Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فرانس کا سعودی عرب کے لیے فوجی تعاون ’دفاعی‘ ہے: وزیر خارجہ

یہ بیان صدر ایمانوئل میکخواں کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے (فوٹو: اے پی)
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بیرٹ نے کہا ہے کہ یمن کے ایران نواز حوثیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کو دیا جانے والا فرانسیسی فوجی تعاون ’خالصتاً دفاعی‘ نوعیت کا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انہوں نے یہ بیان اتوار کو فرانسیسی سرکاری ٹی وی چینل فرانس ٹو پر دیا۔
یہ بیان صدر ایمانوئل میکخواں کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے جمعرات کو سعودی عرب بھیجے جانے والے فرانسیسی فوجیوں، ریڈار یونٹس اور ’دفاعی نظام‘ کا ذکر کیا تھا۔
سعودی عرب کو جولائی میں برسوں کی جنگ بندی کے بعد یمن کی جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد حوثیوں کی جانب سے بار بار میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان حملوں نے سعودی تیل کی تنصیبات اور اہم یانبوع آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا۔
حوثی سعودی توانائی کی برآمدات پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اس وقت ریڈ سی کے راستے منتقل کی جا رہی ہیں کیونکہ ایران کے حملوں نے آبنائے ہرمز میں خلیجی ٹرانزٹ کو روک دیا ہے۔
جب فرانسیسی وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ کیا فرانس کی امداد کا مطلب ہے کہ پیرس سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شریک ہو گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’بالکل نہیں، یہ خالصتاً دفاعی ہے۔‘
 انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے خلاف (امریکہ-اسرائیل) جنگ کے آغاز سے ہم نے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے تحفظ کے لیے فوجی اثاثے تعینات کیے ہیں، کیا اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی وقت ہمیں جنگ میں شریک سمجھا جا سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔‘
ژاں نوئل بیرٹ نے کہا کہ سعودی عرب میں فرانسیسی تعیناتی کا پیمانہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ریاض کیا درخواست کرتا ہے، نیز ’ہماری اپنی صلاحیتیں اور حالات کس طرح سامنے آتے ہیں۔‘

 

شیئر: