Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آئی ایم ایف سے مذاکرات اور بڑھتی مہنگائی، وزیر خزانہ کے لیے معاشی چیلینجز کیا ہیں؟

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے کو مقامی اور بین الاقوامی معاشی شعبے کا وسیع تجربہ حاصل ہے (فوٹو: وزارت خزانہ)
عام انتخابات 2024 کے نتائج کے بعد پاکستان میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں وزارت خزانہ کا اہم قلمدان محمد اورنگزیب رمدے کو سونپا گیا ہے۔
نو منتخب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے کے لیے پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات کم کرنا بڑا چیلنج ہو گا۔ آئی ایم ایف کے نئے پروگرام میں شمولیت اور ملک میں مہنگائی کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا پڑیں گے 
محمد اورنگزیب کا بطور وزیر خزانہ انتخاب
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے کو مقامی اور بین الاقوامی معاشی شعبے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ محمد اورنگزیب نے 30 اپریل 2018 کو بطور صدر اور سی ای او ایچ بی ایل بینک کو جوائن کیا اور یہ ذمہ داری وہ وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنے تک انجام دیتے رہے۔
معروف نجی بینگ ایچ بی ایل کے صدر بننے سے قبل محمد اورنگزیب ایشیا میں مقیم جے بی مورگن کے گلوبل کارپوریٹ بینک کے سی ای او تھے۔
موجودہ وزیر خزانہ ایمسٹرڈیم اور سنگاپور میں مقیم اے بی این اے ایمرو اور آر بی ایس میں دیگر سینیئر مینجمنٹ رول ادا کرنے علاوہ 30 سال سے زیادہ بین الاقوامی بینکاری کا بھی بھرپور تجربہ رکھتے ہیں۔
محمد اورنگزیب وہ واحد پاکستانی ہیں جنہیں ڈبلیو ایس جے ڈو جونز گروپ کے زیر اہتمام عالمی سی ای او کونسل کی خصوصی رکنیت میں مدعو کیا گیا تھا۔
اس کے علاہ موجودہ وزیر خزانہ پاکستان بینک ایسوسی ایشن کے چیئرمین، پاکستان بزنس کونسل کے ڈائریکٹر اور انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز پاکستان میں کونسل ممبر بھی ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے نے وارٹن سکول یونیورسٹی آف پینسلوانیا امریکا سے بی ایس اور ایم بی اے کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ محمد اورنگزیب کا بطور وزیر خزانہ کا انتخاب اُن کی قابلیت اور وسیع تجربے کی بنیاد پر ہی کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کو کن معاشی چیلینجز کا سامنا کرنا پڑے گا؟
وفاقی وزارتوں میں سے وزارت خزانہ کو ایک مشکل ترین وزارت تصور کیا جاتا ہے۔ منتخب حکومتوں کا دوبارہ حکومت میں آنا اسی وزارت کی کارگردگی پر ہی منحصر ہوتا ہے۔ اس مرتبہ بھی وزیر خزانہ کو کئی معاشی چیلینجز کا سامنا کرنا ہو گا۔
آئی ایم ایف پروگرام
پاکستان کو اپنی مالی ضرویات پورا کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کی مدد درکار ہوتی ہے اور ان اداروں میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف کا نام ہمیشہ سر فہرست ہے۔

پاکستان میں گذشتہ ڈیڑھ سے دو سال کے عرصہ میں ریکارڈ مہنگائی دیکھنے کو ملی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کا موجودہ ڈیڑھ ارب ڈالر کا آئی ایم ایف پروگرام اپریل 2024 میں اختتام پزیر ہو رہا ہے۔ موجودہ پروگرام کی تکمیل اور بیرونی فنانسنگ کے لیے نئے آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت ضروری سمجھی جا رہی ہے۔ 
ملک میں مہنگائی کو کم کرنے کے لیے اقدامات
پاکستان میں گذشتہ ڈیڑھ سے دو سال کے عرصہ میں ریکارڈ مہنگائی دیکھنے کو ملی ہے۔ ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 33 فیصد کے قریب ہے۔
بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ موجودہ وزیر خزانہ کے لیے مہنگائی کے سونامی کو بریک لگانا بھی ایک بڑا چیلنج ہو گا۔
معاشی جریدے بلوم برگ نے محمد اورنگزیب کی وزیر خزانہ تعیناتی کو خوش آئندہ قرار دیا ہے۔
محمد اورنگزیب کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی کو عالمی سطح سراہا جا رہا ہے۔ عالمی معاشی جریدے بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جے پی مورگن کے سابق بینکر محمد اورنگزیب کی پاکستانی وزیرِ خزانہ کے طور پر تعیناتی مثبت فیصلہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’آئی ایم ایف کے نئے پروگرام سے پہلے محمد اورنگزیب کی تعیناتی مثبت اقدام ہے، سرمایہ کاروں کی دلچسپی پاکستان کے نئے وزیرِ خزانہ کی تعیناتی میں تھی۔‘
آئی ایم ایف سے مذاکرات حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں: وزیر خزانہ 
نو منتخب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے نے وزارت کا حلف لینے کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کی تکمیل اور آئندہ پروگرام بھی پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے جس کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات مارچ کے وسط میں ہی شروع ہو جائیں گے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے موجودہ مالی سال 2024-25 بھی کھٹن ہو گا، لیکن ملک کو اس مشکل سے باہر نکالنے کے لیے کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں اپنا مکمل فوکس پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر کرنے پر لگاؤں گا۔اب باتوں اور دعوؤں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔‘

آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کے پروگرام میں سے پاکستان کو ابھی آخری 1.1 ارب ڈالر کی قسط ملنا باقی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کا آئی ایم کے ساتھ موجودہ مالی پروگرام کب ختم ہو رہا ہے؟
پاکستان کا عالمی مالیاتی ادارے کے جون 2023 میں سٹینڈ بائی ارینجممٹ معاہدہ طے پایا تھا جس کی مدت 12 اپریل 2024 یعنی اگلے مہینے ختم ہو رہی ہے۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر 9 ماہ کے عرصہ میں 3 ارب ڈالر کی اقساط ملنا تھیں۔ 3 ارب ڈالر کے پروگرام میں سے پاکستان کو ابھی آخری 1.1 ارب ڈالر کی قسط ملنا باقی ہے۔
آئی ایم ایف جائزہ مشن ٹیم کل پاکستان پہنچ رہی ہے 
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ قرض پروگرام کے آخری اقتصادی جائزے کے لیے آئی ایم ایف مشن 14 سے 18 مارچ تک پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔ وزارت خزانہ کے اعلی حکام کے مطابق جائزہ مزاکرات کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ کا وفد کل رات پاکستان پہنچ رہا ہے۔ آئی ایم ایف مشن اور معاشی ٹیم کے درمیان 4 دنوں تک اقتصادی جائزے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔ 
آئی ایم ایف مشن وزارت خزانہ، وزارت توانائی، ایف بی آر حکام سے مذاکرات کرے گا، جبکہ ایف بی آر، سٹیٹ بنک حکام، پلاننگ کمیشن، پٹرولیم ڈویژن سے بھی بات چیت مذاکرات کا حصہ ہوگی۔
 وزارت خزانہ حکام کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف مشن اور معاشی ٹیم کے درمیان مذاکرات کا شیڈول تیار کر لیا گیا ہے جبکہ آئی ایم ایف مشن کے ساتھ نئے قرض پروگرام کے لیے بات چیت کا آغاز بھی ہو گا۔
معاشی امور کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ موجودہ وزیر خزانہ کا سب سے بڑا چیلنج حکومتی اخراجات کم کر کے خود کفیل بننے کی رہ پر گامزن ہونا ہے۔ 
سابق وزیر خزانہ اور ماہر معاشی امور ڈاکٹر سلمان شاہ نے اردو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ’پاکستان کو اس سال بھی 20 سے 25 ارب ڈالرز کی بیرونی ادائیگیاں کرنا ہیں جو موجودہ حکومت کے لیے آسان نہ ہو گا۔ بیرونی ادائیگیوں کے لیے پاکستان کو عالمی اداروں کی مدد درکار ہو گی۔‘

قیصر بنگالی کے مطابق حکومت کو سب سے پہلے اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے (فوٹو: وزارت خزانہ)

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کے نئے جائزے کے لیے پیشگی شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔
ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق آئندہ بجٹ پر آئی ایم ایف سے مشاورت بھی وزیر خزانہ کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوگا کیونکہ آئی ایم ایف چاہے گا کہ ٹیکس وصولیوں کو بڑھایا جائے۔
سابق وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ حکومت کو اصلاحاتی ایجنڈا آگے بڑھانا ہو گا۔ قرضہ جاتی، فسکل اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے ہی دور رس معاشی اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
سینیئر معیشت دان ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اردو نیوز سے گفتگو میں بتایا ہے کہ ’پاکستان کی ہر حکومت ایک قرضہ لے کر دوسرا قرضہ اتارنے کے مشن پر کاربند رہتی ہے۔ اگر ملک کو آگے بڑھنا ہے تو یہ روش ترک کرنا ہو گی۔‘ 
انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عالمی مالیاتی ادارہ بھی ہمیں قرضہ ہی دیتا ہے مگر صرف کچھ ارب ڈالرز حاصل کر کے خوش ہو جاتے ہیں، معیشت کی بہتری کے لیے دورس اقدامات نہیں کرتے۔‘ 
قیصر بنگالی کے مطابق حکومت کو سب سے پہلے اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے۔ 20 غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرنا ہو گا اور اپنے دفاعی اخراجات بھی کم سے کم سطح پر لانا ہوں گے۔
ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اپنی گفتگو میں مزید بتایا کہ ’ملک کے نجی بینکوں سے سارا قرضہ تو حکومت اٹھا لیتی ہے۔ اگر نجی بینکوں سے قرضے لینے کے بجائے حکومت یہی پیسہ مارکیٹ میں لگائے تو صنعتیں پروان چڑھ سکتی ہیں اور ملک خوشحالی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔‘

شیئر: