سعودی عرب میں یمنی شہریوں کے قیام کو قانونی بنانے کی کارروائی کا آغاز
اتوار 11 اکتوبر 2026 20:34
مملکت میں مقیم یمنی باشندوں کی اصلاح حال مہم دو ماہ جاری رہے گی۔( فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)
سعودی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ نے اتوار کو شاہی ہدایات کے تحت مملکت میں قانونی رہائش کے بغیر مقیم یمنی شہریووں کی حیثیت کو قانونی بنانے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا۔
ایس پی اے کے مطابق مملکت میں مقیم یمنیوں کو اپنا اسٹیٹس قانونی بنانے کے حوالے سے دی گئی مہلت دو ماہ جاری رہے گی۔
اصلاحِ حال مہم کا اطلاق چار گیٹگریز پر ہوگا۔ پہلے زمرے میں وہ یمنی شامل ہیں جن کے پاس کارآمد پاسپورٹ نہیں۔ ایسے یمنیوں کو 6 ماہ کا مفت وزٹ ویزہ جاری کیا جائےگا۔
وزٹ ویزے کے اجرا کی کارروائی کے لیے ابشر پلیٹ فارم پر پیشگی وقت حاصل کرنے کے بعد مقررہ دن متعلقہ ادارے میں اپنی شہریت (پاسپورٹ یا سفری دستاویز جو یمنی سفارتخانے سے جاری کی گئی ہو) کے ساتھ پیش ہوں۔
دوسری گیٹگری ان یمنیوں کی ہے جن کے وزٹ ویزے ایکسپائر ہوچکے ہیں اور وہ موجودہ حالات کی وجہ سے اپنے ملک نہ گئے ہوں۔
انہیں یہ رعایت دی گئی ہے کہ وہ ابشر اکاونٹ سے اپنے ویزے کی توسیع 6 ماہ کے لیے کرلیں تاہم اس کے لیے لازمی ہے کہ ان کے پاس کارآمد پاسپورٹ موجود ہو۔
تیسری کیٹگری میں ایکسپائر اقامے اور ایسے یمنی شامل ہیں جن کے ہروب لگے ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں وزارت افرادی قوت نے کہا کہ وہ یمنی شہری جن کے اقامے ایکسپائر ہیں یا ان پر ’ہروب‘ (غیرحاضری) رجسٹر ہے وہ دو ماہ کی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اقاموں کو درست کرا لیں۔
’قوی‘ اور ’مساند‘ پورٹل پر یمنی شہریوں کے لیے اصلاح حال کی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ایسے یمنی شہری جن کے اقامے ایکسپائر یا ان پر ہروب درج ہے وہ مہم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اصلاح حال کے لیے کارآمد پاسپورٹ کا ہونا ضروری ہے۔ ایکسپائر یا ہروب اسٹیٹس والے یمنیوں کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ کسی ادارے، کمپنی یا اسپانسر کے ذریعے اپنے اقامے ان کے نام منتقل کرا سکتے ہیں۔
غیرقانونی (ایکسپائراقامے والے) یمنیوں کوسپانسر شپ تبدیل کرانے کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں میں جانے کی ضرورت نہیں وہ ابشر پلیٹ فارم کے ذریعے مساند پورٹل سے کارروائی مکمل کرسکتے ہیں۔
