Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان سے عام کارکن نے جمالی خاندان کو کیسے ہرایا؟

جماعت اسلامی کے کارکن انجیینئر عبدالمجید بادینی نے انتخابات میں جمالی خاندان کو شکست دی۔
’وزیراعظم اور چار دفعہ وزارت اعلیٰ کے عہدوں پر رہنے کے باوجود طاقتور سیاسی خاندان نے 70 برسوں میں شہر کی حالت نہیں بدلی، تو میں نے انتخابات میں ان کے خلاف میدان میں اتر کر تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا۔ ایک طرف طاقتور سیاسی خاندان، اس کے حامی سردار، جاگیردار اور وڈیرے تھے اور دوسری طرف عام مزدور، دکاندار، ریڑھی بان اور ملازم طبقہ تھا جس کی حمایت سے میں نے انہیں شکست دی۔‘
یہ کہنا ہے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے کارکن انجیینئر عبدالمجید بادینی کا، جنہوں نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک صوبے کی سیاست پر چھائے ہوئے جمالی خاندان کو انتخابات میں جعفرآباد سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر شکست دی۔
اس نشست سے جمالی خاندان کے افراد دو نسلوں سے منتخب ہوتے آرہے تھے۔ اس خاندان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تقریباً ہر دور میں حکومتوں کا حصہ رہا۔ اس کے افراد وزارت عظمیٰ، چار مرتبہ وزارت اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزارتوں، ڈپٹی چیئرمین سینٹ اور سپیکر بلوچستان اسمبلی جیسے کلیدی عہدوں پر  فائز رہے ہیں۔
50 برسوں میں پہلی بار کسی متوسط طبقے کے شخص نے جمالی خاندان کو شکست دی ہے۔ اس سے پہلے 2008 میں بھی انہیں شکست ہوئی تھی مگر تب مضبوط جاگیردار کھوسہ خاندان نے انہیں ہرایا تھا۔
اس بار بھی عبدالمجید بادینی کے مقابلے میں سابق وزیراعظم اور سابق وزیراعلٰی میر ظفر اللہ خان جمالی کے بیٹے سابق صوبائی وزیر آزاد امیدوار عمر خان جمالی، ان کے بھتیجے سابق ایم پی اے عبدالرحمان جمالی کے بیٹے پیپلز پارٹی سے حسن علی جمالی اور قریبی رشتہ دار سپیکر بلوچستان اسمبلی جان جمالی کی ہمشیرہ سابق صوبائی وزیر راحت فائق جمالی مسلم لیگ ن کی جانب سے میدان میں تھیں۔
انجینیئر عبدالمجید بادینی کا جمالی خاندان سے کانٹے کا مقابلہ
عبدالمجید بادینی نے کانٹے کے مقابلے کے بعد 15 ہزار 248 ووٹ لے کر تینوں کو شکست دی اور سب کو حیران کر دیا۔ راحت فائق جمالی نے 14 ہزار 131 ووٹ لیے جبکہ عمر خان جمالی نے 9 ہزار829 ووٹ لیے۔

50 برسوں میں پہلی بار کسی متوسط طبقے کے شخص نے جمالی خاندان کو شکست دی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

عبدالمجید بادینی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’70 برسوں سے صوبے پر حکمرانی کرنے والے جمالی خاندان نے اس ضلع کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ظفراللہ جمالی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ رہے مگر اپنے شہر کی حالت نہیں بدل سکے۔‘
’ضلع کے ہیڈ کوارٹر ڈیرہ اللہ یار کی ڈیڑھ لاکھ آبادی کے لیے سیوریج کا کوئی نظام نہیں۔ گندا پانی سڑکوں پر بہتا ہے لوگوں کو صاف پانی دستیاب نہیں۔ 30 ہزار کی آبادی کے لیے صرف ایک پرائمری سکول ہے۔ شہر میں کوئی پارک نہیں۔ ہسپتال میں پیناڈول کی گولی تک نہیں ملتی۔‘
’یہ صورت حال کو دیکھ کر میں نے باپ دادا اور چچا کی طرح جمالی خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے ان کے خلاف کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا۔ 2018 کے انتخابات میں پہلی مرتبہ حصہ لیا اور صرف ایک ہزار 985 ووٹ ملے لیکن ہمت نہیں ہاری۔‘
عبدالمجید بادینی کا کہنا تھا کہ علاقے کے سارے بڑے قبیلوں کے سردار، وڈیرے اور با اثر افراد جمالی خاندان کے ساتھ تھے، کوئی ان کے خلاف کھڑا نہیں ہوتا۔ ہمیشہ ان کے خاندان کے افراد کزن وغیرہ آپس میں الیکشن لڑتے ہیں۔
’میں نے لوگوں کو سمجھایا کہ اس تباہی اور بربادی کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جنہیں آپ بار بار ووٹ دے رہے ہیں، جو موروثی سیاست کر رہے ہیں اور 75 سالوں سے یہ اقتدار میں ہیں۔ اب ان کی تیسری اور چوتھی نسل بھی اسمبلیوں تک پہنچ گئی ہے مگر شہر کی حالت نہیں بدلی۔‘
 ’انتظامی میشنری بھی مخالفین کے ساتھ تھی اور میرے ساتھ ریڑھی بان، مزدور، رکشہ ڈرائیور اور دوسرے عام لوگ تھے۔ 70 سالہ سحر ٹوٹا تو لوگوں نے جشن منایا، ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔‘
عبدالمجید بادینی نے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے وہ جعفرآباد کو سیلابوں سے محفوظ بنانے کا منصوبہ بنائیں گے اور تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دی جائے گی کیونکہ غریب طبقہ وڈیروں اور جاگیرداروں کا مقابلہ صرف تعلیم سے ہی کر سکتا ہے۔ شہر میں سیوریج سسٹم، سکول اور ہسپتال بنائیں گے۔‘

عبدالمجید بادینی نے 15 ہزار 248 ووٹ لے کر جمالی خاندان کو شکست دی۔ فوٹو: عبدالمجید بادینی فیس بک

کیمیکل انجینیئرنگ اور ٹھیکیداری سے سیاست تک
اپنے ذاتی اور خاندانی پس منظر کے بارے میں عبدالمجید بادینی نے بتایا کہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق نوشکی سے تھا جو مال مویشی چراتے تھے۔ انگریز دور میں خشک سالی آئی تو خاندان نقل مکانی کر کے جعفرآباد میں آباد ہو گیا۔
ان کے دادا اور والد ٹھیکداری کا کام کرتے تھے۔ 1997 میں یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد عبدالمجید بادینی نے باپ دادا کے کام کو آگے بڑھایا۔
عبدالمجید بادینی نے خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی ڈگری لے رکھی ہے۔ زمانہ طالب علمی میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے۔ 2016 میں جماعت اسلامی کی رکنیت لی تاہم سیاست میں عملی طور پر 2018 میں فعال ہوئے اور انتخابات میں حصہ لیا۔

جمالی خاندان اور جعفرآباد کی سیاست

سندھ سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کا جمالی خاندان بلوچستان کے مضبوط سیاسی اور جاگیردار خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ خاندان  قیام پاکستان سے لے کر اب تک سیاست میں  سرگرم ہے۔ ظفراللہ جمالی کے چچا جعفر خان جمالی قائداعظم کے قریبی ساتھی تھے۔
1977 میں ظفراللہ جمالی پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے اور اس کے بعد وہ کئی بار قومی و صوبائی اسمبلی کا حصہ رہے۔
ظفراللہ جمالی 1988 میں وزیراعلیٰ بلوچستان اور 2002 میں وزیراعظم پاکستان بنے۔ 1990 میں ان کے چچا زاد بھائی جعفر جمالی کے بیٹے تاج محمد جمالی وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کے بیٹے چنگیز جمالی وفاقی وزیر رہے۔
ان کے رشتہ دار جان محمد جمالی 1997 میں وزیراعلیٰ بلوچستان، 2008 میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، 2023 میں قائم قام گورنر بلوچستان، 2018 سے اب تک سپیکر بلوچستان اسمبلی کے عہدے پر فائز ہیں۔
ظفر اللہ جمالی کے بھائی عبدالرحمان جمالی اور بیٹے عمر جمالی بھی بلوچستان اسمبلی کے رکن اور صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔
حالیہ عام انتخابات میں بھی ان کے دو رشتہ دار فیصل جمالی اوستہ محمد کی نشست سے بلوچستان اسمبلی جبکہ ماموں زاد خان محمد خان جمالی این اے 255 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

عبدالمجید بادینی زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے۔ فوٹو: عبدالمجید بادینی فیس بک

جمالی خاندان کو گزشتہ 50 برسوں میں جعفر آباد سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر ایک بار کھوسہ قبائل کے جاگیردار خاندان سے تعلق رکھنے والے سابق سپیکر ظہور حسین کھوسہ نے 2008 میں شکست دی  تھی۔ تاہم وہ بھی دو سال بعد جعلی ڈگری کی وجہ سے عدالت سے نااہل قرار پائے اور ظفراللہ جمالی کے بھائی عبدالرحمان جمالی ضمنی انتخاب میں کامیاب ہوئے۔
جعفرآباد کے صحافی دھنی بخش مگسی کے مطابق جمالی خاندان کی شکست کے محرکات میں خراب کارکردگی کے ساتھ ساتھ خاندان کی تقسیم بھی ہے۔ ظفراللہ جمالی جب تک زندہ رہے، انہوں نے خاندان کو جوڑے رکھا تاہم ان کی وفات کے بعد خلاء پیدا ہوگیا اور خاندان مزید بکھر گیا اور ایک ہی گھر سے تین امیدوار سامنے آنے کی وجہ سے ان کی پوزیشن کمزور ہوئی۔
جعفرآباد سے تعلق رکھنے والے مصنف و تجزیہ کار عابد میر بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ’ظفراللہ جمالی اور ان کا خاندان 70 برسوں تک اقتدار کا حصہ رہا مگر حلقے کے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ لوگ ان کا متبادل ڈھونڈتے رہے جب بھی کوئی ان کے مقابل آتا یہ اس کو اپنے ساتھ ملا لیتے۔‘
عابد میر کہتے ہیں کہ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ اس بار جمالی خاندان کی سب سے مضبوط خاتون امیدوار فائق جمالی کی اہلیہ تھیں مگر وہ لوگوں کے درمیان موجود ہی نہیں تھیں۔
’وہ کسی کارنر میٹنگ اور نہ ہی جلسے میں نظر آئیں۔ وہ اس سے پہلے یہاں سے ایم پی اے رہیں۔ لوگ پچھلی کارکردگی کے بارے میں سوال کرتے تو کس سے کرتے۔ ان کی جگہ ان کے شوہر آ کر لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے رہے جبکہ دوسری طرف عبدالمجید بادینی انتخابی مہم میں پیش پیش نظر آئے۔‘
عابد میر نے بتایا کہ اس حلقے میں جماعت اسلامی کا اپنا کوئی ووٹ بینک موجود نہیں، یہ عبدالمجید بادینی کی شخصی کامیابی ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں جماعت اسلامی کی نمائندگی

عبدالمجید بادینی بلوچستان اسمبلی کی جنرل نشست پر جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی پہلی شخصیت ہیں۔ اس سے پہلے 2002 میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے جماعت اسلامی کی ثمینہ سعید خواتین کی مخصوص نشست پر بلوچستان اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔

جمالی خاندان 70 برسوں سے مختلف حکومتیں میں اقتدار کا حصہ رہا۔ فوٹو: اے ایف پی

جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالحق ہاشمی کہتے ہیں کہ ’1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں جماعت اسلامی کے سابق صوبائی امیر مولانا عبدالحق بلوچ بیک وقت قومی و صوبائی نشست پر کامیاب ہوئے تھے تاہم انہوں نے صوبائی کی بجائے قومی اسمبلی کی نشست اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عبدالمجید بادینی نے سیلاب زدگان کے لیے اپنی زمین الخدمت فاؤنڈیشن کو عطیہ کی تھی جس پر سیلاب زدگان کے لیے 200 سے زائد گھر بنا کر مفت تقسیم کیے گئے۔‘
عبدالحق ہاشمی کے مطابق عبدالمجید بادینی کی کامیابی کے پیچھے ان کی مسلسل محنت، سادگی اور عام لوگوں سے گہرا تعلق ہے۔

شیئر: