Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: رخشاں ڈویژن سے مستونگ میں زیرِ تربیت 20 پولیس اہلکار اغوا

اغوا ہونے والے اہلکاروں کا تعلق رخشان ڈویژن کے اضلاع خاران، نوشکی، چاغی اور واشک سے ہے (فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک مسافر وین روک کر 20 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ اہلکار قلات کے ریکروٹ ٹریننگ سینٹر میں زیرِ تربیت تھے اور ہفتہ وار چھٹی پر اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔
بلوچستان پولیس کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اُردو نیوز کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعے کو مستونگ کی حدود میں گورگینہ کے مقام پر لإنک روڈ پر پیش آیا جو قلات اور مستونگ کو نوشکی سے ملاتی ہے۔
اُن کے مطابق قلات سے نوشکی کی جانب سفر کرنے والے یہ اہلکار ایک مسافر وین میں سوار تھے۔ 
پولیس عہدیدار کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے وین کو روکا اور اِس میں سوار ڈرائیور، اہلکاروں اور تمام سواریوں کو وین سمیت اپنے ہمراہ لے گئے۔
پولیس عہدیدار کے مطابق اِس وین میں تین عام مسافر بھی سوار تھے جنہیں بعد میں ڈرائیور سمیت چھوڑ دیا گیا تاہم پولیس اہلکاروں کو مسلح افراد نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔
اغوا ہونے والے اہلکاروں کا تعلق رخشان ڈویژن کے اضلاع خاران، نوشکی، چاغی اور واشک سے ہے۔ اُردو نیوز کو ملنے والی فہرست کے مطابق اِن میں خاران کے آٹھ، نوشکی کے پانچ، چاغی کے چار اور واشک کے تین اہلکار شامل ہیں۔
یہ اہلکار سابق لیویز اہلکار تھے اور پولیس اور لیویز فورس کے انضمام کے بعد پولیس کا حصہ بنے تھے اور قلات کے ریکروٹ ٹریننگ سینٹر میں تربیتی کورس کررہے تھے جنہیں ہفتہ وار چھٹی کے موقع پر گھروں کو جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات اور بلوچستان حکومت یا پولیس کا باضابطہ مؤقف اب تک سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز رخشان ڈویژن کے کمشنر اسداللہ کاکڑ کو بھی خاران سے ڈرائیور اور گاڑی سمیت اغوا کیا گیا ہے۔

شیئر: