Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شام میں روسی و امریکی جہاز آمنے سامنے، ’پروٹوکولز کی خلاف ورزی‘

روس اور امریکہ شام میں پہلے بھی ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے ہیں (فوٹو: اے پی)
امریکہ نے روس پر الزام لگایا ہے کہ شام میں اس کے جنگی جہاز امریکی ڈرونز کے خطرناک حد تک قریب آئے اور پرواز میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان شام میں تناؤ زیادہ نئی بات نہیں کیونکہ شام میں دونوں کی جانب سے زمینی گشت کے علاوہ پروازیں بھی کی جاتی ہیں۔
شام پچھلے 12 برس سے جنگ کی حالت میں ہے جس کے باعث پانچ لاکھ کے قریب ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
 امریکہ کے فوجی حکام کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ دو گھنٹے تک جاری رہنے فضائی تعاقب میں ایک بار پھر تین ایم کیو نائن ڈرونز کو مشکلات سے دوچار کیا گیا۔
بیان کے مطابق ’روسی جہاز 18 بار خطرناک حد تک ڈرونز کے قریب سے گزرے۔‘
شام کے لیے روس کے خصوصی عہدیدار اولیگ گرینوف نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا روس اور شام کی فوج نے مل کر مشقیں شروع کی ہیں جو کہ پیر کو ختم ہوں گی۔
شام کے سرکاری میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والے بیان میں گرینوف کا مزید کہنا تھا کہ روس شام کی فضاؤں میں امریکی ڈرونز کی پروازوں پر خدشات کا شکار ہے۔
انہوں نے امریکی اقدام کو ان ’پرٹوکولز کی منظم خلاف ورزی‘ بھی قرار دیا تھا جو دونوں ممالک کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔
امریکہ کے فوجی حکام کے مطابق پہلی بار بدھ کو اس وقت روسی جہاز نے امریکی اور فرانسیسی ڈرونز کے قریب ’غیرمحفوظ اور غیر پیشہ ورانہ‘ رویے کا مظاہرہ کیا جب ایم کیو نائن ڈرونز داعش کے خلاف ایک آپریشن کر رہے تھے۔
امریکہ اور فرانس اس بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہے جو شام میں داعش کے خلاف لڑ رہا ہے جس نے ماضی میں شام کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور خلافت قائم کر لی تھی۔
2017 میں داعش کو شکست دیے جانے کے بعد بھی شدت پسند دونوں ممالک کے فوجیوں پر مہلک حملے کرتے رہے ہیں۔
روس شام کی جنگ میں ستمبر 2015 میں شامل ہوا تھا جس کے بعد سے وہ صدر بشارالاسد کی حمایت میں کام کر رہا ہے اور اس کے جہاز شام کے شمال مشرقی علاقے میں موجود شدت پسند گروہوں کے خلاف حملے کر رہے ہیں۔
جمعے کو امریکی ڈرون نے ایک موٹر سائیکل سوار کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اس کا تعلق داعش سے تھا۔

شیئر: