فرانس بھر میں سنیچر سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، مہنگی تعلیم اور سوشل سکیورٹی کے روایتی نظام کی زبوں حالی کے خلاف وسیع پیمانے پر ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ پیرس کے غریب شمالی نواحی علاقوں کے ہائی سکولوں سے ہوا تھا جہاں اساتذہ کی غیر حاضری اور سکولوں کی ناقص صورتحال پر طلبہ کا غصہ دیکھتے ہی دیکھتے عدم مساوات، عوامی اخراجات میں کمی اور سروسز کے گرتے ہوئے معیار کے خلاف ایک قومی تحریک میں بدل گیا۔
مرکزی پیرس میں پولیس کی بھاری نفری تعينات کی گئی ہے بالخصوص شانزے لیزے اور آرک ڈی ٹریومف جیسے تاریخی مقامات کے قریب جنہیں مظاہرین کے دو مقررہ سرکاری راستوں سے الگ رکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
فرانس بھر میں درجنوں شہروں کے اندر مزید سینکڑوں احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں جن میں دسیوں ہزار افراد کی شرکت کا امکان ہے۔
پیلی جیکٹیں پہنے مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دیں جبکہ مارسیے شہر میں کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا دی گئی۔
’ہم مناسب حالاتِ زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں‘
پیرس میں احتجاج میں شریک 19 سالہ لولا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’ہم اس لیے جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ زندگی گزارنے کے اخراجات برداشت سے باہر ہو چکے ہیں اور ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ہمارے سکول کے طلبہ پر صرف اس بات پر تشدد کیا جا رہا ہے کہ وہ اساتذہ کی کمی اور تعلیم کے بہتر ماحول کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

سیاسی تقسیم اور معاشی بحران
صدر ایمینوئل میکخواں اپنی صدارتی مدت کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک شدید تقسیم شدہ ووٹر بیس اور بکھرا ہوا سیاسی منظر نامہ ہے۔
ملک کے بڑھتے ہوئے قرضوں کو کم کرنے کی ان کی طویل کوششیں بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کے باعث فرانسیسی بانڈز کی قیمتیں گر گئی ہیں اور قرض لینے کی لاگت گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
فرانسیسی وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو نے جمعرات کو اعتراف کیا کہ حکام کو مظاہروں کے دوران شدید بدامنی کا خدشہ ہے۔












