Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خلیج کی سیکورٹی کو سنجیدگی سے لیا جائے، سعودی وزیر خارجہ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی دینا کے لیے اہیمت کا حامل ہے۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے سنیچر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ دنیا کو ’غیرمعمولی چیلنجز‘ کا سامنا ہے۔
انہوں نے مملکت پر ایرانی اور حوثی  کے ’صریح‘ حملوں کی سخت مذمت کی اور دنیا کو خبردار کیا کہ خلیج کی سیکورٹی کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ خطے کے ملکوں کے درمیان پائیدار تعلقات استوار کرنے کی کوئی بھی کوشش تسلط، اثرو رسوخ یا بحرانوں کے استحصال پر مبنی نہیں ہوسکتی۔
بلکہ انہیں باہمی احترام، مشترکہ مفادات، اچھی ہمسائیگی، ریاستوں کی خود مختاری کے احترام، بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کی مبنی ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اور کثیر الجہتی نظام ’تیزی سے بدلتے ہوئے اورغیرمعمولی چیلنجز‘ کا سامنا کررہے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری امن و سلامتی کے لیے تمام خطرات سے نمنٹے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھائے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی دینا کے لیے اہیمت کا حامل ہے۔ اس خطے کا استحکام گلوبل انرجی سکیورٹی، بین الاقوامی تجارت کے تسلسل اور عالمی سپلائی چینز کے استحکام سے وابستہ ہے۔
انٹرنییشل نیویگیش کا تحفظ اور عالمی سپلائی چینز کے استحکام کو برقرار رکھنا ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لیے بین الاقوامی سطح پر سنجیدہ تعاون درکار ہے تاکہ ان خطرات سے بچا جا سکے جو عالمی معیشت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
شہزادہ فیصل بن فرجان نے دنیا کی اہم آئی گزر گاہوں جن میں آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن شامل ہیں میں فریڈم آف نیویگیشن کو برقرار رکھنے پر زوردیا۔
انہو ں نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس یا ٹرانزٹ کی شرائط عائد کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق  مملتک کسی یھی فریق کی جانب سے ان اہم آئی گزر گاہوں کو دباؤ ڈالنے، دھمکانے یا ریاستوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے ایک ٹول کے طور پر استعمال کیے جانے کو مسترد کرتی ہے۔
انہو ں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کے لیے سعودی عرب کی سپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان اور قطر کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے خطے میں استحکام کی بحالی، مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے سازگار حالات پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی کے حوالے سے کیے جانے والے انتطامات کو جامع، موثر اور پائیدار ہونا چاہیے۔ ان میں خطرات اورعدم استحکام کی بنیادی وجوہ کو واضح پر حل ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک ہونا، سویلین ایٹمی پروگرام کو بین الاقوامی نگرانی  اور سیف گارڈ میکنزم کے ماتحت ہونا چاہیے۔

 

شیئر: