میں ایران جنگ کو جنگ نہیں سمجھتا: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
میں ایران جنگ کو جنگ نہیں سمجھتا: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
جمعہ 4 ستمبر 2026 8:37
28 فروری سے شروع ہونے والی لڑائی میں پچھلے ہفتے کے دوران شدت آئی ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کو جنگ نہیں سمجھتے حالانکہ چھ ماہ قبل اس کے شروع ہونے کے بعد سے ابھی تک جھڑپیں جاری ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نائب صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تنازع سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں جس نے ان کی حکومت کو طویل عرصے سے الجھا رکھا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس سے پوچھا گیا کہ آیا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات تک جنگ ختم ہو جائے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس کو جنگ نہیں کہوں گا، اس وقت کوئی فعال فائرنگ نہیں ہو رہی۔‘
’میں مانتا ہوں کہ کچھ مقامات پر تنازع دوبارہ بھڑکا ہے تاہم 28 فروری کے بعد بڑی جنگی کارروائیاں صرف چھ ہفتے ہی جاری رہیں۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ پوچھتے ہیں کہ یہ کب ختم ہو گا تو لگتا ہے آپ یہ پوچھ رہے ہیں کہ ایرانی بحری جہازوں پر حملے کب بند کریں گے، یہ بات آپ کو ان سے ہی پوچھنی چاہیے۔‘
رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کی وجہ سے صدر ٹرمپ کی پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں مشکلات ہو سکتی ہیں (فوٹو: روئٹرز)
ایران اور امریکہ کے درمیان کئی روز تک صورت حال پرسکون رہنے کے بعد اتوار کو ایک بار پھر جھڑپیں ہوئی تھیں جبکہ ایران ابھی تک سٹریٹیجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت سخت رکھے ہوئے ہے۔
جے ڈی وینس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس وقت تک ایران کے ساتھ مذاکرات شروع نہیں کرے گا جب تک وہ تجارتی بحری جہازوں پر حملے بند نہیں کرتا۔
ایران لڑائی شروع ہونے اور آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو صدر ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے لیے کانگریس پر کنٹرول رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے ان کی انتظامیہ نے ایسا تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل اب جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ رہی ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ’آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول عملی طور پر ختم ہو چکا ہے، تین ماہ قبل دیکھیں تو اس کے راستے تیل کی تجارت قریباً ہو چکی تھی جبکہ اب قریباً اسی سطح پر واپس آ چکی ہے جو لڑائی شروع ہونے سے قبل تھی۔‘
ایران ابھی تک سٹریٹیجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت سخت رکھے ہوئے ہے (فوٹو: اے ایف پی)
رپورٹ کے مطابق اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ کمی سے دوچار ہے، انہوں نے امریکہ کو مزید جنگوں سے دور رکھنے کا وعدہ کیا تھا تاہم ایران کے معاملے کی وجہ سے وہ مشکل صورت حال میں پھنس گئے ہیں۔
فروری کے اواخر میں شروع ہونے والی اس لڑائی کے دوران اب تک 18 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایران اور لبنان میں بھی ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے معاونین کے ساتھ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کا اعلان کر دیا جائے جبکہ پچھلے ہفتےانہوں نے ایک ایسے بینر کی تصویر بھی پوسٹ کی تھی جس پر لکھا کہ ’مشن مکمل ہو گیا ہے۔‘