اب پنکچر اور ورکشاپس کا بل اے ٹی ایم سے دینا ہو گا

تمام کاروباری مراکز 25 اگست 2020سے آن لائن ادائیگی کے پابند ہوں گے۔ فائل فوٹو
مملکت میں سعودیوں کے نام پر غیر ملکیوں کے کاروبار کے خاتمے کے لیے گاڑیوں کی ورکشاپس اور پنکچر کی دکانوں پرسروس چارجز کی ادائیگی اے ٹی ایم کارڈکے ذریعے ہوگی۔
 تمام کاروباری مراکز 25 اگست 2020 سے آن لائن ادائیگی کے پابند بنائے جا رہے ہیں۔
وزارت تجارت و سرمایہ کاری کے ترجمان عبدالرحمن الحسین نے اعلان کیا کہ سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبارکے خاتمے کے لیے ایک اور فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
’گاڑیوں کی اصلاح و مرمت کی ورکشاپس اور پنکچر کی دکانوں پر سروس چارجز اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے ہی اداکی جاسکے گی۔ اس فیصلے پر عمل درآمد 15نومبر 2019ءسے ہوگا‘۔
اخبار 24اور سبق ویب سائٹ کے مطابق سعودی حکومت مقامی شہریوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار کے مکمل خاتمے کے لیے قومی پروگرام نافذ کرا رہی ہے۔ اس کے تحت طے کیا گیا ہے کہ تمام تجارتی سرگرمیوں میں لین دین اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے ہوگا۔

 تمام کاروباری مراکز آن لائن ادائیگی کے پابند بنائے جا رہے ہیں۔۔ فائل فوٹو

وزارت کے مطابق اس حوالے سے 6مرحلوں پر مشتمل نظام الاوقات تیار کرلیا گیا۔ 25اگست 2020ءسے ہر طرح کا تجارتی لین دین اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے ہی کیاجاسکے گا۔
وزارت تجارت کے ترجمان نے ٹویٹر پر بتایا کہ یہ پابندی شیشہ، ہر چیز 2ریال (ریالین) والی دکانوں، پنکچر، ورکشاپوں،کیٹرین (کھانے تیار کرنے والے)، افغان، ایشیائی اور دیگر کھانے تیار کرنے والے ریستورانوں ، خوشبویات کی دکانوں، چائے اور قہوہ خانوں ، مصالحہ جات، محلوں، گلیوں میں قائم بقالے (جنرل اسٹور)، پٹرول اسٹیشنوں کی منی مارکیٹس، مردانہ ملبوسات فروخت کرنے والی دکانوں، تھوک میں کھلونوں کا کاروبار کرنے والی دکانوں، گفٹ شاپس اور پلاسٹک کوٹنگ کرنے والی دکانوں پر لاگو ہوگی۔

وزارت تجارت نے غیر ملکیوں کے کاروبار کے انسداد کے لیے قومی پروگرام نافذ کیا ہے۔ فائل فوٹو

سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار کے انسداد کے قومی پروگرام نے اعلان کیا کہ 18ربیع الاول 1441ھ مطابق 15نومبر 2019ءسے گاڑیو ںکی تمام ورکشاپس اور گاڑیوں کے فاضل پرزوں، پنکچرکی دکانوںپر ادائیگی اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے لازمی کردی گئی ہے۔
وزارت تجارت و سرمایہ کاری نے خبردار کیا کہ اس پابندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے نگراں ٹیمیں تعینات ہیں جو وقتاً فوقتاً تفتیشی دورے کریں گی۔ خلاف ورزی کرنے والی دکانوں اور اداروں کے مالکان کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔

ہر طرح کا تجارتی لین دین اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے ہی کیاجاسکے گا۔۔ فائل فوٹو

واضح رہے کہ سعودی عرب مقامی باشندوں کو ہر طرح کے کاروبار اپنے ہاتھ میں لینے اورغیر ملکیوں کو تجارتی سرگرمیوں سے باہر کرنے کے لیے قومی پالیسی بنائے ہوئے ہے۔اس حوالے سے وقتاً فوقتاً اقدامات کا اعلان کیا جاتا ہے۔ 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: