سعودی، ترکی اور پاکستانی مسلح افواج کے چیفس آف سٹاف نے جمعے کو ریاض میں بات چیت کی تاکہ یمن میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں مملکت کی حمایت پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
سعودی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عسکری حکام نے گزشتہ ماہ تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کے تحت اپنے عسکری و انٹیلی جنس تعاون کو مزید گہرا کرنے اور دفاعی صلاحیتوں کے باہمی انضمام کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
مزید پڑھیں
انہوں نے اجتماعی دفاع کے عزم اور سعودی عرب کی ’سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کے تحفظ کے اپنے ارادے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور مملکت کو درپیش خطرات کا بھی جائزہ لیا، اور مکہ مکرمہ اور دیگر مقامات میں سویلین اور معاشی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے بھی جمعے کے روز پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
شہزادہ خالد نے سوشل میڈیا پر لکھا ’ہم نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت چیفس آف اسٹاف کے اجلاس کے نتائج کا خیرمقدم کیا، اور مقدس شہر مکہ اور مملکت کے سویلین و معاشی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے شنیع حملوں پر تبادلہ خیال کیا۔‘
’ہم نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی مسلسل مشترکہ کوششوں کی توثیق کی۔‘

ایران کی حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں جولائی سے اضافہ ہوا ہے جس سے اپریل 2022 میں طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو گیا۔ اس گروہ نے سمندری ناکے بندی کا بھی اعلان کیا ہے اور بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں سعودی عرب سے منسلک جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے کیے ہیں۔
جمعے کو ہونے والی اپنی ملاقات کے دوران عسکری سربراہان نے شہریوں، مقیم افراد اور مملکت کی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے سعودی مسلح افواج کی خدمات کو سراہا۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جمعرات کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر اپنے پاکستانی اور ترکی ہم منصبوں، اسحاق ڈار اور ہاکان فیدان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔













