے تدفین کر دی گئی (فوٹو: پولیس)
’الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے بھیجا گیا تھا‘
یتیم خانے سے منسلک شعیب جوئیہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ وسیم عباس کا تعلق ضلع مظفرگڑھ سے تھا۔ یتیم خانے میں رہنے والے بچوں کو تعلیم کے ساتھ مختلف ہنر سیکھنے کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت لڑکے کو ٹھیکیدار توقیر کے پاس بھیجا گیا تھا اور اس سے پہلے بھی کئی لڑکے وہاں کام سیکھنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وسیم عباس کو واقعے سے قریباً سات روز قبل کام پہ بھیجا گیا تھا اور وہ ٹھیکیدار کے زیرتعمیر گھر میں کام کر رہا تھا۔
ایف آئی آر میں کیا ہے؟
تھانہ ڈی ایچ اے ملتان میں پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو ایک شخص نے بتایا کہ وسیم اس کا ماموں زاد بھائی تھا اور اسے کام سیکھنے کے دوران مبینہ تشدد کا سامنا تھا۔
متن کے مطابق ’وسیم کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی تھیں۔‘
واقعہ 19 اکتوبر کو ملتان کی ایک نجی سوسائٹی میں پیش آیا (فوٹو: سکرین شاٹ)
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’وسیم اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگا اور ساتھ والی گلی میں پہنچا تو ملزمان نے تیز رفتار گاڑی سے اس کا تعاقب کیا اور ٹکر مار دی۔ اس کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔‘
مقدمے کے مطابق پولیس جب موقع پر پہنچی تو ملزمان گاڑی وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے مگر گاڑی سٹارٹ نہ ہوئی، پولیس نے گاڑی چلانے والے توقیر نذیر کو گرفتار کر لیا جبکہ دوسرا ملزم فرار ہو گیا۔
والدہ کی دوسری شادی کے بعد یتیم خانے میں داخل کرایا گیا
وسیم کے کزن ندیم نے میڈیا کو بتایا کہ وسیم کہا کرتا تھا کہ وہ الیکٹریشن کے پاس کام سیکھنے نہیں جانا چاہتا بلکہ واپس گھر جانا چاہتا ہے اور کام پر بھجوائے جانے کے بعد واپس نہیں جاتا تھا۔
اسی طرح یتیم خانے سے منسلک شعیب جوئیہ کا کہنا ہے کہ ’اس کے والد کا انتقال اس وقت ہوا تھا جب وہ بپت کم عمر تھا۔ اس کی والدہ 5 برس تک بیوہ رہی، پھر ان کی شادی وسیم کے چھوٹے چاچا سے کروائی گئی اور نانا نے وسیم کو یتیم خانے میں داخل کروایا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وسیم کی نماز جنازہ رات کو ڈھائی بجے ہوئی اور تدفین کر دی گئی ہے کیونکہ لاش کی حالت بہت خراب تھی اس لیے رات کو ہی جنازہ پڑھا دیا گیا۔