احتجاج میں شرکت کے بعد بالی وڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک انڈیا چھوڑنے کا نوٹس
احتجاج میں شرکت کے بعد بالی وڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک انڈیا چھوڑنے کا نوٹس
جمعرات 15 اکتوبر 2026 13:52
عمران خان کے خلاف یہ کارروائی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کیرت سومیا کی شکایت کے بعد کی گئی۔(فوٹو:سوشل میڈیا)
بالی وڈ اداکار عمران خان کو انڈین چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج میں شرکت پر ممبئی پولیس نے 28 اکتوبر تک انڈیا چھوڑنے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پولیس حکام نے جمعرات کو بتایا کہ امریکی شہری عمران خان پر امیگریشن اور غیر ملکی شہریوں سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کا الزام ہے۔ عمران خان بالی وڈ کے معروف اداکار عامر خان کے بھانجے ہیں۔
عمران خان کے خلاف یہ کارروائی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کیرت سومیا کی شکایت کے بعد کی گئی، جنہوں نے پیر کو پولیس سے اداکار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
عمران خان نے 10 اکتوبر کو ممبئی کے آگسٹ کرانتی میدان میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کی تھی، جہاں مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق مظاہرے کے دوران اداکار کو مختصر وقت کے لیے حراست میں بھی لیا گیا تھا۔
ایک پولیس اہلکار کے مطابق مظاہرے کے دوران اداکار کو مختصر وقت کے لیے حراست میں بھی لیا گیا تھا۔
بی جے پی رہنما کیرت سومیا نے پیر کو گام دیوی پولیس سٹیشن سے رابطہ کیا جہاں غیر ملکی شہری ہونے کے باوجود احتجاج میں شرکت پر عمران خان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق اداکار کو ملک چھوڑنے کا باضابطہ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور انہیں اس کی نقل بھی موصول ہو چکی ہے۔ تاہم معاملے میں مزید انتظامی کارروائی جاری ہے۔
پولیس کے مطابق عمران خان انڈین شہری نہیں ہیں اور سیاسی احتجاج میں ان کی شرکت سے انڈیا میں مقیم غیر ملکی شہریوں پر لاگو قواعد کے تحت قانونی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے کہا، ’عمران خان غیر ملکی شہریت رکھتے ہیں اور انڈین شہری نہیں ہیں۔ غیر ملکیوں اور امیگریشن سے متعلق قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت غیر ملکی شہریوں کو انڈیا میں سیاسی احتجاج یا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔‘
ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’مجاز اتھارٹی نے قرار دیا ہے کہ عمران خان غیر ملکی شہری ہیں۔ ممبئی میں احتجاج میں شرکت کے ذریعے انہوں نے غیر ملکیوں سے متعلق قانون اور قواعد کی خلاف ورزی کی ہے، اسی لیے انہیں 28 اکتوبر تک انڈیا چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘
پولیس کے مطابق عمران خان کے معاملے میں مزید انتظامی کارروائی جاری ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
کیرت سومیا نے عمران خان کی حراست اور ملک بدری کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ احتجاج میں شرکت اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کے قواعد اور ویزا شرائط کی خلاف ورزی تھی۔
سومیا نے کہا، ’عمران خان کا گزشتہ چند دنوں سے انڈیا میں قیام انتہا پسندی اور شدت پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ انڈین شہری اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ خان ایک غیر ملکی شہری ہیں اور پولیس انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کرے گی۔‘
سومیا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے ممبئی ایئرپورٹ پر واقع غیر ملکیوں کی رجسٹریشن سے متعلق دفتر (ایف آر آر او) کے امیگریشن ڈویژن میں بھی شکایت درج کرائی ہے۔
گام دیوی پولیس نے کیرت سومیا کی درخواست ایف آر آر او کو بھیج دی، کیونکہ عمران خان کی او سی آئی حیثیت سے متعلق معاملہ مجاز اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
ایک پولیس اہلکار نے کہا، ’عمران خان غیر ملکی شہری ہیں۔ اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) سے متعلق معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک مجاز اتھارٹی موجود ہے، اسی لیے درخواست ایف آر آر او کو بھیج دی گئی ہے۔‘
او سی آئی کارڈ رکھنے والے افراد غیر ملکی شہری ہوتے ہیں، جنہیں انڈیا میں بعض سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ان میں قابل اطلاق قواعد کے تابع تاحیات اور متعدد بار انڈیا میں داخلے کے لیے ویزا جیسی سہولت شامل ہے۔ انہیں تعلیم، جائیداد اور بعض پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے متعلق مخصوص فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔
دوسری جانب پولیس کے مطابق عمران خان کے معاملے میں مزید انتظامی کارروائی جاری ہے۔