Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

موثر طاقت

جمعہ30نومبر 2018ء کوسعود ی عرب سے شائع ہونے والے اخبار ’’ الریاض‘‘ کا اداریہ نذر قارئین ہے
علاقائی اور بین الاقوامی سیاسی و اقتصادی استحکام اور امن و سلامتی کی تشکیل میں سعودی عرب کی اہمیت اور حیثیت روزبروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ یہ ایسی زمینی حقیقت ہے جس سے انکار کسی کیلئے ممکن نہیں ۔سعودی عرب متوازن اور دور اندیشی والی پالیسی اپنائے ہوئے ہے ۔ سعودی عرب کے تمام فیصلے حکمت اور فراست کے آئینہ دار ہیں ۔ انہی فیصلوں کی بدولت عالمی برادری میں سعودی عرب کو بھاری اثر و رسوخ ملا ہوا ہے ۔ عالمی برادری علاقے سے متعلق فیصلوں کی بابت سعودی عرب پر بڑا انحصار کرتی ہے ۔ مملکت کو علاقے کے امن و استحکام اور خوشحالی کا بنیادی ستون مانے ہوئے ہے ۔ علاوہ ازیں سعودی عرب متوازن اقتصادی پالیسی کی بدولت عالمی اقتصاد کے استحکام میں بھی موثر طاقت کی حیثیت کا مالک ہے ۔ خاص طور پر تیل منڈی کے استحکام میں سعودی عرب کی اہمیت مسلم ہے ۔ سعودی عرب ہی تیل پیدا کرنے اور خریدنے والوں کے مفادات کا محافظ اور پاسبان ہے ۔ اسی سے متاثر ہو کر روسی صدر پوٹین نے اپنے بیان میں کہا کہ روس اور اوپیک نے جو تیل پیداوار کی بابت عہد و پیمان کی پابندی کی اس کا سہرا سعودی ولیعہد کے سر جاتا ہے ۔ پوٹین نے یہ بھی کہا کہ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ اس حوالے سے جو کامیابی ملی اس کا سہرا بڑی حد تک سعودی عرب کے سر ہی جاتا ہے ۔ 
دوسری جانب علاقے کے امن و استحکام اور ترقی کی بابت سعودی عرب موثر خارجہ پالیسی اپنائے ہوئے ہے ۔ مشرق وسطیٰ کا علاقہ اپنے تغیرات اور واقعات کے تناظر میں دنیاکا گرم ترین علاقہ بنا ہوا ہے ۔ عالمی برادری مشرق وسطیٰ کی بابت سعودی عرب کے کردار اور اس کی اہمیت سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے اس کا اعتراف یہ کہہ کر کیا کہ امریکہ کے تحفظ کیلئے سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے مضبوط تعلقات ضروری ہیں اور ہم اس کا عزم کئے ہوئے ہیں ۔
مذکورہ بالا سطور میں ہم نے جو کچھ تحریر کیا اور جتنے حوالے دئیے ان سب سے یہ بات باور ہوتی ہے کہ سعودی عرب سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے عالمی سماج میں موثر طاقت کی حیثیت رکھتا ہے اور خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے استحکام کے سلسلے میں بنیادی ستون بنا ہوا ہے۔
 

شیئر: