عرب نیوز کے مطابق بیان میں کہا گیا حملوں میں دو ٹینکر مستقل طور پر ناکارہ ہوئے جبکہ خالی ٹینکر کو تباہ کر دیا گیا۔
یہ ٹینکرز ایک شیڈو نیٹ ورک کا حصہ تھے جو ایران کی طاقتور پاسداران انقلاب اور خطے میں مسلح پراکیسز کو فنڈز فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے قبل ایران نے امریکہ پر خلیج عرب میں خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی ٹینکر پر حملے کا الزام لگایا تھا۔
امریکی فوج کے بیان میں کہا گیا ’امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک ڈسٹرائر خطے میں پیٹرولنگ کے دوران ’متعدد بلا اشتعال ایرانی حملوں‘ سے بچ گئے۔ کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔‘
امریکی فوج نے ضرورت پڑنے پر ایران کے محدود اور غیر محفوظ تیل کے بیڑے کو تباہ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔
ان حملوں سے قبل بھی امریکہ نے ایران پر حملے کیے تھے ( فوٹو: اے ایف پی)
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے ’ہم امریکی فورسز کے دفاع میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور اگر صرورت پڑی تو ایران کے محدود اور غیر محفوظ تیل بردار بیڑے کو بھی تباہ کردیں گے۔‘
ان حملوں سے قبل بھی امریکہ نے ایران پر حملے کیے تھے جبکہ اس سے قریباً ایک ماہ تک صورت حال پرسکون رہی تھی، تاہم حملوں کی اس لہر کے بعد سے ایک بار پر بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہونے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
اس جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ کی مقتدر جماعت ریپبلکن کو نومبر میں وسط مدتی انتخابات میں بھی شریک ہونا ہے اور اس صورت حال میں اس کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔