Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ملتان: غربت کے باعث چادر میں لپٹی میت کی تدفین، ’دو دن سے پڑی لاش تعفن زدہ ہوئی‘

پولیس کو 15 کے ذریعے رشید آباد قبرستان میں بغیر کفن تدفین کی اطلاع ملی (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ملتان کے رشید آباد قبرستان سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں ایک بزرگ باپ اپنے جوان بیٹے کی چادر میں لپٹی میت کے پاس کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
ویڈیو میں وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کی موت طبعی طور پر واقع ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کرنے لگا کہ خاندان والے تدفین کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے جس کے بعد مقامی پولیس کی جانب سے تدفین کا انتظام کیا گیا لیکن اس واقعے کا مبینہ دوسرا رخ اب سامنے آیا ہے۔
یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور صارفین نے پولیس کی خوب پذیرائی کی۔
اردو نیوز نے اس حوالے سے ملتان کے تھانہ لوہاری گیٹ کے ایس ایچ او سجاد گجر سے رابطہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے اپنی مدد آپ کے تحت نہ صرف کفن کا انتظام کیا بلکہ باقاعدہ نگرانی میں تدفین بھی کروائی۔
’پولیس کو 15 کے ذریعے رشید آباد قبرستان میں بغیر کفن تدفین کی اطلاع ملی اور بتایا گیا کہ میت تعفن زدہ ہوچکی ہے۔ ہم جب وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایک غریب باپ شدید مالی تنگی کے باعث اپنے 25 سالہ بیٹے دانش کے کفن اور تدفین کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا تھا۔‘
ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے والد کا ابتدائی بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اپنی جیب سے رقم اکٹھی کر کے قبر کے لیے اینٹوں اور دیگر ضروری چیزوں کا انتظام کیا۔
’جب والد نے بیان دیا کہ ان کے بیٹے کی موت گزشتہ شب واقع ہوئی ہے تو ہم نے ثواب کی نیت سے ان کی مدد کی اور شرعی طریقے سے تدفین مکمل کروائی۔‘
ایس ایچ او سجاد گجر نے اس شام کی روداد بیان کرتے ہوئے کہا ’ہم نے اچھا کام کر تو دیا لیکن اب عذاب میں پھنس گئے ہیں‘ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید وضاحت نہیں کی۔
ان کے بقول ’جب پولیس موقعے پر پہنچی تو واقعی میت کفن کے بغیر تھی اور وہاں میت کے والد اور بہن سمیت دیگر رشتہ دار بھی موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ بہت غریب ہیں اور یہاں گورکن قبر کے پیسے مانگ رہا ہے جیسے شہروں میں قریباً 8 ہزار تک لیے جاتے ہیں۔ ’ہم نے ان کی کچھ مالی امداد کی، اینٹیں منگوائیں، قبر کھدوائی اور باعزت طریقے سے اپنی نگرانی میں اس کی تدفین کروا دی۔‘
مقامی صحافیوں کے مطابق یہ واقعہ 9 محرم کا ہے اور وائرل ویڈیو بھی اسی وقت بنائی گئی تھی۔
مقامی صحافی شکیل چشتی کے مطابق ’مجھے بزرگ باپ نے بتایا کہ ان کا بیٹا دانش برسوں سے منشیات کا عادی تھا اور مبینہ طور پر اس کی موت اوور ڈوز کے باعث ہوئی۔‘

مقامی صحافیوں کے مطابق یہ واقعہ 9 محرم کا ہے (فائل فوٹو:و یڈیو گریب)

شکیل چشتی کے مطابق ان کے بیٹے کی موت 9 محرم سے دو روز قبل تھانہ بی زیڈ یو کی حدود میں ایک مقام پر ہوئی تھی لیکن اس دوران لاش وہیں پڑی رہی۔ جب علاقے میں بدبو پھیلنا شروع ہوئی تو مقامی افراد نے اہل محلہ کے ذریعے ورثا کو اطلاع دی۔ ورثا لاش تو لے آئے لیکن اسے گھر لے جانے کی بجائے سیدھا چادر میں لپیٹ کر قبرستان لے گئے۔‘
جب اردو نیوز نے ایس ایچ او سجاد گجر سے سوال کیا کہ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ متوفی منشیات کا عادی تھا اور اوور ڈوز کے باعث اس کی موت ہوئی تو انہوں نے جواب دیا ’نہیں، ہمیں اس کا علم نہیں۔ ہم نے والد سے پوچھا اور انہوں نے بیان بھی دیا کہ کل رات کو موت واقع ہوئی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ غریب آدمی ہے اور تدفین کے پیسے نہیں ہیں، ہمیں بس یہی معلوم ہے۔ ہم تو یہ دیکھنا چاہ رہے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ کسی نے قتل کیا ہو یا کوئی اور مسئلہ تو نہیں لیکن والد نے بیان دیا کہ طبعی موت ہوئی ہے اور بس۔‘
مقامی صحافیوں کے مطابق جب میت کو رشید آباد قبرستان لے جایا گیا تو وہاں گورکن نے بدبو کے باعث قبر کھودنے سے معذرت کر لی تھی۔
ملتان کے ایک اور صحافی فراز ملک کے بقول ’اسی دوران قریبی مسجد میں نماز کے لیے آنے والا ایک شخص بدبو کے باعث ان کے قریب پہنچا۔ ان کے استفسار پر والد نے بتایا کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اسی شخص نے مشورہ دیا کہ 15 پر کال کر دی جائے جس پر پولیس موقع پر پہنچی۔ ‘
صحافی شکیل چشتی اس واقعے کی کوریج کے دوران خاندان تک رسائی حاصل کرنے والے پہلے صحافیوں میں شامل تھے۔
انہوں نے اردو نیوز کو مزید بتایا کہ ابتدا میں انہیں خاندان کی جانب سے سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
شکیل چشتی کے مطابق اسی گفتگو کے بعد بزرگ باپ نے انٹرویو دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ شکیل چشتی کے مطابق وہاں میت کے والد کے علاوہ ان کے داماد، بیٹی اور اہلیہ بھی موجود تھیں۔
صحافی فراز ملک نے  بتایا کہ ’مرنے سے قبل بھی دانش والدہ سے رقم لے کر گیا تھا اور اس کے بعد دوبارہ گھر واپس نہیں آیا۔ یہ بات مجھے دانش کی والدہ نے بتائی ہے۔‘
ان دعوؤں سے متعلق اردو نیوز نے متوفی کے خاندان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم وہ ان سے براہ راست رابطہ قائم نہیں ہو سکا۔

شیئر: