بلوچستان: پنجگور کے مغوی ایڈیشنل سیشن جج اور پولیس اہلکار سوراب سے بازیاب
ہفتہ 10 اکتوبر 2026 14:39
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تین دن قبل اغوا کیے جانے والے پنجگور کے قائمقام ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی اور ان کے سکیورٹی گارڈ اے ایس آئی تاج محمد کو باحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی اور ان کے ساتھی کو سنیچر کو ضلع سوراب کے قریب گاڑی سمیت چھوڑ دیا جس کے بعد وہ بحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
اسداللہ رئیسانی اور اے ایس آئی تاج محمد بدھ کو اپنی ذاتی گاڑی میں کوئٹہ سے پنجگور جا رہے تھے کہ کوئٹہ پنجگور قومی شاہراہ پر سوراب کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغوا کر لیا تھا۔
پولیس کے مطابق جج نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے سفر کی تفصیلات انتہائی خفیہ رکھی تھیں اور اس بارے میں صرف ان کے اہلخانہ اور ایک ساتھی جج کو ہی علم تھا۔ تاہم جب وہ اپنی منزل پر نہ پہنچے اور ان کے موبائل فونز بند ہو گئے تو حکام کی جانب سے ان کی تلاش کا کام شروع کیا گیا تھا۔
کوئٹہ اور پنجگور کے درمیان قومی شاہراہ کے متعدد حصوں پر حالیہ عرصے میں مسلح گروہوں کی جانب سے ناکہ بندیوں اور اغوا کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بلوچستان میں اعلیٰ سرکاری افسران اور اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔
اس سے قبل رواں سال ستمبر میں خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کو بھی کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے دو محافظوں سمیت اغوا کیا گیا تھا، جنہیں تقریباً 10 روز بعد رہا کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح رواں سال مئی میں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کو ان کی انتظامی ٹیم اور ڈرائیور سمیت مستونگ کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا اور بعد میں ان کی بھی رہائی عمل میں آئی تھی۔
