خضدار پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا یہ واقعہ خضدار سے تقریباً 35 سے 40 کلومیٹر دور علاقے نال میں بیسار پہاڑی کے قریب پیش آیا جہاں بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر سردار اسلم بزنجو اور ان کے بیٹے شاہ میر بزنجو کی ماربل فیکٹری واقع ہے۔
پولیس افسر کے مطابق سنیچر کی شام درجنوں مسلح افراد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر فیکٹری میں داخل ہوئے اور وہاں کام کرنے والے مزدوروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔
ان کے مطابق اس دوران ایک مزدور نے فرار ہونے کی کوشش کی تو مسلح افراد نے اس پر فائرنگ کر دی۔
زخمی مزدور کی شناخت راشد کے نام سے ہوئی ہے جسے ٹانگ میں گولی لگی۔ ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
پولیس افسر کے مطابق مسلح افراد فیکٹری سے دو گاڑیاں اور ایک لوڈر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
واقعہ کی ذمہ داری اب تک کسی مسلح تنظیم نے قبول نہیں کی ہے ( فوٹو: روئٹرز)
اغوا ہونے والے مزدوروں کا تعلق خضدار کے مختلف علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔
اس علاقے میں کالعدم بلوچ مسلح گروہ سرگرم ہیں اور ماضی میں بھی تعمیراتی کمپنیوں اور سڑکوں کی تعمیر پر کام کرنے والے مزدوروں کے اغوا کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
تاہم اس واقعہ کی ذمہ داری اب تک کسی مسلح تنظیم نے قبول نہیں کی۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے ایک مسافر وین سے 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا۔