Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اے ٹی ایم پر کارڈ بدل کر شہریوں کے اکاؤنٹس سے لاکھوں روپے کیسے نکالے گئے؟ گرفتار گروہ کے انکشافات

محمد حسن کو اُس شام صرف چند ہزار روپے نکالنا تھے۔ وہ اپنی اہلیہ کا اے ٹی ایم کارڈ لے کر کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع ایک بینک کے اے ٹی ایم بوتھ پر پہنچے تو اُن کے پیچھے ایک اجنبی شخص بھی اندر آگیا۔ 
جب مشین سے رقم نہیں نکلی تو اُس شخص نے ہمدردی جتاتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ پہلے اکاؤنٹ کا بیلنس چیک کر لیں۔
محمد حسن نے اس شخص کی بات پر عمل کیا، تاہم انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس دوران اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
انہیں کیا معلوم تھا کہ چند لمحوں کی یہ بات چیت انہیں بڑے نقصان سے دوچار کرنے والی ہے۔اگلی صبح انہیں معلوم ہوا کہ ان کی اہلیہ کے اکاؤنٹ سے لاکھوں روپے نکالے جا چکے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ کے دوران کوئٹہ میں متعدد شہریوں نے اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے اسی نوعیت کے فراڈ کی شکایات درج کروائی ہیں۔ کسی کا لاکھوں روپے کا نقصان ہوا، کسی کی جمع پونجی چند گھنٹوں میں غائب ہوگئی۔
واقعات کے مقامات مختلف تھے، متاثرین الگ الگ تھے لیکن واردات کا طریقہ قریباً ایک جیسا تھا۔آخر یہ افراد کون تھے؟ اور شہریوں کے اکاؤنٹس تک اُن کی رسائی کیسے ممکن ہوئی؟   
ان شکایات کے بعد پولیس نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کیں جن کے نتیجے میں کوئٹہ پولیس نے شہریوں کے ساتھ فراڈ کرنے والے گروہ کے تین ارکان کو گرفتار کرلیا۔

ملزمان صارفین کی توجہ ہٹا کر اُن کا اصل کارڈ اسی بینک کے دوسرے کارڈ سے بدل دیتے تھے (فائل فوٹو: کوئٹہ پولیس)

بلوچستان پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے مختلف بینکوں کے 45 اے ٹی ایم کارڈز، پانچ لاکھ روپے نقدی، تین موبائل فون اور ایک گاڑی برآمد ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے چیکنگ سے بچنے کے لیے گاڑی پر سرکاری محکمے اور سندھ ہائی کورٹ کے وکیل سے منسوب جعلی نمبر پلیٹیں بھی لگا رکھی تھیں۔
’ملزمان رقم لُوٹ کر سیرو تفریح کے لیے جا رہے تھے‘
گرفتار افراد میں ذوالفقار، غلام محمد اور عارف علی شامل ہیں۔ پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس حوالے سے مزید تفصیلات سے آگاہ کیا۔ 
ان کے مطابق ملزمان گرفتاری سے قبل بھی ایک شہری کے اکاؤنٹ سے پانچ لاکھ روپے سے زائد رقم نکال چکے تھے۔
’بعد ازاں فراڈ کی اس رقم سے وہ سیر و تفریح کے لیے بلوچستان کے تفریحی مقام زیارت جا رہے تھے، لیکن اس سے پہلے ہی انہیں کوئٹہ کے قریب کچلاک سے گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس افسر نے مزید بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ افراد نہ صرف کوئٹہ بلکہ کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی ایسی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔

کوئٹہ میں متعدد شہریوں نے اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے فراڈ کی شکایات درج کروائی ہیں (فائل فوٹو: کوئٹہ پولیس)

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ مبینہ طور پر اس گروہ کا سرغنہ ذوالفقار تھا جس نے دیگر دو افراد کو اپنے ساتھ تنخواہ پر رکھا ہوا تھا اور انہیں لُوٹی گئی رقم میں سے حصہ بھی دیتا تھا۔
پولیس کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ گروہ قریباً 12 سال سے اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے فراڈ میں ملوث تھا اور اس کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں 30 سے زائد تحقیقات کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے۔
تاہم اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ آخر ملزمان شہریوں کے اکاؤنٹس سے رقم نکالنے کے لیے ان کے اے ٹی ایم کارڈز اور پِن کوڈ تک کیسے پہنچتے تھے؟
ایک پولیس افسر کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر سندھ کے مختلف شہروں میں جیب کتروں سے مختلف بینکوں کے اے ٹی ایم کارڈز 500 سے 1000 روپے میں خریدتے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ملزمان کے پاس مختلف بینکوں کے درجنوں کارڈز موجود ہوتے تھے جنہیں وہ وارداتوں کے دوران استعمال کرتے تھے۔‘
’ملزمان عموماً ایسے شہریوں کو نشانہ بناتے تھے جنہیں اے ٹی ایم استعمال کرنے میں دُشواری ہوتی تھی۔ بزرگ شہری اور پنشنرز خاص طور پر ان کا ہدف ہوتے تھے۔‘

کوئٹہ پولیس نے شہریوں کے ساتھ فراڈ کرنے والے گروہ کے تین ارکان کو گرفتار کرلیا ہے (فوٹو: کوئٹہ پولیس)

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ مہینے کے آغاز میں، جب تنخواہیں اور پنشن اکاؤنٹس میں منتقل ہوتی ہیں، ملزمان مبینہ طور پر زیادہ سرگرم ہو جاتے تھے۔
پہلے پِن کوڈ دیکھا، پھر کارڈ بدلا اور اکاؤنٹ خالی کر دیا
پولیس کے مطابق اس طریقۂ واردات میں پہلے شہری کا پِن کوڈ معلوم کیا جاتا تھا۔ ملزمان پہلے شہریوں کو اے ٹی ایم استعمال کرتے ہوئے اور پِن کوڈ ڈالتے ہوئے دیکھتے اور پھر کسی بہانے اُن کی توجہ ہٹا دیتے تھے۔ 
’اسی دوران اُن کی توجہ ہٹا کر اُن کا اصل کارڈ اسی بینک کے دوسرے کارڈ سے بدل دیتے تھے۔ یہ وہی کارڈ ہوتے جو جیب کتروں سے خریدتے یا شہریوں سے دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کرتے تھے۔‘
پولیس افسر نے بتایا کہ ’چونکہ دونوں کارڈ ایک ہی بینک کے ہوتے تھے اس لیے شہری کو فوری طور پر کارڈ تبدیل ہونے کا پتا بھی نہیں چلتا تھا۔‘
’اصل کارڈ اور پِن کوڈ حاصل کرنے کے بعد ملزمان مبینہ طور پر دوسرے  اے ٹی ایم سے رقم نکالتے، دوسرے اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرتے یا کارڈ کے ذریعے خریداری کرتے تھے۔‘
’ایک اجنبی کی بات مانی، اگلی صبح اکاؤنٹ سے لاکھوں روپے غائب تھے‘
محمد حسن کے ساتھ بھی مبینہ طور پر ایسا ہی ہوا تھا۔ وہ کوئٹہ کے علاقے سریاب عارف گلی میں رہتے ہیں اور ایک سرکاری کالج میں ڈرائیور ہیں۔ 

ایک شہری کا کہنا ہے کہ فراڈ کرنے والے نے اُن کا اے ٹی ایم کارڈ تبدیل کردیا اور نہیں شبہ بھی نہیں ہوا (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)

انہوں نے اپنی اہلیہ کا اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرتے ہوئے یکم جنوری کو سریاب روڈ پر برما ہوٹل کے قریب ایک نجی بینک کے اے ٹی ایم بوتھ سے رقم نکالنے کی کوشش کی تھی۔
سریاب پولیس تھانے میں درج کی گئی ایف آئی آر کے متن کی تفصیل کے مطابق یہ واقعہ شام قریباً ساڑھے سات بجے پیش آیا تھا۔ 
محمد حسن نے بتایا کہ جب مشین سے رقم نہیں نکلی تو ان کے پیچھے موجود شخص نے انہیں بیلنس چیک کرنے کا مشورہ دیا۔ 
ان کے مطابق اس دوران اجنبی شخص نے اُن کا پِن کوڈ دیکھ لیا اور پھر اے ٹی ایم سے نکلنے والی رسید کی طرف اشارہ کر کے اُن کی توجہ ہٹا دی۔
محمد حسن کا کہنا ہے کہ اسی دوران اُن کا کارڈ بھی تبدیل کر دیا گیا۔ انہیں فوری طور پر اس لیے شبہ نہیں ہوا کیونکہ انہیں جو کارڈ دیا گیا تھا وہ بھی اسی بینک کا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ رسید سے انہیں معلوم ہوا کہ اکاؤنٹ میں رقم موجود ہے۔ اس کے بعد جب انہوں نے دوبارہ کارڈ مشین میں ڈالا تو وہ اندر پھنس گیا۔ انہیں اس وقت معلوم نہیں تھا کہ ان کے پاس موجود کارڈ تبدیل کیا جا چکا ہے۔
محمد حسن کے مطابق یہ واقعہ شام کے وقت پیش آیا تھا اور بینک بند ہو چکا تھا۔ اگلی صبح ان کی اہلیہ اپنا کارڈ وصول کرنے بینک گئیں تو عملے نے بتایا کہ مشین میں موجود کارڈ ان کا نہیں ہے۔

 ملزمان گرفتاری سے قبل بھی ایک شہری کے اکاؤنٹ سے پانچ لاکھ روپے سے زائد رقم نکال چکے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پولیس کے مطابق ملزمان جان بُوجھ کر شام اور رات کے وقت کا انتخاب کرتے تاکہ ایسی صورت میں بینک عملے سے فوری مدد نہ مل سکے۔
اس کے بعد محمد حسن کو معلوم ہوا کہ ان کی اہلیہ کے اکاؤنٹ سے ایک لاکھ 44 ہزار روپے نکالے جا چکے تھے۔
اُن کے مطابق مزید دو لاکھ روپے بھی ان کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے اور پھر رات قریباً 12 بجے کے قریب یہ رقم بھی نکال لی گئی۔
محمد حسن نے بتایا کہ بعد میں انہوں نے بینک سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی اور پولیس سے رجوع کر کے مقدمہ درج کروایا۔
محکمہ صحت کے ریٹائرڈ ملازم عبدالقیوم کاسی نے 6 اپریل کو کوئٹہ کے تھانہ سول لائنز میں رپورٹ درج کرائی کہ 4 اپریل کی رات قریباً 11 بجے جناح روڈ پر واقع ایک سرکاری بینک کی اے ٹی ایم پر اُن کے ساتھ فراڈ ہوا۔
ان کی شکایت کے مطابق ایک شخص نے انہیں بتایا کہ اے ٹی ایم مشین ٹھیک کام نہیں کر رہی اور باتوں میں اُلجھا کر اُن کا کارڈ تبدیل کر دیا گیا۔
عبدالقیوم کاسی کے مطابق گھر پہنچنے پر انہیں مختلف ٹرانزیکشنز کے ذریعے چار لاکھ 80 ہزار روپے نکالے جانے کے پیغامات موصول ہوئے۔ انہوں نے فوری طور پر بینک کی ہیلپ لائن سے رابطہ کیا اور اپنا کارڈ بلاک کروا دیا۔

’ملزمان فراڈ کے لیے عموماً بزرگ شہریوں اور خاص طور پر پنشنرز کو ہدف بناتے تھے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

مدد کے بہانے باتوں میں اُلجھایا
کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو)کے ملازم راشد علی بھی یکم ستمبر کو سریاب کے علاقے میں واقع ایک اے ٹی ایم پر مبینہ فراڈ کا نشانہ بنے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ تنخواہ کے بارے میں معلوم کرنے اے ٹی ایم گئے تھے۔ بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے پر انہیں معلوم ہوا کہ واردات میں مبینہ طور پر تین افراد شامل تھے۔
 انہوں ںے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ایک شخص اے ٹی ایم بوتھ کے اندر، دوسرا باہر اور تیسرا گاڑی میں موجود تھا۔
راشد علی کا کہنا تھا کہ بوتھ میں موجود شخص نے ان کا پِن کوڈ دیکھ لیا اور کسی بہانے ان کی توجہ ہٹا کر کارڈ تبدیل کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اُن کے جانے سے پہلے ایک دوسرا شخص (ملزم کا مبینہ ساتھی) بُوتھ میں داخل ہوا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کارڈ دکھا کر کہا کہ اسے اے ٹی ایم استعمال کرنا نہیں آتا۔
راشد علی کے مطابق وہ اس شخص کی مدد کرنے لگے اور تبدیل شدہ کارڈ دیکھے بغیر اپنی جیب میں رکھ لیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان خود کو ایک دوسرے کا ساتھی ظاہر کیے بغیر باتوں میں اُلجھاتے ہیں  تاکہ اگر کسی شہری کو دھوکہ دہی کا پتا بھی چلے تو اس کے ساتھی کو فرار کا موقع مل سکے۔

ملزمان جیب کتروں سے مختلف بینکوں کے اے ٹی ایم کارڈز 500 سے 1000 روپے میں خریدتے تھے (فائل فوٹو: پِکسابے)

راشد علی کہتے ہیں کہ قریباً 10 منٹ بعد اُن کے موبائل فون پر رقم نکلنے کا پیغام موصول ہوا، لیکن اس وقت وہ موٹرسائیکل پر سفر کر رہے تھے اور فوری طور پر پیغام نہیں دیکھ سکے۔
بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ان کے اکاؤنٹ سے قریباً ڈیڑھ لاکھ روپے نکالے جا چکے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے کارڈ کے ذریعے ایک دوسرے اے ٹی ایم سے رقم نکالی گئی جبکہ ایک شاپنگ مال میں خریداری بھی کی گئی۔
رشید علی نے بتایا کہ انہیں ایسے وقت میں لُوٹا گیا جب انہیں والدہ کے علاج اور گھریلو اخراجات کے لیے رقم کی سخت ضرورت تھی۔ 
بینک سے ٹرانزیکشنز اور اے ٹی ایم کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملزمان کی شناخت کرنے کے بعد وہ قریباً ایک ماہ تک مختلف اے ٹی ایم بوتھ پر جا کر ملزمان کو تلاش کرتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد کی تصاویر دیکھنے کے بعد انہیں شُبہ ہے کہ یہ وہی افراد ہیں جو اُن کے ساتھ فراڈ میں ملوث تھے۔
اسی طرح نادرا کے ریٹائرڈ ڈرائیور محمد بخش نے 22 ستمبر کو تھانہ قائدآباد میں مقدمہ درج کرایا۔ مقدمے کے متن کے مطابق توغی روڈ پر ایک نجی بینک کے اے ٹی ایم میں موجود شخص نے ان سے کارڈ استعمال کرنے میں مدد مانگی۔

گرفتار افراد سے اے ٹی ایم کارڈز، پانچ لاکھ روپے نقدی، تین موبائل فون اور ایک گاڑی برآمد ہوئی ہے (فوٹو: کوئٹہ پولیس)

محمد بخش کی شکایت کے مطابق اسی دوران ان کا کارڈ تبدیل کیا گیا اور پِن کوڈ بھی معلوم کر لیا گیا۔ گھر پہنچنے پر انہیں رقم نکلنے اور منتقل ہونے کے پیغامات موصول ہوئے۔ ان کے مطابق ان کے اکاؤنٹ سے مجموعی طور پر 6 لاکھ 65 ہزار روپے نکالے گئے۔
محمد بخش کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے دوران قائدآباد پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کے زیر استعمال ایک گاڑی کا سُراغ لگایا۔ 
پولیس کے مطابق ملزمان کچھ عرصے کے لیے سندھ واپس چلے گئے تھے، تاہم بعد میں گاڑی لے کر کوئٹہ پہنچے تو سیف سٹی نظام کی مدد سے اُن کی نشان دہی ہوئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
اے ٹی ایم فراڈ سے کیسے بچیں؟ بینک صارفین کے لیے ضروری احتیاطیں
ان واقعات کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ اے ٹی ایم فراڈ میں صرف کارڈ چوری ہونا ہی مسئلہ نہیں بلکہ صارف کے پِن کوڈ کو دیکھ کر کارڈ تبدیل کرنا بھی واردات کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔
کوئٹہ کے ایک نجی بینک میں کام کرنے والے عبداللہ نے بتایا کہ ایسی صورتِ حال اور فراڈ سے بچنے کے لیے بینک صارفین کو چاہیے کہ اے ٹی ایم پر پِن کوڈ درج کرتے وقت دوسرے ہاتھ سے کی پیڈ ڈھانپیں اور کسی اجنبی کو اپنا کارڈ نہ دیں۔ 

فراڈ سے بچنے کے لیے بینک صارفین اے ٹی ایم پر پِن کوڈ درج کرتے وقت دوسرے ہاتھ سے کی پیڈ ڈھانپیں (فائل فوٹو: گیٹی)

’اگر مشین کارڈ واپس نہ کرے یا رقم نکالتے وقت کوئی مسئلہ پیش آئے تو فوراً بینک کی ہیلپ لائن پر رابطہ کریں اور ضرورت پڑنے پر کارڈ بلاک کروا دیں۔ اکاؤنٹ سے رقم نکلنے یا منتقل ہونے کے پیغامات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔‘
عبداللہ کے مطابق کارڈ اور پِن کوڈ حاصل کرنے کے بعد فراڈ کرنے والے افراد صرف اے ٹی ایم سے نقد رقم نکالنے تک محدود نہیں رہتے۔ 
’فراڈ کرنے والے افراد دوسرے اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے یا آن لائن خریداری کے لیے بھی کارڈ استعمال کر سکتے ہیں تاکہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ رقم نکالی جا سکے۔‘
انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ صارفین اپنے بینک کی جانب سے دستیاب سہولتوں کے مطابق  اے ٹی ایم اور دیگر ٹرانزیکشنز کی حدود اپنی ضرورت کے مطابق مقرر کریں۔ اس طرح کسی مشکوک سرگرمی کی صورت میں ممکنہ مالی نقصان کو محدود رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے، تاہم یہ واضح ہونا ابھی باقی ہے کہ دیگر متاثرین کی شکایات میں ان کا کردار کیا تھا، کتنی وارداتوں کا تعلق اس گروہ سے ثابت ہو سکتا ہے اور متاثرین کی رقم کی واپسی کے امکانات کیا ہیں؟
اے ٹی ایم اور بینک فراڈ کے مقدمات کی تفتیش کرنے والے ایک سرکاری ادارے کے افسر نے بتایا کہ ایسی وارداتوں میں صرف ایک گروہ ملوث نہیں ہے۔
ان کے مطابق ملک بھر میں درجنوں گروہ اب بھی سرگرم ہیں جو مختلف صوبوں اور شہروں میں جا کر وارداتیں کرتے ہیں، لہٰذا شہریوں کو  بدستور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

شیئر: